مدارس و مکاتب کے سفرا کے ساتھ بدسلوکی!

مدارس و مکاتب کے سفرا کے ساتھ بدسلوکی!

کیا اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے؟

محمد حامد ناصری قاسمی

استاذ دارالعلوم الایمان کنشاسا، کونگو افریقہ

اللہ سبحانہ وتعالی کا عطا کردہ نظام حیات اور دین نبوی کی تعلیم وترویج کے لیے جو حضرات متعین ہوتے ہیں، ان کا انتخاب من جانب اللہ ہوتا ہے۔ دین اسلام کی خدمت کی توفیق اللہ پاک اسے بخشتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ: اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف سے جس کو چاہے، اور راہ دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع لائے۔ (ترجمہ شیخ الہند،سورۃ الشوری:13)

دین نبوی کی تعلیم وترویج اور اشاعت کے دو طریقے رائج ہیں۔ دونوں کی نظیر نبی ﷺ اور صحابہ –رضی اللہ عنہم– کے دور میں پائی جاتی ہے۔ ان میں افضل اور معروف طریقہ مکاتب ومدارس کا قیام ہے اور دوسرا طریقہ دعوت وتبلیغ کے راستہ میں نکل کر، دین سیکھنا اور سکھانا ہے۔ پہلے طریقہ کی اصل “صفہ” ہے، وہاں امام الانبیاء ﷺ معلم ومدرس ہوتے اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ –رضی اللہ عنہم– طلبہ اور متعلمین ہوتے تھے، جن میں اکثریت فقراء صحابہ –رضی اللہ عنہم–کی تھی۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام نہ تھا، نبی کریم ﷺ بنفس نفیس صحابہ کرام –رضی اللہ عنہم– سے ان کے کھانے کا انتظام کرواتے(یعنی آپ ﷺ خود چندہ کرتے) تھے۔ آپ ﷺ کی تشکیل پر صحابہ کرام –رضی اللہ عنہم– اپنے گھر سے کھانا پہنچاتے، بسا اوقات ان کو اپنے گھر لے جاتے اور ساتھ بیٹھا کر کھلاتے تھے۔ لیکن یہ سلسلہ مستقل نہیں تھا، بسا اوقات صفہ کے طلبہ کئی کئی دنوں تک بھوکے رہتے اور یہی صورت حال صفہ کے معلم آقاء دوجہاں ﷺ کا تھا۔ معلم اور متعلم دونوں کا فاقہ ہوا کرتا۔ کئی کئی دنوں تک کھانے پر، ان کی نظر نہیں پڑتی تھی۔ آج کے مدارس اسی صفہ کی نظیر اور مثال ہیں۔

مدارس اسلامیہ حفاظت دین کے قلعے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ایسے رجال کار تیار کرنا ہے، جو دینی علوم کے ماہر اور حمیت اسلامی سے سرشار ہوں۔ اہل مدارس اسوۂ رسول ﷺ کے محافظ وامین ہیں۔ مدارس کا مقصد حصول دین ہے، حصول دنیا نہیں؛ اس لیے جہاں بھی مکتب یا مدرسہ قائم ہو خواہ اس میں چند طلبا ہی کیوں نہ ہوں، امت مسلمہ اس کو اپنے لیے نیک بختی سمجھے اور اس کے چلانے میں بھر پور تعاون کرے۔

اللہ پاک نے اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے۔ اس کی حفاظت کے اسباب وہی پیدا فرماتا ہے۔ اسی پاک ذات نے دین کی حفاظت کے لیے حفاظ وعلماء کا انتخاب کیا ہے اور مکاتب ومدارس کو اس کی حفاظت کے لیے مرکز بنایا ہے۔ وہی اللہ لوگوں کے دلوں میں بات ڈالتا ہے کہ وہ اپنی محنت کی کمائی ان مدرسوں میں دیتے ہیں اور دل کھول کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف شیطان کی جماعت ہے جو لوگوں کو ورغلانے کا کام کرتی ہے، طلباء کو بہکاتی ہے؛ حتی کہ بعض دفعہ ذمہ داروں کو مدرسہ کی آمدنی سے مایوس کروا کر، نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔

