قبا چاہیے اس کو خون عرب سے

قبا چاہیے اس کو خون عرب سے

مولانا ندیم الواجدی

امریکہ میں جب سے ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آئے ہیں فلسطین کا معاملہ مزید الجھتا جارہا ہے، ویسے تو امریکہ کے تمام ہی صدور اسرائیل نواز رہے ہیں، امریکی صدور ہی پر کیا موقوف ہے تمام بڑے ملکوں کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہے، یوں کبھی کبھی وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں بھی دو چار لفظ بول دیتے ہیں اورمگرمچھ کے سے ٹسوے بھی بہالیتے ہیں مگر آج تک کسی بڑی طاقت نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جوسرائیل کو اس کی بربریت اور ظلم وتشدد سے باز رکھ سکے، برطانیہ کی بدنیتی اور شرپسندی کی وجہ سے اسرائیل وجود میں آیا،یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ بیت المقدس یا یروشلم حضرت عمرؓ کے عہد خلافت ۲۴ ء سے ۱۹۱۷ء تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا ہے، درمیان میں صرف نوے سال ایسے گزرے ہیں جن میں یہاں عیسائیوں کی حکومت رہی، یہ ۴۹۲ھ کی بات ہے، ۵۸۳ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے یہ شہر مقدس عیسائیوں سے واپس چھین لیا، اس وقت سے ۱۹۱۷ءتک بھی یہاں مسلمانوں کی حکومت رہی، ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے اس علاقے کو اپنی نو آبادیات بنا لیا، ۱۹۴۸ء میں جب برطانیہ کو یہاں سے واپس جانا پڑا تو ایک سازش کے تحت دنیا بھر سے بہ طور خاص سوویت یونین سے یہودیوں کو لاکر یروشلم کے مغربی حصے میں بسادیا گیا، مشرقی حصہ فلسطین میں شامل رہا، تمام بڑے ممالک نے ان یہودیوں کی مدد کی اور اس نوزائیدہ ملک کو اس قدر مضبوط کیا کہ وہ بیس سال کی قلیل مدت میں پڑوسی ملکوں کے ساتھ جنگ کرنے کے قابل ہوگیا، ۱۹۶۷ء میں اس نے اردن، شام، فلسطین وغیرہ کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا، اس وقت سے یروشلم کا مشرقی حصہ بھی اسرائیل کے قبضے میں ہے، یوں تو پورا یروشلم ہی مسلمانوں کے لئے اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کا مشرقی حصہ بہ طور خاص اہم ہے کیوں کہ اس حصے میں مسجد اقصی واقع ہے، یہاں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی، اسی جگہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے سفر پر تشریف لے گئے، یروشلم جسے حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں بیت المقدس کا نام دیا گیا مسلمانوں کا قبلۂ اول بھی ہے، اس تاریخی علاقے کے ساتھ تمام مسلمانوں کی جذباتی وابستگی ہے، قرآن کریم میں اس کا کم از کم چھ مرتبہ ذکر آیا ہے، اور جب بھی ذکر آیا ہے برکت اور تقدس کے حوالے سے آیا ہے، اس مبارک سرزمین پر جب بھی کوئی افتاد پڑتی ہے تمام مسلمان بے چین ہوجاتے ہیں، فلسطین کے حالیہ واقعات نے بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کو پریشان اور مضطرب کردیا ہے۔

دسمبر ۲۰۱۷ء میں صدر ڈونلڈٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب میں موجود اپنے ملک کا سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کردیں گے، ان کے اس اعلان کی زبردست مخالفت کی گئی تھی، صدر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اس اقدام سے باز رہیں کیوں کہ ان کے اس فیصلے سے فلسطین کا مسئلہ مزید الجھ جائے گا، اسرائیل اگرچہ یروشلم کو اپنا دار الحکومت کہتا ہے اور وہ اس کے مشرقی حصے کو شامل کرکے ایک عظیم تر دار الحکومت بنانے کا خواب بھی دیکھ رہا ہے لیکن دنیا بھر کے ملکوں نے اس معاملے میں اسرائیل کی حمایت نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ تمام ملکوں کے سفارت خانے اور اقوام متحدہ کے دفاتر وغیرہ تل ابیب میں قائم ہیں، اگرچہ اسرائیل کے تمام سرکاری دفاتر، پارلیمنٹ کی عمارت، صدر اور وزیر اعظم کی رہائش گاہیں یروشلم کے مغربی حصے میں واقع ہیں، تل ابیب میں سفارت خانوں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی برادری اس علاقے پر اسرائیل کو قابض تصور کرتی ہے، اب امریکہ کے اقدام سے صورتِ حال تبدیل ہوجائے گی، ابھی صرف امریکہ کا سفارت خانہ کھلا ہے، کل کچھ اور ممالک بھی امریکہ کی خوشنودی میں اس کے نقش قدم پر چلیں گے، خبر ہے کہ ہنگری، رومانیہ، جیک ری پبلک، گوائے مالا اور پیرا گوائے جیسے ملکوں نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جلد یا بدیر یہ ممالک بھی تل ابیب سے یروشلم آکر اسرائیل کے ناجائز اور غیر قانونی قبضے کی حمایت کرسکتے ہیں۔

