خود نشانہ چلا ہے تیر کے پاس ، یا نشانے کو تیر کھینچتا ہے

خود نشانہ چلا ہے تیر کے پاس ، یا نشانے کو تیر کھینچتا ہے

مکرمی !
کچھ سوالات ذہن میں گردش کر رہے ہیں، آخر مسلم معاشرہ کس سمت میں جارہا ہے؟ ہم آزادی کے بعد سے ابتک سچے رہنما و رہبر کی تلاش میں ہیں، ہم نے ہر سیاسی پارٹی کو آزمایا پر مسلمانوں کا ہمدرد کوئی نہیں ملا، ہر کسی نے ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور اقتدار میں آنے کے بعد ہاتھ دکھا کر چل دیا،لیکن ہم اب بھی ہوش میں آنے کیلئے تیار نہیں ۔نہ ہمارے پاس کچھ قوم کے دردمند افراد کے سوا کوئی مضبوط سیاسی جماعت ہیں نا کوئی رہبر، ہمیں ہر وقت کوئی نہ کوئی ووٹ بینک کے طور پر استعمال کر کے آگے کو چل دیتا ہے، آزادی کے بعد سے مسلمانوں کی حالت دن بہ دن بدتر ہوتی جارہی ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمان دلتوں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ہم صرف سیاسی اعتبار سے ہی کمزور نہیں ہیں ہر طرح سے پچھڑے ہوئے ہیں۔تعلیمی میدان ہو ،تجارتی میدان ہو، یا حکومتی ادارے ہوں، ہر جگہ پستی نظر آتی ہے، کیا وجہ ہے اسکی؟ اسے مفکر حضرات بہتر جانتے ہیں۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مسلمان پر سکون زندگی گزار رہے تھے تو کیا تب مسلمانوں کی حالت بہتر تھی؟ کیا انہیں تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دیا گیا تھا؟ نہیں بالکل نہیں، کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کے اندر میٹھے زہر کا کام کیا، سلو پؤیزن کا کام کیا، انکی حالت تب بھی بدتر تھی، کیونکہ سچر کمیٹی کی رپورٹ تو کانگریس کے دور میں ہی پیش کی گئی تھی۔ اور جب بی جے پی ۲۰۱۴ میں اقتدار میں آئی تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلے عام نفرت پھیلانے کا کام کیا ۔ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا اور سسٹم میں موجود سنگھیوں کے ذریعے یہ کام کیا گیا، مسلمانوں کے مذہبی لیٹریچر کا جتنا ان لوگوں نے گہرائی سے مطالعہ کیا اتنا ہندوستان کے عام مسلمانوں نے نہیں کیا ہوگا جو اسلام دشمن تنظیمیں کام کر رہی ہیں یہ کوئی آج کل سے نہیں کر رہی ہیں، یہ آزادی سے قبل کی تنظیمیں ہیں جو آج سنگھ کے نام سے مشہور ہے۔ ان لوگوں نے اسلام کے ان نازک پہلوؤں کو اچھالنے اور اسکے ذریعے اسلامی شریعت کو بدنام کرنے کیلئے بہت ہی منظم طریقے سے ریسرچ کر کے اسکو ایشو بناکر پیش کیا اور آج بھی کر رہے ہیں۔ ان کا منصوبہ کوئی ایک مہینہ یا کچھ سال کا نہیں ہے ان کی کئی پیڑھی ان کی ہندو راشٹر کے میشن کو لیکر آج بھی سر گرداں ہے ، لیکن ہم مسلمان ہیں کہ اب تک مسلک کے نام پر اتنی دشمنی دلوں میں لیکر بیٹھے ہیں کہ شریعت کی حفاظت کیلے بھی ایک پلیٹ فارم پر آنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہر مسلک صرف اپنے مسلک کی تبلیغ میں لگا ہوا ہے اور اپنے مسلک کو صحیح ثابت کرنے پر اڑا ہوا ہے ، امت کے ان حالات پر درد دل بیان کرنے سے قاصر ہوں، دشمنانِ اسلام آج متحد ہوچکے ہیں چاہے وہ کسی بھی ملک میں رہتے ہوں، لیکن ایک مسلمان ہیں جو متحد ہونے کیلئے تیار نہیں ، میں کہتا ہوں ہر جماعت کی مسجد میں کافی تعداد میں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں، اسمیں کوئی اللہ کا مقرب ہوتا ہے کوئی دین کی باتوں سے کورا ہوتا ہے جو صرف امام کو دیکھ کر حرکات و سکنات کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی عبادت بھی قبول کر لیتا ہے اور ہم ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں کہ فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ؟تو کیا وہ مخلص لوگ جنہیں مسلک اور جماعتوں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تو کیا وہ لوگوں کی نمازیں اللہ ضایع کر دیگا نہیں، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ممبر رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ذمے داری ہی کیوں دیتا کہ جس کے پیچھے نماز نہ ہوتی ہو۔
آج جس طرح سے مسلمانوں کو مسائل میں الجھائے رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور ان سنگھیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم ملک کی بہتری کیلئے کچھ کرنے کی کوشش کریں، آج ملک فسادیوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک کی امیج کو خراب کر رہے ہیں، ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ، ہمارے آبا و اجداد نے اس ملک کیلئے اپنی جانیں قربان کی ،سلاخوں کے پیچھے گئے، تختہ دار پر چڑھ گۓ، پر ملک کا سودا نہیں کیا، آزادی کے ۷۰ سالوں بعد بھی آج مسلمانوں کی حالت زار ہیں ملت کے مفاد پرست رہنماؤں نے ملت کا سودا کیا اور قوم کو تنزلی کی عمیق گہرائیوں میں دھکیل دیا، مسلم مخالف تنظیمیں برسوں سے مسلسل کام کر رہی ہیں، لیکن مسلمانوں کے پاس آج بھی کوئی متحد ہ پلٹ فارم موجود نہیں جو قوم کی ترقی کیلئے مسلمانوں کی بد حالی کو دور کرنے کیلے منصوبہ بند طریقے پر کام کررہا ہو، سب اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ، ظلم، افلاس ، مذہبی فرقہ واریت،غربت، تعلمی پسماندگی بڑھتی جا رہی ہے، آج جس طرح سے سنگھی منصوبہ بند طریقے سے کام کررہے ہیں اسی طرح مسلمان کو چاہے اور قوم کے دردمند افراد کو چاہے کے وہ ۲۵ ،۳۰ سالوں کے اپر ایک منصوبہ تیار کرے تعلیمی پالیسی،سیاسی حکمت عملی، تجارتی پالیسی،اور شریعت کے دفاع کیلے پالسی اور اسکے اقدامات تیار کرے، اور ان لوگوں کو جو مسلمانوں کے اور اسلام کے دشمن ہیں انھیں انہی کے طریقے پر جواب دے ۔ اور اسی پالسی کے تحت ایک ٹارگیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرتے رہے، تاکہ ہر فیلڈ میں ہماری نوجوان ہو چاہے وہ پولس محکمہ ہو چاہے سرکاری دفاتر ہو چاہے پرایویٹ سیکڑ ہو ہمارے نوجوان حکومت کے حر شعبہ میں موجود ہو، تبھی ایک انقلاب برپا ہوگا کیونکہ انقلاب کوئی ایک دن میں نہیں آجاتا، قربانیوں سے وجود میں آتا ہیں مسلسل جد وجہد سے وجود میں آتا ہیں۔
ذوالقرنین احمد
(مہاراشٹر۔انڈیا)