ببلوخان کے قاتلوں اور قتل کی سازش کرنے والوں کو جلد گرفتاری کی گذارش

ببلوخان کے قاتلوں اور قتل کی سازش کرنے والوں کو جلد گرفتاری کی گذارش

مکرمی !
اعظم گڑھ کے موضع سیدھا سلطان پورمیں گزشتہ ۱۹ مارچ کو ہوئے دن دہاڑے قتل کی واردات کوہوئے پچاس سے زائد کا وقت گذرجانے کے بعد بھی ایک بھی ملزمان کی گرفتاری نہ ہونا افسوسناک ہے ۔مقتول کی بیوہ جوہی بانونے اپنے شوہر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور انصاف کی مانگ کیلئے مختلف سیاسی ،سماجی تنظیموں اورانصاف پسند عوام سے مدد مانگی ہے ۔جوہی بانوکہتی ہیںکہ ۱۹مارچ کی صبح میرے شوہر ابوالقیس عرف ببلوخان گھر میں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ انہیںخالد ولد مبین نے آواز دے کر باہر بلایااور جب وہ باہر نکلے تو پہلے سے گھات لگائے خالدسمیت تین بدمعاشوں نے ان پر دھار دار ہتھیار سے حملہ کردیا ، جب تک ببلوخان اپنا دفع کرتے خالد ولد مبین اور مقتول کے دوسگے بھائی برکات ولد ہادی ، لقمان ولد ہادی اور ایک نامعلوم نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔میں نے محلے میں گھوم گھوم کر لوگوں سے مدد مانگی ، لیکن لوگوں نے مدد کرنے کے بجائے اپنے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر لیں۔ان کا کہنا ہیکہ میں جب اپنے شوہر کو بچانے گئی تو میرے اوپر بھی چاقواور لاٹھیوں سے حملہ کیاگیااور مجھے بری طرح ماراپیٹاگیا۔ میںجان بچاکر باہر بھاگی توقاتلوں نے میری بیٹی کو بھی چاقو لیکر دوڑایا ۔مقتول کی بیوی نے شبلی کالج کے استاد علائوالدین کے بھائی احمداﷲ پر اپنے شوہر کے قتل کیلئے بدمعاشوں کو پانچ لاکھ کی سپاری دینے کا سنگین الزام لگایا ہے ۔ سیدسلطان پور کے ایک شخص نے بتایا کہ قتل والی واردات کے دن سے عزیزاﷲعرف پپوپراسرار طریقے سے فرار ہے ۔جوہی بانو نے بتایاکہ علائوالدین، احمد اﷲاور پپوسے مقتول کا ایک عرصہ سے تنازعہ چل رہاتھا۔مقتول ابھی جلد ہی اقدام قتل (۳۰۷)کے مقدمہ سے بری ہوئے تھے ۔ابھی کچھ دنوں پہلے مقتول کو عزیزاﷲعرف پپواور ندیم نے پستول اور رائفل لیکر ببلوخان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی ۔یہ بھی بتایا جا رہاہیکہ پپو آئے دن ببلوخان کو جا ن سے مارنے کی دھمکی دیتاتھا۔گائوں کے ہی ایک شخص نے بتایا کہ ببلوخان مرحوم کی گائوں کے کچھ لوگوں سے بڑی اچھی دوستی تھی لیکن افسوس آج وہ لوگ بھی ببلوںخان کی مظلوم فیملی کے ساتھ نہیں ہیں ۔آج کوئی بھی اس مظلوم فیملی کے ساتھ نہیں ہے ۔اب لوگوں کے ضمیر ، احساس اور زندہ دلی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔سوال یہ بھی ہیکہ خاموش رہنے والے لوگوں کے ساتھ بھی اس طرح کا حادثہ ہوتا توکیا تب بھی لوگ خاموش رہتے ؟ہم نظام آباد پولس اوراعظم گڑھ پولس سے گذارش کرتے ہیں کہ ملزمین کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے ۔
اعظم شیخ
ایکونہ گھاٹ،پوسٹ رحیم آباد، محمدآباد،گہنہ