تازه ترين

مودی سرکار کی الٹی گنتی شروع،مگر اپوزیشن کیلئے جیت آسان نہیں

مودی سرکار کی الٹی گنتی شروع،مگر اپوزیشن کیلئے جیت آسان نہیں

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
سنیچر کے اخبارات مودی سرکار کے ’ کارناموں‘ سے بھرے ہوئے ہیں ۔
پر کرناٹک کی ’ ہار‘ کا کہیں ذکر نہیں ہے !
بات دونوں ہی کی ہوگی ، مودی حکومت کے چارسالوں کی بھی ، اور اس دور حکومت کے ’ کارناموں‘ کی بھی ۔ اور کرناٹک کی ہار اور اس ہار کی روشنی میں مودی سرکار ۔۔۔ یا بی جے پی اور سنگھ پریوار ۔۔۔ کے مستقبل کی بھی۔
اخبارات میں مودی سرکار کے چارسالوں کا ذکر بڑے ہی خوبصورت لفظوں میں کیاگیا ہے ۔ بڑے بڑے دعوے کئے گئے ہیں ، مثلاً یہ کہ یوواشکتی نے دیش کی تصویر بدل دی ہے ، ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے ، کسانوں کو آگے بڑھایا گیا ہے ، بھارت صحت مند ہوا ہے ، مودی کی سرکار پچھڑے طبقات کی سرکار ثابت ہوئی ہے ، بدعنوانی پر لگام کس دی گئی ہے اور یہ کہ خواتین کی قوت سے ملک آگے بڑھا ہے اور اب دنیا ایک نئے بھارت کو دیکھ رہی ہے ۔ اخبارات نے یہ تمام خوبصورت باتیں مفت میں نہیں لکھی ہیں اس کے لئے انہیں مودی سرکار نےپیسے دیئے ہیں ، چند ہزار روپئے نہیں کروڑوں روپئے ! مودی سرکار ایک جانب جہاں دولت کے زور پر مذکورہ دعوؤں کے ساتھ اپنی چار سالہ کامیابی کا جشن منارہی ہے وہیں دوسری جانب ’اس سرکار کو اپنی سرکار سمجھنے والے پچھڑے طبقات‘ کے ایک فرد مکیش وانیا کی ، چند روز قبل اعلیٰ ذات ہندوؤں کے ہاتھوں بے رحمی سےپیٹے جانے کے بعدہوئی موت کے بعد آج ہی یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اسے یہ کہہ کر پیٹا اور مارا گیاتھا کہ ’ تم غلاظت صاف کرنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہوپیسے مت مانگو۔‘ اور یہ خبر بھی پرانی نہیں ہے کہ اتراکھنڈ میں ایک نوجوان ،یعنی ’ یوواشکتی‘ کے ایک رکن کی، صرف اس لئے پٹائی کردی گئی اور وہ لنچنگ سے بس بال بال ایک سکھ پولس افسر گگن دیپ سنگھ کی جرات کے سبب بچ پایا کہ وہ اپنی ہندو دوست کے ساتھ ٹہل رہا تھا۔ اور یہ خبر بھی تو بس کل ہی کی ہے کہ اس میجر گگوئی کی ، جس نے اپنی جیپ سے ایک کشمیری نوجوان کو بطور ڈھال باندھ دیا تھا، فوج نے اس لئے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا ہے کہ ایک کمسن لڑکی کی ماں نے اس پر اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں ، شاید یہی وہ ’نیا بھارت ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے ۔‘
