2004 کے انتخابات کی تاریخ پھر دہرائی جارہی ہے

2004 کے انتخابات کی تاریخ پھر دہرائی جارہی ہے

کانگریس کی شکست کے اسباب پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری
بنگلور۔۱۵؍مئی:اونچی ذات کے لوگوں کو نظرانداز کیا جانا اور لنگایت کو الگ اقلیتی مذہب کا درجہ دینے کا اقدام سمیت دیگر چند ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے اس مرتبہ برسراقتدار کانگریس پارٹی کو صرف 78 حلقوں میں ہی کامیابی حاصل ہوپائی ہے۔ جبکہ بی جے پی کو وزیراعظم نریندر مودی ، بی جے پی کے صدر امت شاہ اور یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ہندو کارڈ کھیلنے کی وجہ سے 104حلقوںمیں ہوئی کامیابی کے ساتھ ہی کنگ میکر کا درجہ حاصل کرنے والے جے ڈی ایس جسے 37 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ ان نتائج پر اب ریاست کے ووٹروں اور سیاسی حلقوں میں آگے کیا ہوگا اور کس کی حکومت بنے گی اس پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ عوام اور سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ وزیراعلیٰ سدارامیا کو بنیادی کانگریسیوں کا مکمل تعاون حاصل نہیں ہوپایا ہے وہ اکیلے ہی کمان سنبھال کر کانگریس کی جیت کیلئے جدوجہد چلاتے رہے اس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس کی حکومت کی کامیابیوں کو ورکرس گھر گھر پہنچانے کی اپنی مہم میں ناکام رہے ہیں ۔ اب کانگریس کے قائدین اپنی شکست کے اسباب کی فہرست تیار کرنے میں جٹ گئے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ سدارامیا نے عوامی مفاد کے لاتعداد پروگرام جار ی کئے لیکن اپنے ان پروگراموں اور خدمات کو وہ ووٹوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہاہے کہ جسٹس سداشیوا کمیٹی کی سفارشات کو جاری کرکے دائیں اور بائیں محاذ میں دراڑ پیدا ہونے سے بھی کئی ووٹرس کانگریس سے دور ہوگئے ہیں۔ ان حالات میں اس مرتبہ اسمبلی انتخابات میں تینوں بڑی پارٹیوں میں سے کسی پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوپائی ہے۔ اور ریاست میں معلق اسمبلی بننے جاری ہے ۔یاد رہے کہ اس سے قبل 2004 کے اسمبلی انتخابات میں ایم کرشنا نے بھی خودکو نمبرون وزیر اعلیٰ قرار دیا تھا اور انہیں بھی شکست کھانی پڑی تھی اس وقت کرشنا کی کابینہ کے بھی 30سے زائد وزراء کو شکست کھانی پڑی تھی۔ اب تاریخ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے اس مرتبہ سدارامیا کابینہ کے کئی اہم وزراء کو شکست کھانی پڑی ہے جبکہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے تینوں کابینہ وزراء روشن بیگ ، تنویر سیٹھ اور یوٹی قادر کے علاوہ کے جے جارج دوبارہ کامیاب ہوئے ہیں۔ اس بات کو بھی وجہ بتایا جارہا ہے کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنے طورپر جو کئی ایک اہم فیصلے لینے شروع کئے تھے اس کے نتیجہ میں میسور کرناٹک علاقہ کے دو مضبوط طبقوں کی دشمنی مول لی تھی جس کے نتیجہ میں پرانے میسور علاقہ میں جے ڈی ایس مضبوط بن گئی۔ بی جے پی کے صدر یڈیورپا کے ساتھ انہوں نے جو بدلے کی سیاست کی وہ بھی ان کیلئے اس بار کا فی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ ملکارجن بنڈے کا قتل، ڈی وائی ایس پی کنا بیتی کی خودکشی ، ڈی وائی ایس پی کلپا ہنڈی باگ کی خودکشی، آئی اے ایس افسر شکھا پر حملہ ، روہنی سندھوری کا معاملہ ڈی کے روی کی خودکشی کے معاملہ میں جو الجھنیں کھڑی کی گئی تھیں ان کا بھی حکومت پر کچھ منفی اثر پڑا ہے۔ ڈی وائی ایس پی انوپما شنائی کا معاملہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارکنوں کے قتل کے واقعات کو ساحلی کرناٹک میں کافی اچھالے جانے کا بھی اثر پڑا ہے۔ 2004 کے انتخابات میں سی ایم کرشنا کے دور میں کانگریس کو 65 ، جے ڈی ایس کو 58 بی جے پی کو 79 سیٹیں ملی تھیں۔ موجودہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 78 ، بی جے پی کو 104 اور جے ڈی ایس کو 38 نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور اب کی باربھی کانگریس کو اب جے ڈی ایس کا دروازہ کھٹکھٹانے کی نوبت آگئی ہے ۔ پھر بھی عوام کو یہ امید ہے کہ اس بار جے ڈی ایس او رکانگریس کی مخلوط حکومت سیکولر حکومت بنے گی اور منتخب امیدوار ذاتی مفاد سے زیادہ سیکولر زم کی بقاء کی خاطر دل سے متحد ہوکر حکومت بنائیںگے تو 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو نیچا دکھانے میں یہ شاید کامیاب ہوپائیںگے۔