اللہ پاک نے علم دین سیکھنے کی ترغیب دی ہے اور اس کے مقاصد کا بھی ذکر قرآن کریم میں فرمایا ہے، اللہ کا فرمان ہے: ترجمہ: ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جہاد میں جایا کرے، تاکہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں، اور تاکہ یہ لوگ اپنی اس قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس واپس آویں ڈراویں، تاکہ وہ ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں سے احتیاط رکھیں۔ (بیان القرآن، سورۃ التوبہ:122)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امت کی یہ جماعت علم دین کہاں سیکھے گی؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ صفہ کی طرز پر قائم مدارس اور مکاتب میں داخلہ لیں گے، جہاں ان کے کھانے اور رہنے کا انتظام رہتا ہے، جس کا انتظام وانصرام ان کے اساتذہ اور مدرسہ کے ذمے داران کرتے ہیں، اہل خیر حضرات کے پاس جاتے ہیں، ان سے درخواست کرتے ہیں، نبی ﷺ کی سنت کو زندہ کرتے ہیں، پھر جو کچھ ملتا ہے، اس سے –توکلا علی اللہ – کام جاری رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں مدارس کو قائم رکھنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ حکومتی سطح پر پریشانیاں، اپنوں اور پرایوں کے الزامات، ان سب کے باوجودمدارس کے ذمے داران، گرمی، سردی، برسات کی پروا کیے بغیر، دین کی خاطر لوگوں کے پاس پہنچتے ہیں۔ آج کا زمانہ نبی اور صحابہ کا زمانہ تو ہے نہیں کہ جس طرح صحابہ کرام –رضی اللہ عنہم– صفہ پر کھانا پہنچادیا کرتےیا اصحاب صفہ کو اپنے گھر لے جاکر ساتھ میں کھانا کھایا کرتے، آج یہ صورت ناپید ہوچکی ہے۔

مدارس اور مکاتب دینیہ کے لیے ضروری نہیں کہ وہاں سینکڑوں طلبا زیر تعلیم ہوں، قیام اور کھانے کا مکمل انتظام ہوتبھی یہ مدارس زکاۃ کے مستحق ہوں گے۔ نہیں بالکل نہیں، بلکہ مدارس کے مستحق ہونے کے لیے صرف یہ کافی ہے کہ وہاں نادار طلبہ، تعلیم حاصل کر رہے ہوں، خواہ وہ مکتب کی شکل میں ہو، شہر میں ہو یا دیہات میں، طلبا کی تعداد بیس ہو، سو ہو یا ہزار۔ اگر دین کی ترویج واشاعت ہورہی ہے؛ تو وہ مکتب یا مدرسہ مستحق ہے، آپ ان کو زکاۃ دیجیے۔

اللہ تعالی کے قول: ” في سبيل الله وابن السبيل ” (سورۃ التوبۃ: 60) مصارف زکاة کا ذکر ہے۔ علماء کرام نے فی سبیل اللہ سے مدارس کے طلبا کو زکاة کے مستحق ہونے پر استدلال کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کے راستے میں ہے، وہ مستحق ہے، اس کی تعداد خواہ ایک ہو یا ایک ہزار۔ اسی طرح مسافر جس کا سامان سفر تلف ہوگیا ہو گرچہ وہ مال دار ہو؛ تو وہ بھی مستحق ہے۔ تو ایک مسافر مستحق ہوسکتا ہے اور 50/ طلبہ جس ادارے میں رہتے ہوں، وہ مستحق کیوں نہیں ہوسکتا۔

آج کی صورت حال یہ ہے کہ اگر دوسو،چار سو طلبا ہیں، قیام وطعام ہے تو اس مدرسہ کو مستحق سمجھا جاتا ہے، بہت رد وقدح کے بعد سو، دوسو روپے کی رسید کٹوا کر احسان جتاکر ،ان کو روانہ کردیا جاتا ہے اور اگر کسی مدرسہ میں پچاس پچیس بچے ہیں یا وہ مکتب ہے؛ تو ان کی رسید چھین لی جاتی ہے۔ ان کو ذلیل ورسوا کیا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر ان کے ساتھ دست درازی کی جاتی ہے اور بعض ناہنجار؛ تو پولیس کو بھی بلا لیتے ہیں، الامان والحفیظ۔

