’’ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی‘‘

’’ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی‘‘

مولانا محمد سالم قاسمی صاحب ؒ

ڈاکٹر عبید اقبال عاصم
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی تیسری پشت کے فرزند اکبر خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ جن اوصاف و کمالات کا مجموعہ تھے اُن میں بہت سی وہبی ہیں جو یقینی طور پر مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی دعاء ’’رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا‘‘ کی قبولیت کا نتیجہ اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ دعائے نیم شبی ’’رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء‘‘ کاثمرہ معلوم ہوتا ہے۔ ان سب پر مستزاد اُن کے کریمانہ اخلاق جو دشمن کو بھی اُن کا دوست بنا دے، اُن کا فطری مسکراتا چہرہ، وسیع مطالعہ، حکیمانہ گفتگو، پُراثر خطاب، وہ کسبی دولتیں ہیںجن کو پانے کے لئے انہوں نے کچھ گھریلو ماحول، کچھ بزرگوں کی صحبت، اسلاف کے فیضانِ نظر اور اکابرین کے احوال و افکار سے متاثر ہو کر اپنی ذات میں اس طرح سمولیں کہ وہ اُن کا جزوِ ذات بن گئیں تھیں۔
حضرت مولانا محمد سالم صاحب اس عالمِ آب گل میں جنوری ۱۹۲۶ء مطابق جمادی الاخریٰ ۱۳۴۴ھ میں وجود میں آئے۔ دیوبند کے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں وہ علم و فضل کے اعتبار سے چندے آفتاب و چندے ماہتاب تھا، بچپن سے ہی دینی ذوق کے حامل اس بچہ کی تعلیم و تربیت کے لئے اس دارالعلوم دیوبند کا انتخاب کیا گیا جس کی ظاہری و باطنی تعمیر و ترقی میں والد محترم قاری محمد طیب صاحبؒ نے زندگی وقف کرکے اسے ایک تحریک کی شکل دینے میںقائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ ذہانت و فطانت رگ رگ میںسرایت کئے ہوئے تھی۔ معاملات و واقعات بتانے سے نہیں، صرف مشاہدے سے سمجھنے میں بچپن سے ہی درک حاصل تھا۔ بائیس سال کی عمر میںدولتِ حفظِ قرآن کریم و تجوید نیز مروّجہ درسِ نظامی کے نصاب سے ۱۹۴۸ء مطابق ۱۳۶۷ھ فراغت حاصل کی، آپ کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر اراکینِ شوریٰ نے آپ کو دارالعلوم دیوبند کی تدریس کے لئے منتخب کرلیا،جس سے آپ ضعیفی و پیرانہ سالی کے زمانے کو چھوڑ کر تاعمر وابستہ رہے۔ ۱۹۸۲ء تک دارالعلوم کی چہار دیواری میں آپ نے قال اللہ و قال الرسول کی صدائوں کو بلند رکھا اور وہاں کے حالات کے انتشار کے نتیجے میں دارالعلوم دیوبند سے اُن کے والد بزرگوار حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کو جس طریقہ سے دارالعلوم دیوبند سے باہر کی راہ دکھائی گئی اُس کے نتیجہ میں جن بلند پایہ اساتذۂ کرام کو بے سروسامانی کے عالم میں مادرِعلمی سے رشتے منقطع کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا اُن میں استاذ محترم کا نام سرفہرست ہے۔
