ملک کی سالمیت کے لیے سیکولر اتحاد ضروری

ملک کی سالمیت کے لیے سیکولر اتحاد ضروری

نازش ہما قاسمی(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت میڈیا گروپ)
مسلمانوں نے آزادی ہند سے پہلے تو بے شمار قربانیاں دی ہی ہیں؛ لیکن آزادی کے بعد سے اب تک مسلسل قربانیاں دیتے آرہے ہیں اور طرح طرح کی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ جہاں بھی فسادات ہوئے ان کی ہی املاک کو تباہ وبرباد کیاگیا، نسل کشی کی گئی خواہ وہ گجرات فساد رہا ہو یا مظفر نگر فساد، ہاشم پورہ معاملہ رہا ہو یا بھاگلپور فساد، ہر جگہ انہیں آزمائشوں سے گزرنا پڑا، پھر بھی صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیشہ ملک کے مفادات کی خاطر سمجھوتہ کیا، کبھی آپے سے باہر نہیں آئے؛ لیکن ہر جگہ یہی نشانے پر رہے۔ بم دھماکہ مسجد میں ہوا تب بھی مسلمان پکڑے گئے، مندر میں ہوا تب بھی مسلمان نشانے پر رہے، قبرستان میں ہوا تب بھی انہیں پابند سلاسل کیاگیا اور ٹرین میں ہوا تب بھی انہیں دھر دبوچا گیا۔بابری مسجد کی شہادت کا انہیں زخم ملا۔ آج ملک کے مسلمان بابری مسجد کے تعلق سے عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی ہم اسے قبول کریں گے خواہ ہمارے حق میں آئے یا خلاف؛ لیکن اس کے برخلاف دوسرا فریق روز اشتعال انگیزی کی حدیں پار کررہا ہے کہہ رہا ہے اگر عدالت ہمارے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو ہم بلیدانی دستہ تیار کریں گے جو رام مندر کی تعمیر میں ہمارا معاون ہوگا یعنی کھلے عام ملک کی عدالت کو چیلنج کیاجارہا ہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ دو اگر نہیں دے سکتے تو ہم اس فیصلے کو نہیں مانیں گے؟ اس پر کوئی ہنگامہ نہیں کوئی شور شرابہ نہیں ، یہ اشتعال انگیزی نہیں ہے؟ یہ عدالت کی توہین نہیں ہے؟ وہ اس لیے نہیں کہ یہ برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ، اگر اس طرح کا بیان کوئی مسلمان دیا ہوتا تو وہ اب تک جیلوں کی سلاخوں میں ہوتا ؟ غدار وطن اور توہین عدالت کا مجرم قرار دیاجاتا۔
گزشتہ تین چار سالوں میں ملک کے مسلمانوں اور دلتوں پر آزمائشوں کا ایک نیاباب کھلا ہے۔ گئو رکشکوں کا شکار یہی دو کمیونٹی ہوئی۔ لوجہاد کا شوشہ چھوڑا گیا، اس کے تحت ہنگامہ برپا کیاگیا؛ لیکن اس میں انہیں کوئی خاص کامیابی نہیں اور وہ مسلم لڑکیوں کو اپنی بہوئیں بنانے کا خواب دیکھتے رہ گئے۔ ٹاپر ٹینا اور ہادیہ اکھیلا سے انہیں ناامیدی ہوئی؛ لیکن گئو رکشک کی آڑ میں انہوں نے طوفان مچایا اور اس کی آڑ میں بے قصور نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارتے چلے گئے اور ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ان دنوں ملک میں عصمت دری (زنا بالجبر ) کا بازار گرم ہے۔ جہاں ایک خاص کمیونٹی کی لڑکیاں نشانے پر ہیں خاص کمیونٹی وہی جو پچھڑے طبقات سے تعلق رکھتی ہیں۔ کٹھوعہ سانحہ ہو یا انائو معاملہ یا پھر ایٹا کا معاملہ ہر جگہ ان خاص کمیونٹی کی لڑکیاں نشانے پر رہیں اور اس کے پیچھے ملک میں برسراقتدار جماعت کے افراد کا ہاتھ شامل رہا۔ کٹھوعہ سانحہ میں ترنگا لہرا کر بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگاتے ہوئے لوگ ملزمین کی حمایت میں اترے اور انائو معاملے میں بھی بی جے پی کے ممبر اسمبلی کی حمایت میں لوگ ریلی نکال رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ملک کس دوراہے پر جارہا ہے اورملک کی حالت کیا ہوچکی ہے؟ حالانکہ مرکزی حکومت نے زانیوں پر شکنجہ کسنے کے لیے پوسکو ایکٹ میں ترمیم کرکے سزائے موت پر مہر ثبت کردی ہے پھر بھی عصمت دری ملک میں تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر دہلی کے نربھیا واقعے سے ہی کچھ سبق لے لیاجاتا تو شاید ملک کی بیٹیاں آج اس حالت کو نہیں پہنچتیں ۔ پے درپے ملک میں ہورہی عصمت دری کی وارداتوں نے پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب کردی ہے اور اس شبیہ کے خراب کرنے میں مزید کالک برسراقتدار جماعت سے منسلک افراد نے پوت دی جنہوں نے کہاکہ عصمت دری ہماری سنسکرتی کا حصہ ہے، جنہوں نے کہاکہ عصمت دری کے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں اس پر واویلا مچانے کی کیا ضرورت؟ وغیرہ وغیرہ۔ افسوس اس پر ہے کہ اس طرح کے بیانات خواتین کی زبان سے بھی نکلے ہیں جو کہ خود ایک ماں ہیں، بیٹی ہیں۔ کیا اگر اس طرح کے حادثات ان کی بیٹیوں کے ساتھ رونما ہوئے ہوتے، جب بھی وہ اس “سنسکرتی،، کو قبول کرتیں ؟ نہیں اور ہرگز قبول نہیں کرتیں… وہ صرف اس لیے اس طرح کا بیان دے رہی ہیں کہ متاثرین ایک خاص کمیونٹی اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خیر عصمت دری کے تعلق سے مرکزی حکومت کا جو قانون آیا ہے وہ خوش آئند ہے، بس شرط یہ ہے کہ جلد اس کا نفاذ ہوجائے تا کہ زانیوں کو کچھ سبق ملے اور روتے بلکتے عصمت لٹا چکی دوشیزائوں کو انصاف مہیا کرایا جاسکے ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں براجمان ہے، ملک کی اکثرریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے اور یہ سب سانحے ان ہی ریاستوں میں ہورہے ہیں ۔ اس پر روک تھام اور لگام لگانے کےلیے بی جے پی مکمل طور پر ناکام ہے۔ عوام کا اعتماد کھوچکی ہے۔ عوام مسلسل جبر سے پریشان ہیں ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار جھیلنے کے بعد اب اے ٹی ایم سے پیسہ غائب ہے اور چوکیدار باہر ممالک کے سفر پر ہیں ایسے حالت میں عوام کیا کرے؟ کوئی پرسان حال نہیں۔ اتنا تو طے ہوچکا ہے کہ بی جے پی دوسرے ٹرم میں مشکل سے آئے گی یا ای وی ایم کی مہربانی کی بدولت ہی آپائے گی عوام کے ووٹ کی بدولت ہرگز نہیں آسکتی؛ کیوں کہ پے درپے عصمت دری کے واقعات کے بعد عوامی رجحان تبدیل ہوچکا ہے ، ہندو ، مسلم سکھ ، عیسائی سبھی متحد ہوکر مرکزی حکومت کے خلاف سینہ سپر ہوچکے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اور یہ خوش آئند بات ہے کہ نفرت کی سیاست کرنے والی پارٹی اپنے انجام کو پہنچے گی؛ لیکن عرض یہ کرنا ہے کہ اتحاد کو قائم رکھتے ہوئے ، نفرت وتعصب کو ہواد ینے والی جماعتوں سے دوری بنائے رکھیں اور لوک سبھا انتخاب میں سیکولر پارٹیو ں کو ووٹ دے کر ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں۔ اس سے قبل ایک تحریک یہ بھی چلائیں کہ ای وی ایم سے ووٹ نہ کیا جائے کیو ںکہ ملک کی اکثرریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے دوران ای وی ایم میں گڑبڑی کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں اس پر کارروائی ضروری ہے، ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کرائی جائے، اگر عوام اتحاد کے ساتھ اس کے خلاف آواز اُٹھائیں گے تو ممکن ہے کہ ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیا جائے۔ اگر تسلیم کرلیاجاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر رائے عامہ کے مخالف ہونے کے باوجود بھی بی جے پی کامیاب ہوسکتی ہے ۔ یہاں بی جے پی کے کامیاب ہونے سے مسلمانوں کو ڈرانا نہیں ہے؟ کہ وہ کامیاب ہوجائے گی تو شریعت میں مداخلت کرے گی،مسلمانوں کا جینا دوبھر کردے گی۔ بلکہ یہ سب تو ہوگا ہی؛ لیکن ملک جس دوراہے پر کھڑا ہے وہاں بی جے پی کی نفرت کی سیاست نہیں بلکہ سیکولر جماعتوں کی محبت کی ضرورت ہے، انکے اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی جیتے گی تو یقینا وہ مسلم دشمنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اس کا اندازہ ان چار سالوں میں ہوچکا ہے پے درپے بم بلاسٹ کے اقبالیہ مجرمین رہا ہوتے چلے گئے اور مسلمان جرم نہ کرنے کے باوجود جیلوں میں ٹھونس دئے گئے اور جو بچ گئے وہ انکائونٹر میں مارے جارہے ہیں؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہزاروں برسوں سے دبی کچلی قوم جو اب بیدار ہوچکی ہے۔ اس کو ساتھ لے کر ملک کی حفاظت کے لیے اپنے دین کی حفاظت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں اور ملک کو نفرت سے بچا لیں، ملک کو ایک بار پھر تقسیم کا زخم دینے سے بچا لیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے دور رکھ کر ا پنی مائوں، بہنوں،بیٹیوں کی عصمت کی حفاظت کا سامان پیدا کریں اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے بھر پور کوشش کریں۔۔!
(بصیرت فیچرس)