آرمی چیف کا بیان اور کشمیر

آرمی چیف کا بیان اور کشمیر

مکرمی !
وطن عزیز کی سب سے زیادہ حساس اور سیاسی اتھل پتھل کی شکارریاست کشمیر ان دنوں ایک بار سرخیوں میں ہے ۔وجہ آرمی چیف جنرل بپن راوت کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا ہیکہ کشمیری نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہیکہ انہیں ’آزادی کبھی نہیں ملے گی اور وہ فوج سے نہیں لڑ سکتے ۔ انڈین ایکسپریس کو دئے انٹر ویومیںجنرل راوت نے کہا ہیکہ جو لوگ نوجوانوں کو بتاتے ہیںکہ ایسا کر کے انہیں آزادی مل جائے گی وہ انہیں بہکار رہے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ میںکشمیری نوجوانوں کوبتاتا چاہتا ہوں کہ انہیں جو آزادی چاہئے وہ ممکن نہیں ہے ۔ایسانہیں ہو گا ، اسے بے وجہ مت کھینچئے ۔ہمیں یاد ہے گزشتہ دنوں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گزشتہ روز کشمیر میں صوبائی پولس افسران کے ذریعہ منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے پرشاعرانہ انداز میں کہاتھا’کوئی شکوہ ہو تو شکایت کریں ‘ وزیر داخلہ کے بیان کے بعد کشمیری عوام کے ذہنوں میں یہ بات ضرور گردش کر رہی ہوگی کہ شاید حکومت ان کے مسائل پر کوئی توجہ دے ۔ لیکن خاکسار کا وزیر موصوف سے سوال ہیکہ اگر کشمیری عوام اپنے دکھ درد آپ سے شیئر کریں گے تو کیا آپ ان کے دکھ درد کو دور کرنے کیلئے کوئی عملی اقدام کریںگے ؟ حریت اور علیحدگی پسند لیڈرسید علی گیلانی نے کچھ دنو ں پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ 27برس کے عرصہ میںکشمیر میں تقریباًایک لاکھ سے زائد انسانوں کو موت کی وادیوں میںپہنچایا جا چکاہے اور لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں فرضی گرفتاریوں کے ذریعے محروسین کو جسمانی اور ذہنی تکلیف دی گئی ہے ۔علیحدگی پسندلیڈرمسٹر گیلانی کی مانیں تو خطے میں اب تک 10 ہزار افراد حراست کے بعدلاپتہ کر دئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ سید علی گیلانی نے کشمیر میں خواتین کی عصمت دری اور دست درازی کا بھی الزام عائد کیا ہے ۔اگر مسٹر گیلانی کی بات پر اعتبار کیا جائے تو وادی میں اب تک ساڑھے سات ہزار خواتین کو اجتماعی عصمت دری اور دست درازی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔جنوبی کشمیر کے تحصیل لنگیٹ کا ایک سر سبز اور حد درجہ خوبصورت مقام ریشی واری ہے ۔پورا علاقہ قدرتی خوبصورتی سے لبریز ہے جگہ جگہ خوشبودار پھولوں سے اس علاقے میں جانے والوں پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے ۔پہاڑی نالوں اور جنگلوں کی وجہ سے پورا علاقہ ایک ایسا نقشہ پیش کرتا ہے جو اب صرف کہانیوں ،افسانوں اور فلموں مٰیں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتا ہے ۔جنوبی کشمیر کا ریشی واری میں جس حیرت انگیز چیز کی بات ہو رہی تھی وہ یہ کہ ریشی واری کے سبھی گھروں کی دوسری منزل پر فوجی اہلکار وں کا سخت پہرہ رہتا ہے اور گھروں کی پہلی منزل پر گھر کے افراد خوف و ہراس میں زندگی کے دن گذار رہے ہیں۔
ذاکر حسین
سیدھا سلطان پور، اعظم گڑھ