امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے خلاف عظیم الشان ملین مارچ

امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے خلاف عظیم الشان ملین مارچ

شہداء کی تعداد 43 ہوگئی، 2300 زخمی،غزہ میں اسپتال زخمیوں سے بھر گئے، مصر سے مدد کی اپیل
غزہ :14؍مئی( مرکز اطلاعات فلسطین)
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر غزہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 43 فلسطینیوں کو گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔شہید ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ حکام کے مطابق ان مظاہروں میں 2300 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب چھ ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں لیکن امریکا کا سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے جانے کے بعد ان میں شدت آئی ہے۔فلسطینی سفارتخانے کی منتقلی کو پورے بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی امریکی حمایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فلسطینی اس شہر کے مشرقی حصے پر اپنا حق جتاتے ہیں۔مظاہروں کے دوران فلسطینیوں نے ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے جبکہ فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 35 ہزار فلسطینی حفاظتی باڑ ساتھ ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں شریک ہیں اور اس کے فوجی ضابطۂ کار کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے قبل اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے یہ دونوں سینیئر مشیر امریکی سفارتخانے کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کریں گے جبکہ صدر ٹرمپ بذات خود وہاں نہیں ہوں گے۔امریکی سفارتخانے کا افتتاح ریاست اسرائیل کے قیام کے 70ویں سالگرہ کے موقعے پر رکھا گیا ہے۔اسرائيل بیت المقدس  کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اسے اپنی مستقبل ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے اس مسئلے پر دہائیوں سے جاری امریکی غیرجانب داری میں فرق آیا ہے اور وہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت سے علیحدہ ہو گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ سفارتخانے کی منتقلی جشن کا موقع ہے اور دوسرے ممالک اس کی پیروی کریں۔انھوں نے کہا ’میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کرنے میں امریکا کے ساتھ آئيں۔ یہ درست عمل ہے کیونکہ اس سے امن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔‘فلسطنینی صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے فیصلے کو ‘صدی کا تھپڑ’ قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں ایک چھوٹے اور عبوری سفارتخانے کا پیر کو افتتاح ہو رہا ہے جبکہ پورے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ بعد میں تلاش کی جائے گی۔یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ اس پروگرام کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے جبکہ ایوانکا ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کے ساتھ امریکی وزیر خزانہ سٹیون مانوشن اور نائب وزیر خارجہ جان سولیوان وہاں موجود ہوں گے۔یورپی یونین نے سفارتخانے کی منتقلی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے جبکہ زیادہ تر یورپی یونین کے سفیر اس کا بائیکاٹ کریں گے تاہم ہنگری، رومانیہ، اور چیک ریپبلک جیسے ممالک کے درجنوں نمائندے وہاں موجود ہوں گے۔
دوسری طرف فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کل سوموار کے روز ڈھائی جانے والی قیامت کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں فلسطین کی قومی کمیٹی برائے حق واپسی اور وزارت صحت نے مصری حکومت اور فلسطینی اتھارٹی سے زخمیوں کے علاج میں فوری مدد کی اپیل کی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین غزہ میں سپریم کمیٹی برائے انسداد ناکہ بندی اور غزہ میں وزارت صحت نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں سے اڑھائی ہزار فلسطینی مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ کے اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں فلسطینی شدید زخمی ہیں۔ انہیں فوری سرجری کی ضرورت ہے۔ غزہ کے اسپتالوں میں ادویات کی قلت پڑ گئی ہے اور عملے کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔بیانات میں مصراور عرب ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ کے زخمیوں کو اپنے ہاں لے جانے کی اجازت دینے کے ساتھ غزہ کو طبی عملہ اور ادویات ارسال کریں تاکہ زخموں سے چور فلسطینیوں کا علاج کرکے ان کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔فلسطینی سپریم کمیٹی نے اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد سے شدید زخمی ہونے والے فلسطینیوں کا غرب اردن کے اسپتالوں میں علاج کرانے پر بھی زور دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں مظاہرین پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کی علاج میں مدد فراہم کرے۔واضح رہے کہ آج سوموار کو غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے لیے ریلیاں نکالنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے کم سے کم تینالیس شہری شہید اور اڑھائی ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