جناح کی تصویر برداشت کرنے میں کیا قباحت؟

جناح کی تصویر برداشت کرنے میں کیا قباحت؟

شکیل رشید
سرپرست ایڈیٹربصیرت آن لائن
سونے کی چڑیا کو کس نے لوٹا؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ملک کا ہر باشعور شخص بلا دماغ پر زور دئیے دے سکتا ہے: انگریزوں نے۔ پر اس ملک کا عجیب معاملہ ہے جس انگریز نے اسے لوٹا، برباد کیا اور ہندوستان کو سو سال سے بھی زائد عرصے تک غلام بنائے رکھا، راجے مہاراجے، نوابوں اور سلطانوں کو اور ان کےساتھ ہی بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار ا ان کی تصویروں کے آویزاں اور ان کے مجسموں کے نصب ہونے اور اہم سڑکوں اور عمارتوں کے ان کے ناموں پر نام ہونے پر کسی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔ اور وہ مغل جنہوں نے ہندوستان آکر ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنانے میں اپنا خون لگایا اور یہاں کی دولت یہیں رہنے دی، نہ ایران لے گئے، نہ عراق اور نہ ہی افغانستان، یہیں مرے، یہیں ان کی نسلیں پروان چڑھیں اور یہیں کی مٹی میں مل گئے، ان کے ناموں پر اگر کسی سڑک کا نام رکھ دیاگیا یا کوئی عمارت ان سے منسوب کردی گئی تو ایسا ہنگامہ ، ایسا ہنگامہ کہ الامان والحفیظ!
آپ ملک میں کہیں بھی چلے جائیں، انگریزوں کے نام پر کوئی نہ کوئی عمارت، جگہ یا سڑک مل ہی جائے گی۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ چلیے کوئی بات نہیں انگریز جب حاکم تھے تب انہوں نے سونے کی چڑیا کو لوٹا آج وہ حاکم نہیں ہیں بلکہ ایک آزاد جمہوری دنیا کے آزاد شہری ہیں اس لیے ان کے ساتھ ’دوستی‘ رکھنا آج کی جدید دنیا کا تقاضہ ہے۔ بالکل درست ہے۔ آج ساری دنیا میں جمہوریت ہی طرز حیات ہے لہذا تمام ممالک ایک دوسرےے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب یہ دیکھ لیں کہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی برسہا برس کی دشمنی ختم ہوچکی ہے۔ پر جواب میں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حاکم تو مسلمان حکمراں بھی تھے، انہو ںنےتو کوئی لوٹ پاٹ نہیں کی، پھر ان سے کیوں دشمنی اور نفرت! شاید اس لیے کہ اس ملک میں ایک خاص نظریہ رکھنے والا ٹولہ جسے ’زعفرانی ٹولہ‘ کہاجاتا ہے آج بھی یہ برداشت نہیں کرپارہا ہے کہ اس ملک پر مغل اور دوسرے مسلمان خاندان کبھی راج کیا کرتے تھے۔ اسے انگریز برداشت، ڈچ برداشت، فرانسیسی برداشت، ان کی لوٹ پاٹ برداشت مگر مسلم حکمرانوں کا نہ ملک کو اپنا اثاثہ سونپنا۔۔۔لال قلعہ، تاج محل، قطب مینار وغیرہ وغیرہ ۔۔۔برداشت اور نہ ہی یہاں کی مٹی میں مرکر مل جانا برداشت۔ یہ تعصب کی انتہائی شدید ترین شکل ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معاملے میں بھی یہی نظریہ کام کررہا ہے۔ محمد علی جناح صرف اس لیے ناقابل برداشت نہیں کہ وہ بانی پاکستان ہیں بلکہ وہ اس لیے ناقابل برداشت ہیں کہ انہیں ’دشمن ‘ سمجھا جاتا ہے۔ آج کی جدید دنیا کے جدید تقاضوں کے تحت برطانیہ سے ہالینڈ اور فرانس سے جو کبھی ہندوستان پر قابض تھے ’دوستی‘ تو کی جاسکتی ہے لیکن جناح کے ملک کو صرف اس لیے برداشت نہیں کیاجاسکتا کہ وہ ہندوستان سے علاحدہ ہونے والا ایک مسلم ملک ہے لہذا ’دشمن‘ ملک ہے۔ یہ نظریہ اب بدلنا ہوگا۔ آج کی دنیا میں تمام ہی ممالک کو ایک دوسرے کا ساتھی بننے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کو بھی ایک دوسرے کا ساتھی بننے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کا ’دشمن‘ بننے کی نہیں۔ جب دونوں ہی ملک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ’جنگی مشق‘ کرسکتے ہیں تو پھر جناح کی تصویر برداشت کرنے میں کیا قباحت ہے؟ یہ یاد رکھیں کہ اب دنیا نفرت سے نہیں محبت سے چلنے والی ہے، نفرت کے دن لد گئے، زیادہ نفرت پھیلانے و الے مٹ جاتے ہیں، تاریخ اس کا ثبوت ہے۔
(بصیرت فیچرس)