میانمار میں مسلح باغی گروپوں کے حملے میں ۴؍ فوجی جوان سمیت ۱۹؍ افراد ہلاک

میانمار میں مسلح باغی گروپوں کے حملے میں ۴؍ فوجی جوان سمیت ۱۹؍ افراد ہلاک
ميتكينا ۱۲؍مئی (یو این آئی)  میانمار کے شمالی صوبہ شان میں آج صبح مسلح باغی گروپ کے حملے میں سلامتی دستہ کے چار جوان سمیت کم از کم19 لوگوں کی موت ہو گئی۔ تانگ اور پلانگ باغی گروپوں کے جنگجوؤں پر مشتمل تانگ نیشنل لبریشن آرمی ( ٹی این ایل اے) نے بتایا کہ گروپ نے سرحدی شہر ميوس کے ایک میخانے (ریسٹورینٹ) اور فوجی چوکی پر حملہ کیا۔ یہ سرحدی شہر صوبہ شان اور چین کے صوبہ یوننان کو الگ کرنے والی ندی سے سینکڑوں میٹر کے فاصلے پرہے۔ اس حملے میں مارے گئے لوگوں میں سکیورٹی فورس کے چار جوان بھی شامل ہیں۔چین کی سرحد سے متصل شمالی میانمار کے خطے میں گزشتہ ایک ماہ سے پر تشدد حملوں کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے، جہاں نسلی باغی گروپوں کے جنگجو علاقے میں اقلیتوں کے لئے وسیع تر خودمختاری کے لئے بسا اوقات سکیورٹی فورس کے ساتھ جھڑپوں اور حکومت مخالف مہم میں برسرپیکار ہیں۔یہ علاقہ میانمار حکومت کے لئے انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسی علاقے سے میانمار کی بیشتر بیرونی تجارتی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔ جس کے پیش نظر تازہ حملے میانمار کی جمہوری لیڈر آنگ سان سوکی کے لئے بہت بڑا جھٹکا ہوسکتا ہے۔میانمار حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ صبح تقریبا پانچ بجے تقریبا 100 مسلح جنگجوؤں نے اچانک دھاوا بول دیا۔ مسلح پولس اور حکومت کی حمایت یافتہ نیم فوجی دستوں نے ان کا منہ توڑ جواب دیا۔انہوں نے پولس سے موصولہ معلومات کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں دو خواتین سمیت 15 عام شہری مارے گئے اور 20 دیگر زخمی ہو گئے۔ اس دوران ایک پولس افسر اور نیم فوجی دستے کے تین نوجوان بھی مارے گئے۔ ترجمان نے بتایا کہ حملے کے بعد حملہ آور بھاگ کھڑے ہوئے اور میانمار کی فوج ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نسلی تحریک نہیں بلکہ دہشت گرد انہ حملہ تھا۔ ميوس انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ کم از کم 20 لوگوں کو سنگین حالات میں اسپتال میں لایا گیا ہے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