ایسے لوگوں سے میرا صرف ایک سوال ہے، ذرا تنہائی میں اس کا جواب سوچیے گا کہ ہندوستان میں ایسے علاقے جہاں کے لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارتے ہیں، مزدور پیشہ جو روزانہ کی مزدوری کرکے اپنا گزارہ کرتے ہیں، علاج ومعالجہ کے لیے پیسے پیسے کے محتاج رہتے ہیں، آخر ان کے بچے علم دین کیسے حاصل کریں گے؟ وہ مکتب کی فیس سو دوسو روپے کہاں سے لائیں گے؟ کیا ان کے بچے کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ؟ اگر حق ہے؛ تو کیا ایسی تمام جگہوں پر وہ لوگ جاگر بچوں کو مکتب کی تعلیم دین گے ،جو ان مکاتب والوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کو زکاۃ کا مستحق نہ کہ کر ان کے ساتھ طوفان بد تمیزی کرتے ہیں۔

اسی طرح ایسے مدارس جن کی کفالت میں صرف پچاس بچے ہیں، کیا وہ زکاۃ کے مستحق نہیں ہیں؟ اگر وہ آپ کی زکاۃ کے مستحق نہیں؛ تو یاد رکھیے آپ بھی اللہ پاک کا رزق کھانے اور استعمال کرنے کے مستحق نہیں؛ کیوں کہ آپ کی کفالت میں صرف دو،چار، یا دس لوگ ہی ہوتے ہیں، اور اگر ہم ان کو غیر مستحق کہہ کر، ان کی تذلیل کرکے لوٹادیں گے؛ تو آخر وہ بچے علم دین حاصل کرنے کہاں جائیں گے؟ ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں سیکڑوں مدارس ہیں، کہیں بھی چلے جائیں؛ لیکن یہ صرف باتیں ہیں، بولنا آسان ہے، آپ سروے کیجیے مدارس میں 95 فیصد بچے ایسے آتے ہیں، جن کے پاس سال میں ایک بار اپنے گھر جانے کا کرایہ نہیں ہوتا، ایسے بچے اپنے گھر سے دور جاکر تعلیم حاصل کریں، کیا یہ ممکن ہے؟

ہندوستان میں پہلےسے ہی اہل مدارس مختلف قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ ادھر چند سالوں سے اہل مدارس اور مکاتب کے لیے کچھ احباب رمضان کے موقع پر، ایک نئی پریشانی ان کے اوپر مسلط کردیتے ہیں، چندہ کمیٹی کا راگ الاپا جاتا ہے، اہل خیر کو ورغلایا جاتا ہے کہ میری تصدیق سو فی صد درست ہے اور صرف میری تصدیق پر ہی آمنّا صدّقنا کہا جائے۔ باقی جتنی تصدیقات ہیں، وہ سب جھوٹ کا پلندہ ہیں، ان کا اعتبار نہ کیا جائے۔ یعنی منٹوں میں جمیعت، دارالعلوم، دیوبند، مظاہرعلوم، سہارنپور، امارت شریعہ پٹنہ، دارالعلوم کنتھاریہ، ماٹلی والا بھروچ، فلاح دارین، ترکیشور، جیسے سارے معتبر ادارے کی معتبریت پر سوالیہ نشان لگا دیا، وہ ادارے جن پر امت اپنی جان نچھاور کرتی ہے۔ پل بھر میں ان کو بے حیثیت کردیاجاتا ہے۔ اب بیچارے ان اداروں کی تصدیقات لے کر آتے ہیں، در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، ہمارے امرا پوچھتے ہیں کہ چندہ کمیٹی کی تصدیق ہے؟ اس طرح کی حرکت تو برادران وطن بھی نہیں کرتے۔ ہماری یہ صورت حال اس وقت ہے جب ہم اپنا اصل مال نہیں دے رہے ہیں؛ بل کہ زکاۃ دے رہے ہیں، جان ومال کا کچڑا ہے، جس کا استعمال ہمارے لیے حرام ہے، اگر ہم سے پیور مال کا مطالبہ ہوتا ؛ تو ہم کیا کرتے، شاید ہم اپنے ہاتھوں مدارس پر پابندی لگوادیتے!