مذکورہ تینوں واقعات مودی سرکار کے چار سالوں کی کہانی صاف صاف بیان کردیتے ہیں۔ ’ نیا بھارت‘ جو ساری دنیا دیکھ رہی ہے ، فرقہ پرستی ، مآب لنچنگ، اقلیت دشمنی ، دلت دشمنی ، پچھڑے طبقات کے مفادات سے لاپروائی ، حقیقی ترقی سے دوری ، جملہ بازیوں ، دعوؤں اور جھوٹے خواب دکھانے اور ملک کو قوموں ،ذاتوں ، جاتیوں اور مذہبوں کے نام پر بانٹنے ، روزی روزگار چھیننے اور تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو ’پکوڑے بیچنے کا مشورہ دینے والے زہریلے سیاست دانوں‘ کا بھارت ہے ۔ یہ ’ نیا بھارت‘ ہندوتوادیوں کا بھارت ہے ۔ یہ ان کا بھارت ہے جو اسے ’ہندوراشٹر‘ میں تبدیل کرنے کا سپنا دیکھ رہے ہیں ۔ حقیقی ہندوستانیوں کا بھارت تو وہی ’پرانا بھارت‘ ہے جو چار سال قبل اپوزیشن کے انتشار اور کانگریس کی حماقت کے سبب سنگھ پریوار کی جھولی میں جاگرا تھا۔
مودی سرکار کے چار سالوں میں تشدد کا بول بالا ہی رہا ، چارسالوں میں نہ ہی تو مسلمان مین اسٹریم میں آپایا اور نہ ہی دلت اور پچھڑے طبقات ۔۔۔ کسان خودکشی کرتے رہے ، خواتین کا ریپ ہوتا رہا ، بچیاں بھی ریپ کی جاتی اور گلا گھونٹ کر ماری جاتی رہیں ۔ اور ان واقعات میں سنگھی وبھاجپائی دونوں ہی ملوث رہے ! چار سالوں میں مہنگائی کا گراف بڑھتا ہی رہا یہاں تک کہ اس نے آسمان کو چھولیا ۔۔۔ رہی بدعنوانی کی بات تو بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ سے لے کر ویاپم گھوٹالے کے قصوروار شیوراج سنگھ چوہان تک سنگھیوں کے دامن داغدار ہی نظر آئے ۔ نیروا مودی اور للت مودی کوئی غیر سنگھی تو ہیں نہیں ! کیگ نے کتنی ہی بی جے پی کی ریاستوں میں مالی ہیرا پھیر ی کی نشاندہائیاں کی ہیں! اور پھر اڈانی سے لے کر امبانی تک سب کے ساتھ بی جے پی کا ہاتھ صاف نظر آتا ہے ۔ یہ وہ دھنّا سیٹھ ہیں جن کے کروڑوں اربوں روپئے کے ٹیکس صرف اس لئے معاف کردیئے گئے ہیں کہ وہ ’ مودی نواز‘ ہیں ۔ اور سب سے بڑی لوٹ ’نوٹ بندی‘ کو اور عوام کی جیبوں پر ڈاکےکے قانون ’ جی ایس ٹی‘ کو کوئی کیسے فراموش کرسکتا ہے ۔ یہ دو ایسے عوام مخالف کام ہیں اس سرکار کے جن کے سبب عوام نے بھی دم توڑا ، اور ’وکاس‘ نے بھی۔ یہ سرکار بات تو ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کی کرتی رہی ہے پر سب کا ساتھ نہ تو اس نےلیا اورنہ دیا ۔ اور وکاس کیا بھی اگر تو نہ ملک کا اور نہ ہی عوام کا بلکہ اپنے ہمنواؤں کا ۔۔۔ اب تو اس کا یہ نعرہ بھی بدلنے والا ہے ، ایک نیا نعرہ سامنے آیا ہے ’ صاف نیت صحیح وکاس‘!
