بہار کے بہادرو ں کوسلام….

بہار کے بہادرو ں کوسلام….

مکرمی!
و ا ہ رے واہ بہار کے سپوتوں تم نے ثا بت کردیا کہ تم امیر کی اطاعت کس طرح سے کرتے ہو، بڑے قابل مبارک باد ی کے مستحق ہو،بہارکے باشندوں جس محنت سے تم نے اس پر وگرام کو سجایا اورجیسے خواب اس اجلاس کے بارے میں تم نے دیکھے تھے پروردگار عالم نے اسکو اس سے بھی زیادہ کامیاب کیا، جسکے لئے تم نے رات دن محنتیں کی، دل نہ چاہتے ہوئے بھی اس کیلئے انتھک کوششیں کی ،دین بچا ؤ ،دیش بچا ؤ تحریک میں جہاں مردوں نے حصہ لیاوہیں عورتیں بھی پیچھے نہیں رہیں ،بلکہ پچاس ہزار خواتین پردے کے ساتھ گاندھی میدان میں آئیں اور نہ جانے کتنی لاکھ ماں اور بہنوں نے روزہ رکھ کر اس کی کامیابی کے لیے دعا ئیںکی، باشندگان بہار اڑیسہ وجھارکھنڈاورملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے تمام فرزندان تو حید خدا وحدہ لاشریک نے تم کو دنیامیں بھی اسکا صلہ دیا اورآخرت میں بھی اس کا صلہ دے گا، لوگوں نے دیکھاکہ اس چلچلاتی دھوپ میں بڑے بڑے ایم ایل اے اور ایم پی اس سسکتی دھوپ کا مزہ لے رہے تھے، جنکو اے سی کے بغیر ایک منٹ بھی رہنا مشکل ہے ،کیونکہ یہ صرف دین اور دیش کے لیے تھا،جسطریقے سے کوئی بھی شخص گنگا اورجمنا کو الگ نہیں کرسکتا اسی طرح سے اس ملک کے ہندو اور مسلمان کو کوئی الگ نہیں کرسکتا ،یہاں پر بلا تفریق مذہب و ملت لوگ جمع ہو ئے اور سبھی دل میں یہی جزبہ لیکر آئے تھے کہ ہمیں دین بھی بچانا ھے اوردیش بھی۔ آج مسلمانوں کے اس جم غفیر نے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق سے پھیلا ہے ،کردار سے پھیلا ہے، اسلام دہشت گردی کا مذہب نہیں ہے بلکہ امن اورسلامتی کا مذہب ہے ،آج گاندھی میدان عرفات کی یاد دلا رہاتھاآپنے دیکھا کہ اتنے لوگ صبح سے بغیر کھائے پیئے سخت دھوپ کے اندر موجود تھے ۔جب کہیں ایمان شریعت یا ملک وملت کے بچا نے کاتذکرہ آتا تھا تو اسلام کے جیالے بآواز بلند نعرئے تکبیر لگاتے تھے اور زبان حال سے یہ کہ رہے تھے کہہ ہم کو مردہ سمجھنے کوشش نہ کرنا ،ہم ایک زندہ جاوید قوم ہیں،ہم یہاں مظلوم کی آواز بنکر کھڑے ہیں ،ہمیں حساب دو کہ تم نے آٹھ سالہ بچی آصفہ کے ساتھ کیوں درندگی کی ،آج بتاؤ کہ اخلاق کو گائے کے نام پر کیوں مارا ،ہم تممیں پوچھنا چاہتے ہیں کہ افزول کا اس بے دردی کے ساتھ قتل کیوں کیا ،ہم تم سے سوال کرتے ہیں کہ اس ستتر سالہ ماں کے بالوں کو پکڑ کرتم نے سڑک پر کیوں گھسیٹا ،جسکے بیٹے کانام نجیب تھا،آسن سول میں پندرہ سالہ حافظ قرآن بچے کو کس جرم میں مارا گیا،ہمارے دلت بھائیوں کو سھارنپورکے کے اندر بے رحمی کے ساتھ کیوں جلاڈالا، تم کوہماری شریعت میں دخل اندازی کرنے کا کس نے مشورہ دیا ،اے حکومت ہند ہم تم سے ان ساری باتوں کاجواب ماںنگتے ہیں ،اگرتمہا رے اندر ہمت ہے تو…. ان باتوں کا جواب دو…. جب اس ملک کوخوں کی ضرورت پڑی…. سب سے پہلے ہی گردن ھماری کٹی…. اب یہ کہتے ہیں ہم سے یہ اہل چمن…. یہ چمن ہے ھماراتھمارانہیں۔
شاعراسلام نصرت الباری
خادم دارالعلوم زکریا حرمپور بائیسی ضیلع پورنیہ بھار