فلسطین کے نہتے اور مظلوم باشندوں کی ہمت کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ ستّر سال سے اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ستّر سال کے اس طویل عرصے میں ان پر کیا گزری ساری دنیا اس سے واقف ہے، لاکھوں فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں، اس سے کہیں زیادہ لوگ زخموں سے چور معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں، فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد پڑوسی ملکوں میں خانماں برباد کھلے آسمان کے نیچے انتہائی بے کسی اور لا چارگی کے عالم میں پڑی ہوئی ہے، جو لوگ غزہ، حبرون اور الخلیل جیسے شہروں میں رہ رہے ہیں نہ ان کے پاس روزگار ہے، نہ کاروبار ہے، نہ تعلیم ہے، نہ صحت کے وسائل ہیں، غیر ملکوں سے آنے والی مدد ہی ان کے لئے سدّ رمق کا ذریعہ ہے، مگر ان مشکل حالات نے بھی ان کے حوصلوں کو شکست نہیں دی، اسرائیل کی مسلح فوجوں سے وہ تنہا لڑ رہے ہیں، نہ ان کے پاس بندوقیں ہیں، نہ گولہ بارود ہے نہ بم ہیں، بس ایمان کی طاقت ہے اور وطن سے محبت کا جذبہ ہے کہ وہ ستّر سال سے لگاتار اس امید میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کئے جارہے ہیں کہ کبھی تو ان کی سرزمین انہیں واپس ملے گی۔

تازہ واقعہ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر پیش آیا، پینتیس ہزار نہتے فلسطینی’’ گریٹ مارچ آف ریٹررن موومنٹ‘‘ کے تحت مارچ کرتے ہوئے اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر اس جگہ پہنچے جہاں کانٹوں کی باڑھ لگی ہوئی ہے، ان کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں جن پر امریکہ اور اسرائیل مخالف نعرے لکھے ہوئے تھے، ان کی زبانوں پر نعرے تھے، یہ لوگ امریکی اقدام کی مخالفت کررہے تھے، دنیا کا کوئی کوئی قانون انہیں اس مخالفت سے نہیں روک سکتا، کیوں کہ یروشلم ان کا مادر وطن ہے، ان کی زمین ہے ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل نے طاقت کے بل پر یروشلم پر قبضہ کیا ہے، اور زور زبردستی اور ہٹ دھرمی سے آج تک اس پر قابض ہے، اقوام متحدہ کی بیسیوں قرار دادیں اس کے خلاف ہیں، مگر وہ ان کی ان دیکھی کررہا ہے، اس کو کسی کی پرواہ نہیں، کیوں کہ امریکہ اس کے ساتھ ہے، کیا فلسطین کے مظلوم باشندوں کو اتنا بھی حق نہیں کہ وہ اپنی سرزمین کے خلاف ہونے والی سازشوں کی مذمت کرسکیں اور اپنے احتجاج سے دنیا کو ادھر متوجہ کرسکیں، وہ امریکہ کی دوغلی پالیسی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے تھے، سفارت خانہ کھولے جانے کی تقریب پر اپنے غم وغصے کا اظہار کررہے تھے کہ اسرائیل کی فوجوں نے ان نہتے احتجاجیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی، پچاس سے زیادہ فلسطینی جن میں نو عمر بچے بھی تھے شہید ہوگئے، دو ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوگئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں، زخمیوں میں سے کتنے لوگ موت کو گلے لگائیں گے اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا، اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے ضابطے اور قانون کے تحت طاقت کا استعمال کیا ہے، اسے کہتے ہیں بے شرمی اور ہٹ دھرمی، کیا امریکہ اور دوسرے بڑے ممالک جو خود کو مہذب، جمہوریت پسند، انسانیت نواز، اور قانون کا پابند سمجھتے ہیں اس بات کا جواب دیں گے کہ اسرائیل نے کس ضابطے اور قانون کے تحت گولی چلا کر نہتے فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کیا ہے، دنیا کہ وہ کونسا قانون ہے جو مظلوموں کو صدائے احتجاج بلند کرنے سے روکتا ہے، وہ کونسا قانون ہے جس کے تحت کسی ملک کے مسلّح دستے بچوں اور عورتوں پر اندھا دھند فائرنگ کرسکتے ہیں، سلام ہے فلسطین کے غیور اور بہادر عوام کو کہ وہ آج بھی اسی طرح پرعزم ہیں جس طرح کل تھے، ستّر سال کے مسلسل مظالم نے ان کے حوصلے پست نہیں کئے، آج کا یہ قہر کب انہیں پسپا کرسکتا ہے، جو لوگ اس احتجاج میں شریک تھے ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اس کارروائی سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے، آج ۱۵/ مئی کو انھوں نے یوم نکبت منانے کا اعلان کیا ہے، وہ اپنا سفر جاری رکھیں گے، وہ اپنی تحریک واپس نہیں لیں گے، لعنت ہے عرب ملکوں پر جو منہ میں گھنگنیاں ڈالے اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے بیٹھے ہیں، آخر انہیں شرم کب آئے گی، ان کی غیرت کب جائے گی، کیا اس وقت جب اسرائیل کا اژدہا غزہ سمیت پورے فلسطین کو نگل لے گا، کیا وہ اس وقت بیدار ہوں گے جب اسرائیل مسجد اقصیٰ کو شہید کرکے ہیکل سلیمانی تعمیر کرلے گا، اس وقت جاگے بھی تو کیا ہوگا، اسرائیل کا یہ خوفناک عفریت رکنے والا نہیں ہے، ایک فلسطین ہی کیا، کئی ملک اس اس عفریت کی زد میں آئیں گے، سعودی عرب کب محفوظ رہے گا، اگرو ہ امریکہ کے پروں میں سر چھپا کر خود کو محفوظ سمجھ رہا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے، اگر اس کا خیال یہ ہے کہ اسرائیل سے پینگیں بڑھاکر اس نے اپنے لئے گوشۂ عافیت تلاش کرلیا ہے تو بہت جلد اس کی یہ غلط فہمی بھی دور ہوجائے گی۔

