رمضان کے بد نصیب

رمضان کے بد نصیب

مولانا محمد رضی الاسلام ندوی

ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سماج کے کئی بد نصیبوں کا تذکرہ فرمایا _ ان میں وہ شخص بھی ہے جس کے سامنے آپ کا ذکرِ خیر ہو ، لیکن اسے آپ پر درود و سلام بھیجنے کی توفیق نہ ہو ، ان میں وہ شخص بھی ہے جس کے ماں باپ بوڑھے ہوجائیں ، لیکن اسے ان کی خدمت کرنے کی توفیق نہ ہو _ اس موقع پر آپ نے رمضان کے بد نصیب کا بھی تذکرہ کیا.

آپ نے ارشاد فرمایا :

” رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ، ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أن یُغْفَرَ لَهُ ( ترمذی : 3545 ، احمد :7451 عن ابی ھریرۃ )

” بد نصیب ہے وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پائے اور پورا مہینہ گزر جائے ، لیکن اسے اپنی مغفرت کرالینے کی توفیق نہ ہو. ”

رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو اس کے تعلق سے افراد کے رویّے مختلف ہوتے ہیں _ بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اس عظیم اور با برکت مہینے کو پائیں اور اس سے فیض یاب نہ ہوسکیں اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مہینے کا والہانہ استقبال کریں ، جیسے وہ اس کے منتظر ہوں اور اس کی بابرکت ساعتوں سے اپنا دامن بھرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں.

* بدنصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کو کمائی کا ذریعہ بنالیں ، جو اس ماہ میں اشیائے ضرورت کا نرخ بڑھادیں اور مہنگے داموں میں چیزیں فروخت کریں.

* بد نصیب ہیں وہ لوگ جو انتہائی معمولی اعذار پر روزہ ترک کردیں ، حالاں کہ وہ ان اعذار کے ساتھ بھی آسانی سے روزہ رکھ سکتے ہیں.

* بدنصیب ہیں وہ لوگ جو تن آسانی کا شکار ہوں اور رمضان کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے رخصت کا بہانہ بالیں.

* بدنصیب ہیں وہ لوگ جو قیامِ لیل کی لذّت سے محروم ہوں ، اسے بوجھ سمجھتے ہوں اور اس سے پیچھا چھڑانے کی مختلف ترکیبیں اختیار کرتے ہوں.

* بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ماہ رمضان کے مقررہ اوقات میں کھانے پینے سے تو بچتے ہوں ، لیکن جھوٹ ، غیبت ، چغلی ، لڑائی جھگڑا ، گالی گلوج ، بے ایمانی ، دھوکہ دھڑی ، ڈنڈی مارنا ، ناپ تول میں کمی کرنا ، غرض ہر وہ کام کرتے ہوں جس سے اسلام نے روکا ہے ، چنانچہ بارگاہ الٰہی سے انھیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوتا.

* بدنصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کی راتوں میں جاگتے ہوں ، لیکن وہ جاگنے ہی کو عبادت سمجھتے ہوں ، چنانچہ اس کا زیادہ تر حصہ گھومنے ٹہلنے اور خوش گپیوں میں گزار دیتے ہوں ، چنانچہ انھیں بارگاہ الٰہی سے شب بیداری کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوتا.

* خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کا مہینہ پاتے ہیں تو اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی سمجھتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں.

* خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہِ مبارک کو اپنی تربیت کا ذریعہ بناتے ہیں ، اپنی بُری عادتوں سے گلو خلاصی پانے کی کوشش کرتے ہیں اور اچھی عادتوں کو پروان چڑھانے کی سعی کرتے ہیں.

* خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مبارک سے فیض اٹھانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اس میں زیادہ سے زیادہ أعمال صالحہ انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں ، تاکہ ان کا رب ان سے خوش ہو اور انھیں بے پایاں اجر سے نوازے.

* خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کی راتوں کو زندہ کرتے ہیں ، ان میں اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں اور نوافل اور تہجد کا اہتمام کرتے ہیں.

* خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ماہ رمضان میں دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں ، اللہ کے سامنے اپنی دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بھلائی کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، اسی سے لَو لگاتے ہیں اور اسی سے رحم و کرم کی بھیک مانگتے ہیں.

* خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان المبارک کو اپنے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بناتے ہیں ، جو اللہ کے سامنے روتے ہیں ، گڑگڑاتے ہیں ، گناہوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہیں ، مغفرت طلب کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کا رب انھیں اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے گا اور ان کی مغفرت کرے گا.

کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کا مہینہ پائیں اور اس سے اپنی جھولی بھر لیں.

کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کا مہینہ پائیں ، لیکن اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت نہ کرواسکیں.

( تذکیر مسجد اشاعت اسلام ، مرکز جماعت اسلامی ہند ، 16 مئی 2018 ، بعد نماز عصر)

(بصیرت فیچرس )