’صاف نیت ‘ کتنی صاف ہے اس سوال کا جواب کرناٹک اسمبلی الیکشن اور حکومت سازی کے لئے نریندر مودی کے ’ دستِ خاص‘ امیت شاہ کی ’ بھاگم بھاگ‘ سے خوب مل جاتا ہے ۔ جب کرناٹک میں کانگریس اور جنتا دل سیکولر ( جے ڈی ایس) کی سرکار بن گئی تو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی زبان سے یہ جملے نکلے تھے ’’اگر کانگریس اور جنتا دل سیکولر نے اپنے اراکین اسمبلی کو بند کرکے نہ رکھا ہوتا تو آج کرناٹک میں بی جے پی کی سرکار ہوتی۔‘‘ یہ جملے بی جے پی کی ’سیاسی اخلاقیات‘ کو مکمل طور پر عیاں کردیتے ہیں ۔ سیاست میں اخلاقی قدروں کا زوال یوں تو بڑاہی پرانا مرض ہے مگر جس تیزی کے ساتھ مودی حکومت میں ان قدروں کا زوال ہوا ہے کسی اور حکومت میں شاید ہی ہوا ہو ۔ کرناٹک میں ’ کھلے عام‘ ممبران اسمبلی کو خریدنے کی کوششیں کی گئیں ۔ بقول وزیراعلیٰ کرناٹک کماراسوامی سوکروڑ روپئے تک کی پیش کش کی گئی۔ اور کمارا سوامی کے اس الزام کو محض الزام نہیںکہا جاسکتا امیت شاہ نے یہ کہہ کر کہ اگر کانگریس اور جے ڈی ایس نے اپنے ممبران اسمبلی کو بند نہ رکھا ہوتا تو کرناٹک میں بی جے پی سرکار ہوتی یہ ثابت کردیا ہے کہ خزانے کا منھ پوری طرح سے کھول دیا گیا تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ آج ساری بی جے پی ،کیا وزیراعظم نریندرمودی ، کیا امیت شاہ ، کیا سنبت پاترا اور کیا روی شنکر پرساد سب ہی یہ کہتے پھررہے ہیں کہ کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی گٹھ جوڑ سرکار ’غیر اخلاقی سرکار‘ ہے ! مکمل اکثریت سے دورہوکربھی آج یہی دعویٰ ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی تھی۔ اب اعدادوشمار دیکھیں ، بی جے پی کو مجموعی طور پر 104 سیٹیں ملیں اس کے ووٹوں کا فیصد 36.2 رہا جبکہ کانگریس کو 78 سیٹوں پر کامیابی ملی اور اس کے ووٹوں کا فیصد 38 رہا ، اور اس کی حلیف جے ڈی ایس کو 37 سیٹوں پر کامیابی ملی ، اس کے ووٹوں کا فیصد 18.3 رہا ، ان دونوں کی مجموعی سیٹیں 115 ہوئیں اور ووٹوں کا مجموعی فیصد تقریباً 57 ہوا ۔‘ کہاں 104 اور کہاں 118 ، کہاں بی جے پی کا فیصد 36.2 اور کہاں حکمراں جماعتوں کا مجموعی فیصد 57۔ بی جے پی کے سارے دعوے غلط مگر دعویٰ پھر بھی یہی کہ وہی کرناٹک میں سب سے بڑی پارٹی تھی اور یہ سرکار ’ غیر اخلاقی سرکار‘ ہے !
دراصل بی جے پی نے منی پور ، گوا اور بہار میں جو کھیل کھیلا تھا وہی کھیل وہ کرناٹک میں بھی کھیلنا چاہتی تھی مگر اسے اس کے ہی کھیل میں کانگریس اور جے ڈی ایس نے متحد ہو کر پچھاڑ دیا ۔ یوں تو بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ ملک کی پندرہ ریاستوں میں ہیں مگر ان میں صرف دس ہی ریاستیں ایسی ہیں جہاں اسے مکمل اکثریت حاصل ہے ۔ سکم ، مینرورم اور تمل ناڈو کی اسمبلیوں میں تو اس کی نمائندگی تک نہیں ہے ۔ بہار میں اس نے توڑ جوڑ سے حکومت بنائی ہے۔ بہار کی 243 اسمبلی سیٹوں میں سے اس کے پاس صرف 53 سیٹیں ہیں ! میگھالیہ میں 60میں سے 2، جموں وکشمیر میں 87 میں سے 25 اور گوا میں 40 میں سے 13۔ اعدادوشمار دلچسپ ہیں ،ملک کی مجموعی 4139 اسمبلی سیٹو ںمیں سے بی جے پی کے پا س صرف 1516 سیٹیں ہیں او را ن میں بھی 950 ممبرانِ اسمبلی چھ ریاستوں ،گجرات ، مہاراشٹر، کرناٹک ، یوپی ، ایم پی اور راجستھان سے ہیں ۔ تو یہ ہے بی جے پی کے سارے ملک کے حکمراں ہونے کی حقیقی تصویر۔
