کرناٹک الیکشن: حکومت سازی کے لیے سسپنس برقرار

کرناٹک الیکشن: حکومت سازی کے لیے سسپنس برقرار

دونوں بڑی پارٹیوں نے گورنر کو حکومت سازی کے لیے خط لکھا، سب کی نگاہیں گورنر پر
ریاست میں معلق اسمبلی قائم ہونے کے سبب وزیراعلی سدارامیانے شام میں راج بھون پہنچ کر اپنااستعفی پیش کردیا
بی جے پی کو 104،کانگریس کو 78، جے دی ایس 38، دیگرکودوسیٹیں ملی ہیں، بنگلورمیں کانگریس -بی جے پی کایکساں مظاہرہ
بنگلور: 15/ مئی (بی این ایس) کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔جس میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے۔ حالانکہ بی جے پی کے پاس سرکاربنانے کیلئے کچھ سیٹیں کم ہیں۔ بی جے پی کوکل 104سیٹیں ملی ہیں۔ایسے میں وہ اقتدارسے 9سیٹیں دورہے۔اسی دوران ریاست میں جے ڈی ایس کنگ میکرکے طورپردکھائی دے رہی ہے۔ 38سیٹیں جیتنے والی جے ڈی ایس نے کانگریس کے حمایت یعنی سرکاربنانے والی تجویزکوقبول کرلیاہے۔بی جے پی کے بعد بڑی پارٹی کے طورپرکانگریس ابھری ہے۔کانگریس کی 78سیٹوں پربرتری ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد جنتا دل (سیکولر) کو کانگریس کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس کے وفد نے جے ڈی ایس کو حمایت دینے کے لئے گورنر کو خط سونپ دیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق،وہیں بی جے پی نے بھی جے ڈی ایس سے رابطہ کیا ہے۔دوسری طرف کانگریس نے جے ڈی ایس کو بلاشرط حمایت دینے کے لئے گورنر کو خط سونپ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سدارمیا نے زبردست شکست کے بعد گورنر کو اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ کانگریس کے وفد نے ابھی کچھ دیر قبل گورنر سیملاقات کرکے اپنی حمایت کا خط سونپا ہے، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ گورنر کیا جے ڈی ایس کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کریں گے۔کرناٹک میں سدارمیا کی قیادت میں کانگریس نے الیکشن لڑا، لیکن مسلسل مکمل اکثریت کا دعویٰ کرنے کے بعد کانگریس اقتدار سے بہت دور ہوگئی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ بی جے پی کو 104 سیٹیں ملی ہیں جبکہ کانگریس کو 78 اور جے ڈی ایس کو 37 سیٹیں ملی ہیں جبکہ کانگریس اور جے ڈی ایس دونوں ایک ایک سیٹ پر آگے چل رہی ہیں۔ بی ایس پی کو ایک سیٹ ملی ہے جبکہ ایک آزاد امیدوار کو بھی کامیابی ملی ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد، اور اشوک گہلوت بنگلور میں موجود ہیں۔ غلام نبی آزاد کے مطابق سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوگوڑا اور کرناٹک کے ریاستی صدر کمار سوامی سے مثبت بات ہوگئی ہے اور کانگریس کی حمایت سے جے ڈی ایس حکومت بنائے گی۔بہرکیف اکثریت کا پیچ پھنس گیا ہے .ان حالات میں یوپی اے صدر نشین سونیاگاندھی نے جے ڈی ایس قومی صدر دیوے گوڑا سے رابطہ کرکے جے ڈی ایس ریاستی صدر کمارسوامی کو وزیراعلی کا عہدہ دینے کی پیش کش کی جسے دیوے گوڑاقبول کرلیاہے، دوسری طرف وزیراعظم مودی نے بھی دیوے گوڑا سے فون پر بات کرکے جے ڈی ایس کو حمایت دینے کی پیش کش کی ہے جس پر دیوے گوڑا نے کہاکہ وہ اپنے پارٹی اراکین سے بات چیت کرکے بتائیںگے۔ اس طرح دیوے گوڑا نے بالواسطہ مودی کی پیش کش کو مسترد کردی ہے۔ اس طرح کی مخلوط حکومت میں کانگریس کو نائب وزیراعلی کاعہدہ ملے گا۔ جے ڈی ایس صدر کمار سوامی نے گوورنرکو مکتوب لکھ کر حکومت سازی کاموقع دیئے جانے کی درخواست کی اور کہاہے کہ کانگریس نے ان کو غیر مشروط حمایت دی ہے،اس لئے انہیں حکومت سازی کاموقع دیا جائے۔ بنگلورشہری ضلع کے 26حلقوں میں سے کانگریس نے 12، بی جے پی 12اور جے ڈی ایس نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ بنگلورشہری ضلع میں بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں جیتناچاہئے تھا، وجے نگر اوریشونت پور حلقوں میں آخری مرحلے کی گنتی میں کانگریس نے سبقت لے لی۔ ریاستی وزراء کرشنا بیرے گوڑا، کے جے جارج ، رام لنگاریڈی، آرروشن بیگ دوبارہ کامیاب ہوئے۔ بی جے پی سے سابق نائب وزیراعلی آراشوک، سابق وزیر سریش کمار سمیت دیگر اہم لیڈروں نے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ جے ڈی ایس رکن گوپالیہ نے مہالکشمی لے آئوٹ سے دوسری بار کامیابی حاصل کی ۔داسر ہلی میں جے ڈی ایس کے منجوناتھ کامیاب ہوئے ہیں۔ ریاست میں سب سے زیادہ اسمبلی حلقوں والے بنگلورشہری اوربنگلور دیہی ضلع میں کانگریس اوربی جے پی نے یکساں تعداد 12-12 میں سیٹیں جیتی ہیں اور جے ڈی ایس نے دو سیٹیں جیتی ہیں۔
2018 اسمبلی انتخابات کی جھلکیاں
٭ بی ایس یڈیورپا شکاری پور حلقہ سے کامیاب
٭ وزیراعلیٰ سدارامیا بادامی حلقے سے جیتے مگر چامنڈیشوری سے ہار گئے
٭ وزیراعلیٰ سدارامیا کے بیٹے یتیندرا ورونا حلقے سے ہوئے کامیاب
٭ جے ڈی ایس کے صدر کمار سوامی رام نگرم اور چن پٹن دونوں حلقے سے ہوئے کامیاب
٭ ایم ای پی کسی بھی حلقے میں 1000سے زیادہ ووٹ نہیں لے پائی۔ جبکہ ایم ای پی نے 70 حلقوں سے کامیابی کا دعویٰ کیا تھا۔ جبکہ تمام امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی ہے۔
٭ فیروز نورالدین سیٹھ بلگام نارتھ سے کانگریس کی ٹکٹ پر ہار گئے
٭ بیجاپور سٹی سے کانگریس امیدوار عبدالحمید مشرف ہار گئے
٭ گنگاوتی میں کانگریس امیدوار اقبال انصاری ہار گئے
٭ ہبلی- دھاڑ پیٹ حلقے سے کانگریس امیدوار محمد اسمٰعیل ٹمٹے گار ہار گئے
٭ شکھ گاؤں میں سید عظیم پیر قادری ہار گئے
٭ رام نگرم میں کانگریس امیدوار اقبال حسین ہار گئے
٭ منگلور سٹی ساؤتھ سے بی اے محی الدین کانگریس سے ہار گئے
٭ منگلور سٹی نارتھ سے یوٹی عبدالقادر ہار گئے۔