حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

عمر فراہی
ایک ایسے وقت میں جبکہ ماضی کے سوویت روس میں لینن اور اسٹالن کے کمیونسٹ نظام سیاست کو الوداع کہا جاچکا ہے،یوروپ میں فحاشی اور سود پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام اپنی کشش کھو رہا ہے اور ترکی میں طیب اردگان اور ترک عوام نے بابائے ترک مصطفیٰ کمال پاشا کی باقیات کو دفن کرکے عثمانی خلافت کی طرف لوٹ جانے کی مزاحمت شروع کردی ہے سعودی عربیہ سے جو تشویشناک خبریں آرہی ہیں کہ محمد بن سلمان اسے ماڈرن ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے لبرلزم کی راہ پر چل کر سنیما ہال اور طرح طرح کے تفریحی اداروں کے قیام کا منصوبہ بنا رہیہیں اسلام پسند مسلمانوں کیلئے خون کے ا?نسو رونے جیسا ہے۔ سعود خاندان کے حمایتیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ سب جھوٹی خبریں ہیں جو سعودی حکمرانوں کی شبیہ کو خراب کرنے کیلئے پھیلائی جارہی ہیں۔ تلبیس حق و باطل کے اس مادی اور دجالی دور میں کسی سے کچھ بھی ممکن ہے۔ موجودہ قومی اور عالمی میڈیا کیلئے تو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنا عام سی بات ہوگئی ہے لیکن اگر اسی روش پر ایمان کے متوالے اور حق کے علمبرداروں کا میڈیا بھی چل پڑے تو اس جھوٹ کے ساتھ ایک جھوٹ کو اور بھی مان لیا جائے کہ مرحوم شاہ عبداللہ زندہ ہیں! مصر میں ڈاکٹر مرسی پرامن طریقے سے حکومت کر رہے ہیں!فوجی سربراہ عبداالفتاح السیسی نے ان کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی !الجزیرہ اور اخوان جھوٹے اور مکار ہیں جو نیک اور صالح بادشاہ مرحوم شاہ عبداللہ اور السیسی پر تہمت لگا رہے ہیں !سعود مخالف میڈیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جس طرح مرحوم شاہ عبداللہ کے دور سے ہی سعودی حکومت نے کھل کر اسلام پسند اخوانی تحریک کے خلاف ڈکٹیٹر السیسی کی حمایت اور مدد کی اس بات کے اشارے صاف نظر آنے لگے تھے کہ سعودی حکمراں جزیرۃالعرب میں اسلام پسندوں کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور انہیں اسلام سے نہیں اپنے اقتدار سے محبت ہے۔افسوس اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہ خود جس وہابی تحریک کی جدوجہد سے اقتدار میں ا?ئے تھے اب اس کی مقبولیت سے بھی برات اختیار کرنا چاہتیہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحوم شاہ خالد اور شاہ فہد تک حجاز کے حکمراں اس خطے یا خاندان کی اسلامی روایت کو زندہ رکھنے کی کوشس کی اور جب بھی غیر مسلم ممالک کے حکمرانوں نے اپنی بیگمات کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کیا تو ان کی بیگمات کیلئے سر کو ڈھانکنا لازم تھا اور انہوں نے ان سے ہاتھ بھی نہیں ملایا لیکن ٹرم کے دورے کے بعد ٹرم کی بیوی نے شاہ سلمان سے ہاتھ ملایا اوربادشاہ کے سامنے اپنی زلفیں بھی لہرا کر چلی گئیں۔ خیر اسے بھی تہذیب و اقدار کے دائرے میں ہی شمار کیا جانا چاہیے ورنہ یوروپ کی تہذیب میں خاتون کو بوسہ لینا بھی معیوب نہیں ہے۔جیسا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن کی بیوی کے ساتھ آنجہانی وزیراعظم جواہر لال نہرو کی تصویریں اور سابق امریکی صدر اوبامہ کی جرمن چانسلر انجلینا اور میانمار کی آنگ سانگ سوچی کے ساتھ ایسی تصویریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ویسے لبرل جمہوری تہذیب میں جب عورت حکومتوں کی سربراہ ہوسکتی ہے تو پھر ہاتھ ملانا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ شاید محمد بن سلمان خود اپنے دور میں اس روایت کو بھی منہدم کردیں۔ جب سبھی ایسا کررہے ہیں تو کسی کو سعودی بادشاہوں پر اعتراض اٹھانے کا کوئی حق بھی نہیں ہے لیکن سعودی حکمرانوں پر اٹھنے والی تنقید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سعود خاندان نے شروع سے ہی خود کو اسلامی روایت کا پابند بنا رکھا تھا اب اس شدت پسندی کو موجودہ شاہ سلمان پسند نہیں کرتے۔ جو کچھ ہم سن رہیہیں مستقبل میں ہم کیا کیا دیکھیں گے اس سے بھی برا ہم سیکولر ممالک میں دیکھ چکیہیں اور دیکھ رہے ہیںلیکن دنیا کے ہر مسلمان کی آرزو یہی ہے کہ حجاز کا تقدس پامال نہ ہو اور ایسا برا وقت آنے سے پہلے اللہ موجودہ حکمرانوں کو سمجھ دے یا کسی صالح جماعت اور حکومت کے انقلاب سے بدل دے۔
