جعلی مجاہد آزادی !

جعلی مجاہد آزادی !

شکیل رشید
ایڈیٹرممبئی اردونیوز؍ سرپرست ایڈیٹربصیرت آن لائن
یہ ویر ساورکر کون تھے؟
اگر نام نہاد قوم پرستوں کی بات مانی جائے تو یہ بہت بڑے محب وطن تھے، ملک کی آزادی کے ایک رہنما تھے۔ ہمیں نام نہاد قوم پرستوں۔۔۔۔ جنہیں زعفرانی، یرقانی، بھگوا ٹولہ بھی کہاجاتا ہے۔۔۔۔ کے دعوے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ جس قدر ان عناصر کی قوم پرستی کھوکھلی ہے اسی قدر ان کے دعوے بھی کھوکھلے ہیں۔ سچ صرف اور صرف یہ ہے کہ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کا ملک کی آزادی کی تحریک میں نہ کوئی حصہ تھا اور نہ ہی کسی بھگوا لیڈر کو مجاہد آزادی کا لقب دیاجاسکتا ہے۔ ویر ساورکر یہ سچ ہے کہ انگریزوں کی قید میں رہے لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ انہوں نے انگریزوں سے معافی کی درخواستیں کیں اور انگریزوں نے انہیں قید سے بری کردیا۔ تحریک آزادی میں لاتعداد ہندوستانی شامل تھے، ان پر انگریزوں نے لاٹھی چارج کیا ، ان کے سروں کو دار پر چڑھایا، انہیں جیل کی تاریکیوں میں ڈالا مگر انہوں نے انگریزوں کو معافی کی درخواستیں بھیجیں او رنہ ہی انگریزوں کی خوشامد کی بلکہ زنداں کی تاریکیوں نے ان کے حوصلوں کو مزید تقویت بخشی اور یہ اور شدومد کے ساتھ آزادی کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ مہاتما گاندھی اورپنڈت جواہر لال نہر و سے لے کر مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسرت موہانی تک جتنے بھی قائدین جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے وہ جیل سے باہر نکلے تو آزادی کے نعرے ہی لگا رہے تھے۔ کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس نے ویر ساورکر کی طرح انگریزوں کو معافی کی درخواستیں بھیجی ہوں۔
آج ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی شہید آزاد ی بھگت سنگھ کا نام جہاں موقع ملتا ہے لے لیتے ہیں، وہ بھگت سنگھ اور راج گرو وغیرہ کے رشتے سنگھ سے جوڑنے سے بھی نہیںچوکتے۔ پر یہ وہ شہیدان آزادی تھے جن کا سنگھ سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف جو بھی کارروائی کی اسے قبول کیا اور ہنستے ہنستے پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔ آزادی کی تاریخ پر نظر ڈال لیں کوئی بھی سنگھی لیڈر آزادی کے نعرے لگانے کے ’جرم‘ میں پھانسی پر جھولتا ہوا نظر نہیں آئے گا۔ اسی لیے آج تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی لیے ہر وہ نام جو آزادی کی تحریک میں پیش پیش تھا، تاریخ کی کتابوں سے حذف کرنے اور ان ناموں کی جگہ ایسے ناموں کا اندراج کرنے کی کوششیں جاری ہیں جو ’جعلی مجاہدین آزادی‘ تھے۔ جیسے کہ ویر ساورکر ۔
ساور کر نے ۱۴؍نومبر ۱۹۱۳ کو ایک ’مرسی پٹیشن‘ (معافی کا مکتوب) بھیجا تھا جس میں انہوں نے تحریر کیا کہ وہ ایک ’بگڑے ہوئے بیٹے ‘کی طرح تھے اور اب ’سرکاری سرپرستی‘ میں آناچاہتے ہیں۔ انہو ںنے اس سے قبل بھی ایک ’مرسی پٹیشن‘ بھیجا تھا ۔ ساورکر نے ایسے کئی مکتوب بھیجے تھے۔ تو یہ وہ ساورکر ہیں جنہیں مجاہد آزادی کہا جاتا ہے۔ جن کا نام ملک کے سب سے بڑے مجاہد آزادی باپو مہاتما گاندھی کے قتل کی سازش میں لیاگیا تھا۔ جنہوں نے ’ہندوستان چھوڑو تحریک ‘ کی مخالفت کی تھی،جنہوں نے ایک سیکولر اور جمہوری ملک کی جگہ ’ہندو راشٹر‘ کا نظریہ پیش کیاتھا۔ جن کا یہ ماننا ہے کہ عیسائی، مسلمان اور یہودی چونکہ ہندوستان سے باہر اپنی جڑیں رکھتے ہیں اس لیے وہ ہندوستانی نہیں ہیں۔ جنہوں نے محمد علی جناح سے قبل ’دو قومی نظریہ‘ پیش کیا تھا۔ جو دشمنوں کی عورتوں کے ریپ کو جائز تصور کرتے تھے۔ آج یہ مجاہد آزادی بنے ہوئے ہیں، انہیں قوم پرست مانا جاتا ہے، اور ان کی تصویر پارلیمنٹ میں آویزاں ہے۔ کیا ایک ایسے شخص کی تصویر پارلیمنٹ میں آویزاں ہونی چاہئے جس پر باپو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام تھا؟
(بصیرت فیچرس)