آنے والے 2019 کے الیکشن میں یہ تصویر مزید صاف ہوسکتی ہے اگر اپوزیشن نے اسی اتحاد کا مظاہرہ کیا جو اس نے کرناٹک میں دکھایا ہے ۔ کماراسوامی کی حلف برداری میں ایک ہی اسٹیج پر تقریباً سارا حزب اختلاف اکٹھا تھا ۔2019ء کے الیکشن میں بھی ایسے ہی اتحاد کی ضرورت ہے۔۔۔ کانگریس کو بالخصوص اپنا دل بڑا کرنا ہوگا ، اسے کرناٹک کی اپنی غلطی کو دوہرانے سے باز رہنا ہوگا ۔ جے ڈی ایس سے اگر کانگریس نے انتخابی سمجھوتہ کیا ہوتا تو کرناٹک سے بی جے پی کا جنازہ نکل جاتا مگر کانگریس کو جے ڈی ایس کا خیال آیا بھی تو الیکشن کے بعد ۔ مگر یہ اچھا ہوا کہ اس نے دل بڑا کرکے کمارا سوامی کو وزیراعظم کی گدی سونپ دی ۔ پوری کوشش کرنی ہوگی کہ یوپی میں مایاوتی اتحاد سے باہر نہ جاسکیں ۔ اکھلیش یادو سے اتحاد بنارہے ۔ امیت شاہ کو مایاوتی اور اکھلیش کے اتحاد سے بڑا ڈر لگ رہا ہے ۔ اور صرف امیت شاہ اور مودی ہی نہیں یہ ایسا اتحاد ہے جس سے سارا سنگھ پریوار گھبرایا ، ڈرا اور سہما ہوا ہے ۔ بہار میں متحدہ جنتا دل کے لئے پورے دروازے کھلے چھوڑنا ہوں گے ۔ ایک بڑا مسئلہ ’وزیراعظم‘ کے سوال پر کھڑا ہوسکتا ہے بلکہ بی جے پی اس مسئلے کو کھڑا کرنے کی پوری کوشش کرسکتی ہے ۔ راہل گاندھی کوالیکشن سے قبل وزارتِ عظمیٰ کی گدی پر دعویٰ کرنے سے بچنا ہوگا ، اس گدّی پر دعویٰ کے لئے ساری اپوزیشن کی رائے لینا ہوگی ۔ ہندوتوا کے رتھ کو ، مودی کی اس ’لہر‘ کو جو کہ ہے نہیں مگر جو ہوسکتی ہے ، روکنے کے لئے سارے حزب ِ اختلاف کو قربانیاں دینا ہوں گی ۔ کرناٹک نے امید کی ایک جوت جگائی ہے کہ دولت اور طاقت کے زور کو اتحاد کی قوت سے پچھاڑا جاسکتا ہے ۔ اب شرط صرف متحد ہونے کی ہے ۔
یقیناً ابھی بی جے پی ، مودی اور امیت شاہ نے ہار نہیں مانی ہے ۔ بے پناہ دولت کے بل پر سنگھی ٹولہ 2019ء کے آنے تک بہت سے گھناؤنے کھیل کھیل سکتا ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات کا خطرہ برقرار ہے ۔ مندر مسجد کا مسئلہ شدت سے اٹھ سکتا ہے ۔ ذات پات اور مذاہب کی بنیاد پر خلیجیں مزید گہری کی جاسکتی ہیں۔ اور ایسے میں جبکہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤس سنگھیوں کے ہاتھوں بکے ہوئے ہوں جھوٹ کا پرچار آسان ہے ۔ کوبراپوسٹ نے بڑے بڑے اخباروں ، ٹی وی چینلوں اور میڈیا ہاؤسوں کے ’ بکنے‘ کا جو سنسنی خیز انکشاف کیا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اقتدار کے حصول کے لئے بی جے پی اور اس کے رہنما اخلاقی قدروں کو کیسے روندنے پر تلے ہوئے ہیں اور کیسے لالچ میں وہ میڈیا ہاؤس بھی جوکبھی ’سچ کی اعلیٰ مثال‘ تھے جھوٹ بولنے اور لکھنے پر آمادہ ہیں ۔۔۔۔ چاہے ان کے جھوٹ سے ملک زوال کی انتہائی گہرائیوں تک کیوں نہ پہنچ جائے اور چاہے ملک کے بے شمار باشندے فرقہ واریت کی بھینٹ ہی کیوں نہ چڑھ جائیں ۔ لیکن ان حالات میں کرناٹک نے راہ دکھائی ہے اور بس اب وہی ایک راہ ہے جس پر چل کر اپوزیشن سنگھی ’ عفریت‘ کو پچھاڑ سکتا ہے اور کرناٹک سے مودی سرکار کی جوالٹی گنتی شروع ہوئی ہے اسے انجام تک پہنچاسکتا ہے ۔
(بصیرت فیچرس)