مولانا موصوف نے ایسے موقع پر جس صبر و ہمت اور عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا وہ تو اپنی جگہ، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ نے تخریب کا جواب دینے کے لئے تعمیری منصوبہ بنایا، قدم قدم پر مخالفتوں، مخاصمتوں، منافرتوں اور عداوتوں کے درمیان دارالعلوم دیوبند سے روحانی تعلق اور تحریک دیوبند سے حقیقی محبت کے اظہار کے لئے ایک دوسرے دارالعلوم کے قیام کا منصوبہ ہنسی کھیل نہیں تھا، جن لوگوں نے اُس وقت کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے اُن میں بیشتر لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ہم جیسے صفِ آخیر کے اُس وقت کے جوان عمر افراد جو اَب عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہورہے ہیں اُن ناپسندیدہ واقعات کے عینی شہادتیںفراہم کرنے کے لئے موجود ہیں جب معرکۂ حق و باطل سمجھے جانے والے اس مجاہدۂ کارزار میں حق پسندوں کو مغلوب، مظلوم اور معصوم حالت میں دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ 85 افراد کے اس قافلۂ امن میں کیسے کیسے متقی، ولی صفت، استقامت و عزیمت کے پہاڑ، صبر و وفا کے پیکر انسان تھے کہ جنہوں نے قاری محمد طیب صاحبؒ کو حق پر مانتے ہوئے اپنے روزگار کے مقابلے میں بے روزگاری کو ترجیح دی۔ ایسے حالات میں مردِ آہن مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے جس حوصلہ اور پامردی کے ساتھ سالارِ قافلہ کا فریضہ ادا کیا اس کی نظیر شاید و باید ہی ملے گی اور پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ بادِ مخالف کی تندی اور حالات کا پوری طرح شعوری جائزہ لے کر حالات کا رخ موڑنے کی کوشش کی اور چند سالوں میں ہی دارالعلوم کے مماثل دوسرا دارالعلوم اس قصبہ دیوبند میں پختہ و ٹھوس بنیادوں پر کھڑا کردیا جو دارالعلوم کا جزوِ ثانی کہلاتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا محمدسالم قاسمی کو اس کاروانِ عزیمت میں مولانا سید انظر شاہ صاحب، مولانا خورشید عالم صاحب، مولانا محمد نعیم صاحب، مولانا محمد اسلم صاحب رحمہم اللہ جیسے مخلص رفقائے سفر نے ہر ہر قدم پر بہت زیادہ تعاون دیا اور علمِ قیادت مولانا محمد سالم صاحب کے ہاتھ میں دے کر اپنے قول و فعل سے اس امر کا اعلان کیا کہ ادارہ سازی کا وصف اس خانوادے کے خون میں شامل ہے اور قدرت نے اس خاندان کو یہ صلاحیت ودیعت کی ہے کہ وہ اَن ہونی میں بہت سے ہونے والے کاموں کو انجام دیتے ہیں۔
کسی ادارے کی زندگی میںپینتیس سال کوئی اہمیت نہیں رکھتے لیکن دارالعلوم وقف نے محض 35 سال کی عمر میں ترقی کے جو مدارج طے کئے ہیں اور علمی ارتقاء کی جو نظیر پیش کی ہے دوسرے ادارے اس سے دوگنی عمر میں اس کے آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکے۔ بات صرف دارالعلوم دیوبند کی ہی نہیں رہی بلکہ ملت کو جب کبھی موصوف کی قیادت کی ضرورت ہوئی آپنے اس سے بھی دست کشی نہیں کی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اورآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت وہ پلیٹ فارم ہیں جہاںآپ کی صدا پر ملت نے پوری توجہ دی اور جب جس قسم کی ضرورت پیش آئی آپ نے پیش قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان سنبھالا۔
