کون بنیگا کرناٹک کا اگلا وزیراعلی ؟؟؟

کون بنیگا کرناٹک کا اگلا وزیراعلی ؟؟؟

احساس نایاب ( شیموگہ کرناٹک)
ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن
یقین تھا کہ کرناٹک انتخابات سے فسطائی حکومت کے زوال کی شروعات ہوجائیگی لیکن جب بی جے پی 112 سیٹین پار کر گئی تو یقین توٹنے لگا کہ اتنے میں وقت نے کچھ اسطرح سے کروٹ بدلا کہ گاندھی جی کے ہندوستان میں انہیں کے قاتل گوڈسے کی جیت ہوتے ہوتے ہار میں تبدیل ہونی نظر آرہی ہےؤ12 مئی کو ہوئے کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آج 15 مئی کو آچکے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے 2 صدی پہلے 1873 کی تاریخ یاد آرہی ہے جب مئی 15 کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم کرنے کی تجویز انگلینڈ میں منظور ہوئی تھی , امید ہے کہ اُسی طرح پھر سے 2018 , 15 مئی کو کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں ہار کے ساتھ بھاچپہ سرکار کی بھی الٹی گنتی شروع ہوجائیگی ۔جسکی شروعات صبح 8 بجے سے ہوئی , میسور کے چامنڈیشوری علاقے میں آج صبح ای وی ایم مشینس ایک کے بعد ایک کھولے گئےجیسے جیسے گنتی شروع ہوئی ویسے ویسے دل کی ڈھڑکنیں بھی تیز ہوتی جارہی تھیں , بی جے پی اور کانگریس کے بیچ کانٹے کی ٹکر چل رہی تھی کبھی بی جے پی تو کبھی کانگریس آگے تھی ,, اسی نتائج کے چلتے جے ڈی یس کو کنگ میکر کی طرح دیکھا جارہا تھا ,, کیونکہ سامنے آرہے گراف کے مطابق اس بات کا اندازہ لگایا جارہا تھا کہ اس مرتبہ پورے بہومت سے جیت حاصل کرنا کسی بھی پارٹی کے لئے ناممکن ہے اور اسی دوران ایک لمحہ ایسا آیا جب بی جے پی اور کانگریس میں 75 , 75 سیٹوں پہ ٹائی ہوگیا یہاں پہ آکے کچھ جان میں جان آگئی لیکن اسکے بعد دوپہر کے بارہ بجنے تک ٹی وی اسکرین پہ لگاتار بی جے پی کے بڑھتے ہوئے آنکڑے دیکھ کر ہر ایک کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی , بولتی بند ہوگئی کیونکہ 12 بجنے تک پھر سے بی جے پی کہ آنکڑے تیزی کے ساتھ بڑھنے لگے , تو بچی کچی امید بھی دم توڑگئی بی جے پی کے بڑھتے گراف کو دیکھ ہر ایک کے چہرے پر بھی 12 بجنے لگے اور جب بی جے پی 112 پار کر 120 کے قریب آگئی اور کانگریس ابھی بھی 64 کو پار نہیں پارہی تھی , اس وقت بی جے پی کی جیت تو یقینی تھی , جسکی وجہ سے ہر طرف کیسری ترنگے لہرانے لگے گلیوں میں گاڑیوں پہ سوار بھگوا دھاری بھگتوں کی ریلیاں نکلنی شروع ہوگئی چاروں طرف پٹاخوں کی گڑگڑاہٹ سے ایک طرفہ جشن کا ماحول بن چکا تھا , کہ اتنے میں ایک چمتکار کرشمہ ہوگیا بی جے پی کے آنکڑے اچانک گھٹنے لگے اور گھٹتے گھٹتے 103 پہ آکر تھم گئے اور جیسے ہی بی جے پی 103 , کانگریس 78 , جے ڈی یس 38 پہ آکر رکے۔ تبھی کانگریس نے اپنا اگلا پتہ پھینک دیا اور جے ڈی یس جسکو کنگ میکر کہا جارہا تھا اسکو کانگریس نے اپنے لئے حکم کا اِکا بنالیا جسکی وجہ سے بی جے پی کے لئے سرکار بنانا مشکل ہوچکا ہے۔تو وہیں دوسری طرف کانگریس اور جے ڈی یس کے درمیان مثبت ماحول میں بات چیت بھی جاری ہے اور فائنلی کانگریس اور جے ڈی یس سرکار کی بننے کے آثار صاف نظر آرہے ہیں کیونکہ خود سونیا گاندھی نے دیوے گوڈا سے بات کی ہے اور کانگریس نے جے ڈی یس کے کمار سوامی کو کرناٹک کا وزیر اعلی بنانے کا اعلان کردیا ہے جسکے چلتے جے ڈی یس نے بھی کانگریس کی حمایت قبول کرتے ہوئے اپنی طرف سے رضامندی دے دی ہے , اور امید ہے کہ کرناٹک میں کانگریس جے ڈی یس سرکار بنا سکینگے اور 18 مئی کو کمار سوامی وزیراعلی کا حلف اٹھاتے ہوئے مودی مکت بھارت کی پہل کرینگے اگر بی جے پی نے اپنا اگلا داعو نہیں کھیلا تو۔۔۔؟
(بصیرت فیچرس)