کمسن بچیوں کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے 

کمسن بچیوں کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے 

عبدالرحمن صدیقی(ممبئی اردو نیوز)
ملک کے طول وعرض سے بالخصوص ان ریاستوں سے جہاں بی جے پی کی حکمرانی ہے کمسن بچیوں کے ساتھ درندگی کی انسانیت کو شرمسار کرنے والی وارداتوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ایک کے بعد ایک یہ وارداتیں پیش آرہی ہیں۔ درندگی کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ دسمبر ۲۰۱۲ میں دارالحکومت دہلی میں ایک لڑکی کے ساتھ چلتی بس میں پہلے ریپ اور پھر قتل کی واردات نے پورے ملک کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا او راس وقت کی مرکزی حکومت نے جسٹس ورما کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی تھی اور اس کی سفارش پر انتہائی سخت قانون بنایا گیا تھا دہلی کے نربھیا گینگ ریپ کی طرح ممبئی کی شکتی مل میں بھی اسی طرح گینگ ریپ ہوا تھا تمام مجرمین پکڑے گئے انہیں سزا بھی سنائی جاچکی ہے لیکن خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا بدتمیزی کے ساتھ اجتماعی زنا بالجبر کی وارداتیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زنا بالجبر کی وارداتوں میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ اب پولس میں رپورٹ زیادہ ہونے لگی ہے جو معاملات پہلے دبادئیے جاتے تھے اب انکی رپورٹنگ باقاعدہ سے ہونے لگی ہے پرنٹ او رالیکٹرانک میڈیا بھی اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے۔
اس دوران دوواقعات پورے ملک کے عوام کے ذہن ودماغ پر پوری طرح چھائے ہوئے ہیں انائو میں ایک نوعمر لڑکی کی عصمت دری کا کیس دوسرا جموں میں آصفہ نامی ایک بچی کی عصمت دری اور قتل کا کیس اور دونوں ہی جگہ بی جے پی کی نہ صرف حکومت ہے بلکہ بی جے پی عصمت دری کے مرتکبین کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے انائو بی جے پی کے ممبر اسمبلی کے خلاف کارروائی میں یوگی حکومت نے حد درجہ تاخیر کردی۔ اور یوگی کی اس حرکت نے نہ صرف یوگی بلکہ مودی کو بھی کٹہرے میں لاکر کھڑا کردیا ہے جموں میں آصفہ نامی بچی کی عصمت دری اور قتل کے مجرمین کو بچانے میں بی جے پی کے دو وزرا پیش پیش ہیں اگرچہ ان وزرا نے استعفیٰ دے دئیے ہیں مگر بی جے پی اس وقت بھی ان کی سربراہی کررہی ہے ۔ جموں وکشمیر میں بی جے پی پی ڈی پی کی مخلوط حکومت ہے اور دونوں پا رٹیوں کا یہ گٹھ بندھن خطرے میں پڑگیا ہے۔
بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان کسی طرح کی نظریاتی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی پی ڈی پی نیشنل کانگریس کو اقتدار میں نہیں آنے دیناچاہتی تھی او ربی جے پی کانگریس کو اقتدار سے دور رکھناچاہتی تھی اپنی سیاسی مجبوری کی وجہ سے دونوں پارٹیوں نے آپس میں ہاتھ ملالیا لیکن یہ گٹھ بندھن بہت سی مشکلات کا شکار ہے اور دیکھنا ہوگا کہ ۲۰۲۰ کے جموں کشمیر اسمبلی چنائو تک یہ گٹھ بندھن چلتا ہے کہ نہیں۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی آصفہ کے مجرموں کو سزا دیناچاہتی ہے تو دوسری طرف بی جے پی اپنے قصور وار لیڈروں کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اس معاملہ کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ انسانیت سوز واردات کو فرقہ واریت کی عینک لگا کر دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ساتھ ہی دوسری طرف اطمینان کی بات یہ ہے کہ واردات کرنے والوں نےجب دریدہ دہنی اور بے شرمی کا مظاہرہ کیا تو خاتون وکیل نے دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آصفہ کا کیس لڑتے رہنے کا اعلان کیا ہے۔
آصفہ کو درندوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ انائو میں متاثرہ لڑکی کے باپ کو جان سے ماردیاگیا اس ملک کی رائے عامہ جس طرح سے غم وغصہ کا مظاہرہ کررہی ہے اس کی وجہ سے آثار پیدا ہورہے ہیں کہ اس معاملہ میں انصاف ہوجائے گا ادھر سننے میںآیا ہے کہ حکومت بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکبین کے خلاف بنائے گئے قانون پوکسو میں ترمیم پر غور کررہی ہے تاکہ ان کو موت کی سزا دی جاسکے۔
ملک کے طول وعرض سے جس طرح نابالغ بچیوں کے ساتھ زنا بالجبر کی خبریں تسلسل اور تواتر کے ساتھ آرہی ہیں ان کا موثر طریقہ سے سدباب کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کمسن بچیوںکے ساتھ زنا بالجبر کے مجرمین کو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے فوراً بعد موت کی سزا دی جائے اگر ان درندوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیاجائے اگر ایسا ہوا تو شاید دوسرے مجرمین کو عبرت حاصل ہو اور وہ اس طرح کے کسی جرم کا ارتکاب کرنے سے پہلے انجام کو سوچ لیں ۔ قانون کو سخت بنانے کے ساتھ سرکاری مشنری کو بھی متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مجرمین کو قانون کے گھیرے سے بھاگنے کا موقع نہ مل سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایاجائے کہ مجرمین کو سیاسی سرپرستی اور پشت پناہی حاصل نہ ہو جیسا کہ کٹھوعہ اور انائو سانحہ میں ہوا۔
(بصیرت فیچرس)