حالیہ واقعات پر ترکی کے صدر طیب اردگان بھی بولیں گے، ایران کے صدر اور وزیر اعظم بھی بیان دیں گے، مشرق وسطی کے ملکوں سے بھی مذمت کے بیانات جاری ہوں گے، تمام مسلم ممالک اعلان کریں گے کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، ان پر ظلم ہوا ہے، ان پر زیادتی ہوئی ہے، لیکن کیا یہ زبانی جمع خرچ مؤثر ہوگا، آپ ہزاروں بیانات دیں، لاکھوں مرتبہ اسرائیل کی مذمت کریں اس پر لعنت بھیجیں گے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے، اس وقت تک اسرائیل اپنی تمام تر خباثتوں اور مکاریوں کے ساتھ اس ارض مقدس پر دندناتا رہے گا جب تک مسلم ممالک متحد نہیں ہوںگے، جب تک وہ مستقبل کے خطرات کو محسوس کرکے ایک جٹ نہیں ہوں گے، جب تک وہ اپنی بندوقوں کا رخ اپنوں کی طرف کرنے کے بجائے دشمنوں کی طرف نہیں کریں گے، جب تک ان ملکوں سے کوئی سلطان صلاح الدین ایوبیؒ پیدا نہیں ہوگا، تاریخ میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا کردار زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا، وہ واقعات بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے جو صلیبی اور اسلامی جنگوں کے دوران پیش آئے اور وہ الفاظ بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے جو صلاح الدین ایوبیؒ کی زبان سے اس وقت ادا ہوئے جب وہ بیت المقدس کی بازیابی کے لئے پابہ رکاب تھے، انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا ’’ہم کوئی عام سی جنگ لڑنے نہیں جارہے ہیں ہم اپنے خون سے تاریخ کا وہ باب لکھنے جارہے ہیں جو عمرو بن العاصؓ اور ان کے ساتھیوں نے لکھا تھا اگرچاہتے ہو کہ خدا کے حضور اپنی پیشانیوں پر روشنی لے کر جاؤ اور اگر چاہتے ہو کہ آنے والی نسلیں تمہاری قبروں پر آکر پھول چڑھائیں تو تمہیں بیت المقدس کو آزاد کرانا ہوگا‘‘، آج پھر اسی صلاح الدین کی ضرورت ہے جو اپنے ساتھیوں کو ان کی تاریخ یاد دلائے اور ان کو ان کے فرض سے آگاہ کرے، مگر ان مسلم ملکوں میں جن کے حکمرانوں نے بزدلی اور بے غیرتی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ایسا کوئی شخص کبھی پیدا بھی ہوگا یا نہیں جو اسرائیل کو چیلنج کرسکے اور اس کے وجود کو خس وخاشاک میں ملا سکے؟ یہ سوال ہے جو سوا ا رب مسلمانوں کے لئے سوہانِ روح اور عذاب جاں بنا ہوا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم علامہ اقبال کے اس شعر کی روح تک نہیں پہنچیں گے اور اسے عمل کا لباس نہیں پہنائیں گے اس وقت تک ارض مقدس یہود کے پنجۂ استبداد سے آزاد نہیں ہوگی۔

خیاباں میں ہے منظر لالہ کب سے

قبا چاہئے اس کو خونِ عرب سے

(بصیرت فیچرس)

nadimulwajidi@gmail.com