بہرحال یہ اُس قائدانہ وصف کا ایک ہلکا سا خاکہ تھا جسے سمجھنا ضروری ہے، علاوہ ازیں مولانا کے اندر جو اوصاف پائے جاتے ہیں اُس میں ہر ہر وصف پر صفحات کے صفحات رنگین کئے جاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ ایسا مسکراتا چہرہ عطا فرمایا تھا کہ جس کو دیکھ کر ہی بہت سے غم غلط ہوجاتے۔ بانوے سالہ حضرت مولانا موصوف کے چہرے پر انتقال کے وقت تک بھی جو شگفتگی، شادابی و شیفتگی پائی جاتی تھی اس کو دیکھ کر سامنے والے کو اطمینان حاصل ہوتاتھا، اس کی اصلیت پر غور کیا جائے تو اس کی بنیاد ’’اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْب‘‘ میں پائی جاتی ہے۔
مولانا نے حال و قال کی وہ ظاہری مجلسیں میرے خیال میں کبھی نہیں لگائیں جو انسانوں کی بزرگی کی شہرت و تشہیر کا مبدأ و منبع ہوتی ہیں، البتہ اُن کی اپنی ذاتی نشست و برخاست میں احکامِ الٰہی کی پابندی اُن حضرات نے ہمیشہ محسوس کی جن کا مولانا کے ساتھ سفر و حضر میں سابقہ پڑاہو۔مولانا اور اُن کے گھرانے سے راقم کا تعلق اُس وقت سے ہے جب کہ بقول شخصے ’’دودھ کے دانت ٹوٹنے‘‘ کا عمل بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ مولانا کے فرزند ارجمند برادر عزیز محمد عدنان قاسمی سے ہم درسی کے ساتھ ہم نشینی اور پھر اس سے بھی بڑھ کر ہمدمی کا تعلق الحمد للہ کم و بیش پچاس سال سے ہمہ دم ہے۔ مولانا موصوف نے ہم سب دوستوں کو عدنان میاں کی طرح عزیز رکھا۔ مولانا مرحوم کی شفقت و عنایت کے یہ معاملات کہ دوستانہ بے تکلفیوں میں کبھی عدنان میاں سے کسی خواہش کا اظہار کیا جاتا اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو اُس کے متعلق معلوم ہوجاتا تو وہ ہماری خواہش کی تکمیل بڑے خوشگوار موڈ میں کردیتے۔ ہم تمام دوست مولانا علیہ الرحمہ کو والد کے درجہ میں مانتے اور وہ ہمیں اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتے۔
حضرت مولانا استاذ محترم کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع اُس وقت میسر آیا جب دارالعلوم دیوبند کا قضیہ نامرضیہ پیش آیا۔ اُس وقت علماء کرام کا تقدّس جس طرح پامال کیا جارہا تھا اور ایک دوسرے کی مخالفتوں میں جو طوفانِ بدتمیزی کھڑا ہوا تھا اس کا تذکرہ نہایت دل خراش ہے۔ ان حالات میں مولانا محترم نے نہ صرف یہ کہ خود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنے تمام حمایتیوں کو ہمہ وقت بزرگوں کے احترام اور برداشت کی تعلیم دی۔ بہت سے مواقع ایسے آئے کہ ہم جیسے جذباتی جوانوں نے حضرت حکیم الاسلامؒ پر رکیک حملوں کا جواب دینے کے لئے کمرِ ہمت کسی لیکن مولانا نے عفو و درگذر سے کام لینے کی ایسی تلقین کی کہ سارے جوش و جذبات سرد ہوتے نظر آئے۔ بعد میں جب حالات نارمل ہوگئے اور مخالفتوں و اختلافات کا سیلاب تھما، بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا، تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں اکابرین نے مسلکِ دیوبند کی حفاظت و تحفظ کی خاطر تمام جھگڑوں و قضیوں کو دفن کرکے صلح پسندوں کی کوششیں کامیاب ہوئیں تو مولانا مرحوم کی ان دور اندشانہ تدابیر کے سربستہ راز کھلے۔ مولانا نے عفو و درگذر سے کام لینے کی تلقین ہی نہیں کی بلکہ ازخود عمل کرکے بھی دکھایا۔