حالانکہ کہ جزیرۃالعرب کی موجودہ تبدیلی کوئی اچانک وقوع پزیر ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔غیروں کی عیاری اور اپنوں کی سادگی کا اندازہ علامہ اقبال نیبہت پہلے ہی لگا لیا تھا اور کہا بھی کہ سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ/چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا/حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے/جوانانِ تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے/فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات/اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو۔
اقبال کے علاوہ بھی اقبال کے دور میں اور بھی اقبال تھے جنھوں نے فرانسیسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے لیبیا کے بہادر اور بزرگ مجاہد عمر مختار کی دم توڑتی ہوئی تحریک کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور انہیں امید تھی کہ شاید سعودی عربیہ میں محمد بن وہاب کی وہابی تحریک اور ان کے جانشین آل سعود احیاء اسلام کی تحریک کو دوبارہ عروج دے سکیں لیکن روڈ ٹو مکہ کے یہ مصنف اور نو مسلم اسکالر محمد اسد اس وقت مایوس ہوگئے جب ابن سعود نے امریکیوں کو تیل کے کنوئوں کی کھدائی کا ٹھیکہ دے دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ’وہابی دور کا سخت محتاط نظریہ فی الواقع اس روز ختم ہوگیا جب امریکیوں نے تجارتی مقدار میں تیل دریافت کیا 1912 سے تقریباً تیس برس تک کی پوری زندگی اور اس کی سرگرمیاں صحیح معنوں میں مذہبی قوانین کی پابند تھیں نماز کے وقت تمام کاروبار اور دارالحکومت کے دروازے آمد و رفت کیلئے بند کردیے جاتے اور پوری مرد آبادی مسجد کی راہ لیتی۔آج وہ سب تبدیل ہوچکا ہے۔عرب کی معاشرتی زندگی پر تیل کا دوہرا اثر ہوا ہے۔وہ غیر ملکوں کی سیاحت غیر ملکی لباس اور ہر قسم کے تعیشات کے خوگر ہو چکے ہیں۔سب سے بڑھ کر اساتذہ اور فنی ماہرین ہیں جو نوخیز نسل کو مغربیت میں رنگنے کیلئے اپنے قومی اثر و رسوخ سے کام لے رہے ہیں۔وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب مغربی رنگ میں رنگنے کا عمل سعودی عرب میں اسی طرح عام ہوجائے گا جس طرح اس کے پڑوسی ملکوں میں ہوچکا ہے۔یہ بات محمد اسد نے تقریباً ساٹھ سال پہلے لکھی تھی جسے اب محمد بن سلمان عملی شکل دینے جارہے ہیں۔بہت کم لوگ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ موجودہ سعود خاندان ترک حکومت میں درعیہ کے گورنر تھے۔یہ وہ دور تھا جب اسپین سیمسلم سلطنتوں کا خاتمہ ہوچکا تھا اور ہندوستان میں مغلیہ سلطنت اور ترکی میں عثمانی خلافت بھی انتشار کا شکار تھی نجد کے ایک عالم دین محمد بن عبدالوہاب نے ابن تیمیہ کے طرز پر اصلاحی تحریک کا آغاز کیا۔ہزاروں کی تعداد میں اس وقت کے عرب نوجوانوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔اپنے اس مقصدکی کامیابی کیلئے محمد بن عبدالوہاب ترک حکمرانوں سے بھی ملاقات کی۔اتفاق سے درعیہ کا حاکم محمد بن عبدالوہاب کی اس تحریک سے متاثر ہوا اور پھر ایک طویل جدوجہد کے بعد محمد بن وہاب کے مسلح کارکنوں کی مدد سے یہ لوگ حجاز کے بہت بڑے علاقے پر قابض تو ہوئے لیکن سعود خاندان جو ایک زمانے سے اقتدار کا حریص اور متلاشی تھا حجاز کے اقتدار پر مکمل غالب ا?نے کے بعد نظام حکومت کو خلافت کی بجائے ملوکیت میں تبدیل کردیا۔حالانکہ اس وقت بھی محمد بن وہاب کے جانشین علماء کی ایک کثیر تعداد موجود تھی لیکن یہ وہابی علماء کی بردباری اور فراست تھی کہ انہوں نے باغیانہ رخ اختیار کرنے کی بجائے سعود خاندان کی طرف سے ریاست میں شرعی قوانین کے نفاذ پر ہی صبرکرلیا۔جیسا کہ محمد اسد نے لکھا بھی ہے کہ شروع کے تیس سالوں میں ریاست میں شرعی قوانین کا دبدبہ بھی رہا اور کسی نہ کسی حد تک ا?ج بھی ہے لیکن اب ا?ئندہ کے منظرنامے کی کوئی پیشن گوئی کرنا بھی اس لیے مشکل ہے کیوں کہ پچھلے سو سالوں میں سعودی حکمرانوں نے وہابی علماء کے زور یا ان کی تحریک کا تقریباً خاتمہ کردیا ہے۔وہ چال چل رہے ہیں اللہ بھی چال چل رہا ہے اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔سعودی عربیہ سے سعود خاندان نے وہابی تحریک کا خاتمہ ضرور کردیا ہے لیکن بقول نو مسلم خاتون اسکالر مریم جمیلہ ’اگرچہ وہابی تحریک خالص سیاسی معنی میں جزیرہ نمائے عرب تک محدود تھی تاہم روحانی طور سے اس کے قوی اثرات عالم اسلام کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اپنی رو میں بہا لے گئے۔اس تحریک کی قابل رو مثال سے سنوسی تحریک الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کو حرکت ملی۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ بلکہ اس کی بقا کا دارومدار محمد بن عبدالوہاب ایسے مجددین کی روحانی اولاد پر ہے ‘۔(یو این این)