مدارس ومکاتب میں پڑھنے والے طلبہ مہمان رسول ہیں اور اہل مدارس جو چندہ لینے آپ کے پاس پہنچے ہیں، وہ وارث انبیاء ہیں، ساتھ ساتھ مہمان رسول کے عامل ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فتوحات کے بعد علاقے میں عامل بھیجے تھے، ان کا کام زکاۃ وصول کرکے، بیت المال میں جمع کرنا ہوتا تھا، حضرت معاذ بن جبل –رضی اللہ عنہ– کو آپ نے یمن کی طرف دین کا داعی، دین کا معلم اور زکاۃ کا عامل بناکر بھیجا تھا۔ ان کو یہ حکم تھا کہ قوم سے زکاۃ وصول کر وہاں کے غربا میں اس کو تقسیم کردیاجائے، تو جو کام نبی کریم ﷺ نے صحابہ کے سپرد کیا تھا۔ تعلیم وتعلم، دعوت وتبلیغ، اور زکاۃ کی وصولی، آج وارثین انبیاء، مہمان رسول کے کفیل ووکیل، جب اس کام کے لیے نکلتے ہیں؛ تو ان کو فراڈ اور غیر مستحق کہہ کر ظلم وزیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ آپ بغیر تحقیق کہ چندۃ دیدیں، آپ خود تحقیق کریں اور اگر یہ ممکن نہیں؛ تو آپ ہندوستان کے بڑے ادارے پر بھروسہ کریں۔ بڑے ادارے تو صرف پچاس، سو طلبہ پر تصدیق نامہ جاری کردیں اور آج کی پیداوار امت میں انتشار پیدا کرنے والے دوسو کی شرط لگادیں۔ ان بڑے ادارے کو بے حیثیت کردیں۔ اس سے مجموعی طور پر امت کا دینی وملی ڈھانچہ کمزور ہوگا، گاؤں دیہات میں ناظرہ خواں تک کا ملنا مشکل ہوجائےگا اور اس کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔

اگر بالفرض آپ کسی مکتب کو یا کسی مدرسہ کو اپنی زکاۃ کا مستحق نہیں سمجھتے ہیں، تب بھی آپ کو ان کی رسیدات چھیننے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان سے معذرت کرلیا جائے، نہ کہ ان کو ذلیل ورسوا کرکے، ان کے ساتھ بد تمیزی کی جائے، پولیس بلاکر ان کو ہراساں کرایا جائے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگرآپ ایسا کرتے ہیں؛ تو خدا کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ آپ انبیاء کے وارث کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں، ان کے لیے تو سمندر کی تہہ سے مچھلیاں مغفرت کی دعائیں کرتی ہیں اور آپ ان کو گالیوں سے نوازیں، مشرع اور داڑھی ہونے کی بھپکی کسیں، یہ کسی بھی طرح جائز اور درست نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی سفیر آئے؛ تو اس کا اکرام کیجیے، ان کو افطار کرائیے، اگر دل مانے؛ تو چندہ دیجے اور نہ مانے؛ تو مت دیجے؛ مگر ان کے ساتھ بدسلوکی سے پیش مت آئے۔ اگر کسی مدرسہ کی تصدیقات پر علما کا اجماع ہو؛ تو اس کو دیجیے۔ جس مدرسہ کی تائید وتصدیق پانچ مؤقر اداروں نے کی اس کو نہ ماننا اور ایک غیر معتبر پر اعتبار کرکے، واپس کردینا، یہ اچھا نہیں ہے۔ میرا اپنا نظریہ تو یہ ہے کہ مکاتب میں بھی زکاۃ کی رقم دیں، سفیر کو مکلف بنا دیں کہ نادار طلبا سے تملیک کرا کر، اپنی تنخواہ میں استعمال کریں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا؛ تو ہندوستان میں ارتداد کی ہوا چلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اللہ پاک ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے! آمین!

(بصیرت فیچرس)

٭ ناصرگنج نستہ کٹکا دربھنگہ بہار۔