یہ وقت نہ تو اُن حالات کے ذکر کرنے کا ہے اور نہ ہی اس پر کسی تبصرہ و تذکرہ کی تفصیلات کا۔ بات تھی اس وسیع الظرف انسان کی وسعتِ ظرفی کی کہ جس نے ان تمام مخالفتوں، اختلافات، نزاعات، قضایا، جھگڑوں و تشدّد کا مخصوص نشانہ بننے کے باوجود جب ۲۰۰۵ء میں ایک موقع آیا تو وسعتِ ظرفی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی اور تمام اختلافات کو نسیاً منسیاً کرکے دنیا کے سامنے اخلاص و للہیت کی ایک انوکھی مثال پیش کی۔
تمام جھگڑوں کو بہ یک قلم ایک ہی ملاقات میں ختم کردینے کا یہ واقعہ ایسا اتفاقی تھا کہ جس پر ہم جیسے بہت سے کم ظرفوں کو شرحِ صدر نہیں تھا۔کچھ وقت گذرنے کے بعد راقم نے حضرت کی خدمت میں ایک سفر کے دوران اس واقعہ پر جھگڑے کے دنوں میں پیش آمدہ واقعات کے باوجود حضرت کے اس فراخ دلانہ رویہ پر حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کیا تو تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد حضرت موصوف نے فرمایا کہ ’’عاصم میاں! کچھ کام آخرت کے لئے بھی چھوڑ دو‘‘ حقیقت یہ ہے کہ استاذِ محترم کے اس پُرمعانی جملے نے قضایا دارالعلوم کے زخموں پر مرہم کا کام کیا اوراس کے بعد ان نزاعی باتوں سے کوئی سروکار نہیں رہا اور کوشش یہ رہی کہ کسی طرح کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے اختلافات کو ہوا مل سکے۔ حضرت استاذِ محترم کے ساتھ زندگی کی جتنی بھی نشستیں میسر ہوئیں وہ سب ہمارے لئے نمونۂ عمل کا کام دیتی ہیں۔ سینکڑوں ملاقاتوںمیں ہر طریقہ کی ناصحانہ گفتگو، مشفقانہ اندازِ تربیت، دوستانہ لب و لہجہ، صغر نوازی کے جملہ اوصاف اور ان سب پر مستزاد محترم المقام کا بالقصد غیبت سے اجتناب ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے اکابرین کی ’’متاعِ گمشدہ‘‘ ہیں ، انہیں موصوف نے نہ صرف یہ کہ حفاظت سے رکھا بلکہ ان پر عمل کرکے ہمیں یہ بھی دکھلا دیا کہ ’’نئی نسل کی تعمیر کے لئے عالم دین، مرشد، مربی یا کسی رہنما میں کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔‘‘
حضرت استاذ کی شخصیت کا ایک اورنمایاں وصف زبان اور وقت دونوں کی پابندی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اجلاسِ صدسالہ میں کئی سال تک انتظامی معاملات میں مصروف رہے۔ اکثر و بیشتر علاقہ اور اس سے متصل شہروں، ملک کے مختلف صوبوں اور کبھی کبھی ملک سے باہر کے اسفار بھی پیش آئے لیکن دیوبند میں موجود رہتے ہوئے کبھی بھی آپ نے سبق پڑھانے سے عذر نہیں کیا اور ہمیشہ پورے گھنٹے پڑھائے۔ حضرت کے بارے میں طلبہ کو اتنا اعتماد اور یقین تھا کہ اگر کبھی (شاذ و نادر) گھنٹہ بجنے کے بعد پانچ منٹ تک مرحوم درسگاہ میں میںتشریف نہیں لاتے تو یہ یقین کرلیا جاتا کہ یا تو حضرت اچانک کسی سفر میں تشریف لے گئے ہیں یا خدانخواستہ علیل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے سبق پڑھانے سے قاصر ہیں، صرف پانچ منٹ کا انتظار کرنے کے بعد طلباء از خود چھٹی کرلیتے، یہ صرف درس میں ہی نہیں تھا بلکہ وقت کی پابندی آپ کے یومیہ معمولات میں شامل تھی، جس کا مشاہدہ کئی مرتبہ سفر کے دوران بھی ہوا حالاںکہ اس میں حضرت محترم کو اکثر و بیشتر اس لئے دشواری پیش آتی کہ جہاں تشریف لے جاتے وہ وقت کی پابندی کا التزام نہ کرتے۔
