تازه ترين

جے این یو اور ’اسلامی دہشت گردی‘ کا نصاب

جے این یو اور ’اسلامی دہشت گردی‘ کا نصاب

فیصل فاروق
دائیں بازو کی آنکھوں میں کھٹکنے والی عالمی شہرت یافتہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ’اسلامی دہشت گردی‘ پر مبنی مضمون شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جسے لے کر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں جے این یو کی ۱۴۵/ویں اکیڈمک کونسل کی میٹنگ کے دوران نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کی ایک تجویز کو منظوری دی ہے جس کے تحت نکسل واد، سائبر کرائم کے ساتھ ہی ساتھ نام نہاد اسلامی دہشت گردی پر مبنی مضمون بھی شروع کیا جائے گا۔
تعلیمی تناظر میں اس مضمون کی حیثیت اسلاموفوبیا سے زیادہ کی نہیں ہے۔ جے این یو طلبہ یونین نے اس کی مخالفت کی ہے۔ مذہبِ اسلام امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ لہٰذا دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا ایک گھناؤنی سازش اور مذہب اسلام کی توہین ہے جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔
ہندوستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے جہاں تمام عقائد کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ لیکن دہشت گردی کو ابھی تک واضح نہیں کیا جا سکا ہے، یہاں تک کہ اقوام متحدہ بھی دہشت گردی کی کسی بھی تعریف پر متفق نہیں ہے۔
خوش آئند پہلو یہ ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن نے بغیر وقت برباد کئے اکیڈمک کونسل کو نوٹس بھیج کر پوچھا کہ کیا اس نے اس کورس کو شروع کرنے کے ممکنہ مضمرات کا جائزہ لیا ہے؟ اس کے تحت کیا مضامین پڑھائیں جائیں گے؟ اس کا متن کیا ہو گا؟ اسے کون لوگ پڑھائیں گے؟ اس کے ماہرین کون ہوں گے؟ دہلی اقلیتی کمیشن سربراہ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ یہ فیصلہ اکیڈیمک نہیں، سیاسی ہے۔ اگر اسلام کو دہشت گردی سے جوڑیں گے تو جے این یو سے اس طرح کی تعلیم سے بچے کیا سیکھ کر باہر آئیں گے۔ اس سے سیدھے طور پر اقلیتوں کی شبیہ اور ان کے مفاد کو نقصان پہنچے گا۔
اس ضمن میں معروف عالم دین و کشن گنج سے ایم پی مولانا اسرارالحق قاسمی کا بیان بہت اہم ہے کہ جواہرلال یونیورسٹی ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں معیاری تعلیم و ریسرچ اوراپنی مخصوص سیکولر شناخت کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے جہاں دنیا بھر کے مختلف مذاہب کے ماننے والے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے ۔ ایسے میں اگر وہاں ‘اسلامی دہشت گردی’ کے نام سے کوئی مخصوص نصاب تیار کیا جاتا ہے تو اس سے مسلم طلبہ کو نفسیاتی طور پر شدید چوٹ پہنچے گی اور وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے لگیں گے۔
جس طرح سے ملک کے معروف تعلیمی اداروں جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی وغیرہ پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں اس پر دانشور طبقہ کو آواز بلند کرنی چاہئے، ظلم و زیادتی کے خلاف خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔ پروفیسر حضرات حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ ایسے کسی بھی کورس شروع کرنے کی تجویز کو واپس لے جس سے ملک کی اتحاد اور سالمیت کو سنگین نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔
(بصیرت فیچرس)