کئی سال قبل سہارنپور میں ایک اسکول کا پروگرام تھا، جس میں علی گڑھ سے راقم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ رات میں دیوبند پہنچا، تو معلوم ہوا کہ حضرت بھی وہاں پر مدعوہیں، میں ملنے کے لئے گیا تو ازراہِ شفقت مجھے بھی حضرت نے ساتھ چلنے کے لئے کہا اور یہ بھی تاکید فرمائی کہ وہاں پروگرام دس بجے ہے ہمیں وقتِ مقررہ پر بہرحال پہنچنا ہے۔ میں نے دبے الفاظ میں عرض کیا کہ حضرت یہ تو ہندوستانی وقت ہے، دس بجے یہاں سے چلیں گے تو بھی کام چلے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ نہیں ہمیں وقت پر پہنچنا ہے۔ چنانچہ ہم اس انداز سے چلے کہ ٹھیک دس بجے اسکول میںپہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی تو منتظمین کی اکثریت بھی جلسہ گاہ میں نہیں پہنچی، حضرت کو بہت تکلیف ہوئی۔ اس بات پر منتظمین کو فہمائش بھی کی لیکن ہمارا مزاج ہی ایسا بن گیا ہے کہ ہم وقت کی قدر کرنا جانتے ہی نہیں۔
اتفاق سے تین چار سال بعد پھر اسی شہر سہارنپور میں اسی طریقہ کا معاملہ پیش آیا جس میں حضرت کو اور مجھے دونوں کو ہی سفر میںجاناتھا۔ میں دیوبند پہنچا تو پھر حضرت کے اصرار پر آپ کی معیت میں سہارنپور جانے کا حکم بہ تاکید وقت صادر ہوا۔ میں نے گذشتہ تین چار سال قبل وقت کی پابندی کے تعلق سے درج بالا واقعہ کی یاددہانی کرائی لیکن مولاناؒ نے پھر یہی فرمایا کہ ’’وقت وقت ہے۔‘‘ چنانچہ وقت متعینہ پر سہارنپور پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی تو منتظمین کا اتہ پتہ بھی نہیں ہے۔ کم و بیش ڈیڑھ دو گھنٹہ کا وقت مولانا نے کس کرب و بے چینی کے ساتھ گذارا اس کو تحریر میں لانا مشکل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس مختصر سی تحریر میں استاذ مرحوم کے اوصاف پر تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ہے۔ بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’استاذِ محترم کی شکل میں ہم جیسوں نے اُس عہد کا مطالعہ کیا ہے جو ہمارے اسلاف و اکابرین کا خاصہ تھا۔ ایک دن قبل ہی راقم نے مولانا مرحوم کی زیارت کی تھی، سانس کی نزاکت کو بھی محسوس کیا تھا اور یہ پتہ چل چکا تھا کہ مولانا موصوف عمر کے جس حصے اور صحت کے جس مرحلے میں داخل ہیں وہاں سے واپس آنا بظاہر ممکنات میں سے نہیں، بظاہر اس وقت امیدیں دم توڑتی نظر آرہی تھیں لیکن موصوف کے سینے سے نیچے نہ اترنے والی سانس کے پورے بدن میں پھیل کر ایک چست و درست اور تندرست و توانا جسم میں تبدیل ہونے کی آس باقی تھی اور لبوں پر یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ موصوف کی عمر میں برکت اور صحت و سلامتی و تندرستی عطا فرمائے۔ اس دعاء کے ساتھ کہ ’’اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلاَم وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَان‘‘
جس وقت یہ تحریر ترتیب دی جارہی تھی وہ اس دنیائے فانی میں مولانا کی زندگی کا آخری دن تھا اور یہ خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ موصوف کو عمر طویل عطا فرمائے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ہی فون پر دیوبند سے آنے والی اطلاع نے ’’کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذِی الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَام‘‘ کی حقیقت کو بتادیا۔
(بصیرت فیچرس)