بی جے پی حکومت کی ناکام کارکردگی کے چار سال

بی جے پی حکومت کی ناکام کارکردگی کے چار سال

مکرمی!
26مئی2014 آج ہی کے دن نریندر مودی نے مرکزی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم کا حلف لیا تھا، اتنی بڑی اکثریت حاصل کرنا اور حکومت بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے، اس کے پیچھے ای وی ایم کی جادوگری بھی کارفرما ہے جو بہت ہی منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا جس میں مرکزی کردار سنگھیوں کا ہے جن کا مقصد ہندو راشٹر بنانا ہے، اس کے لئے آرایس ایس کی مختلف تنظیمیں الگ الگ فیلڈ میں منصوبہ بند طریقے سے کام کر رہی ہیں۔جس میں موجودہ حکومت پوری طرح شامل ہے۔لیکن بی جے پی اپنے تمام وعدوں میں ناکام دیکھائی دے رہی ہے جو بھی وعدے عوام سے کئے تھے اس میں سے کسی ایک کو بھی پورا نہیں کیا ، سسٹم میں ایسے لوگوں کو داخل کیا گیا جو برہمن واد کے حامی ہیں جس کا مقصد سنگھ کو مضبوط بنانا ہے اور اسکے ساتھ اپنی شناخت کو چھپا کر خودکو اور اپنی حکومت کو سیکولر بتانا ہے،2014 کےانتخابات سے قبل عوام کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کیلئے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو خریدا گیا ، اسی طرح 2019کے انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے پھر سے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کیلئے میڈیا کو خریدلیا ہے جس کا انکشاف کوبرا پوسٹ کے اسٹینگ آپریشن ۱۳۶ میں باقاعدہ چینلوں اور اخبارات کے نام کے ساتھ کیا گیا ہے، جس کی پہلی فہرست کچھ مہینے قبل سامنے آچکی ہے، ٹائمس ناؤ، ریپبلک ٹی وی،راجیہ سبھا ٹی وی، ڈی این اے، انڈیا ٹی وی، دینک جاگرن، پنجاب کیسری، ہندی خبر، سب ٹی وی، سماچار،ریڈف ڈاٹ کام، انڈیا واچ، آج، سادھنا پرائم نیوز، وغیرہ کا پردہ فاش کیا گیاہے ۔ اسی طرح گزشتہ روز کوبرا پوسٹ نے بکاؤ میڈیا کی دوسری لسٹ میں Times Of India ٹائمس آف انڈیا،Zee News زی نیوز، The New Indian Express, دی نیو انڈین ایکسپریس،ABP News، اے بی پی نیوز،،Hindustan Times, ہندوستان ٹائمز*Radio One ریڈیو وَن*Red FM, ریڈ ایف ایم**Network 18، نیٹورک ۱۸، Big FM, بگ ایف ایم،Lokmat, لوک مت،ABN Andhra, اے بی این آندھرا،Open Magazine, اوپن میگزینStar India, اسٹار انڈیا، ان تمام میڈیا ہاؤس کا انکشاف کیا ہے، جسمیں کوبرا پوسٹ کے اسٹینگ آپریشن میں ان میڈیا ہاؤسز کو پیسہ کا آفر دے کر نفرت پھیلانے والا مواد دیکھانے کیلے کہا گیا ہے اور اس پر وہ تمام تیار ہوگئے جس کے ذریعے ان بکاؤ میڈیا کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے کہ حکومت میں موجود سنگھی اپنے مشن کیلئے کس حد تک جاسکتے ہیں، حال ہی میں ہوئے کرناٹک کے انتخابات میں بی جے پی حکومت کی ہٹ دھرمی دیکھنے کو ملی جہاں کہ گورنر سے انکے پرانے تعلقات تھے اس لئے وہاں بی جی پی کی اکثریت ثابت کرنے سے قبل ہی یدی یورپا نے وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تھا لیکن اپوزیشن کے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے کیلئے ۲۴ گھنٹے دیے گئے تھے ، جس میں فلورٹیسٹ سے قبل ہی یدی یورپا نے استعفیٰ دے دیا تھا، منہ کی کھانے کے باوجود امیت شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس اگر ودھایکوں کو ہوٹل میں بند نہ کرتی تو حکومت ہماری ہوتی ، یعنی ودھایکوں کو خریدنے کی پوری کوشش کی گئی تھی کھلے عام بدعنوانی دیکھائی دینے کے باوجود الیکشن کمیشن خاموش رہا، سسٹم میں تمام سنگھی بیٹھے ہوئے ہیں، ملک کی سیکولر عوام اگر اب بھی متحد نہیں ہوتی ہیں تو ملک کی جمہوریت کو بڑا خطرہ لاحق ہونے کا قوی امکان ہے، بی جے پی اپنے انتخابی منشور میں موجود کسی بھی کام کو پورا نہیں کر پائی، جس کے بل پر بی جے پی اقتدار میں آئی تھی جس میں اہم عنوان رام مندر کی تعمیر تھا، اور کالے دھن کی واپسی تھا، اور بھی بہت سارے چھوٹے وعدے کئے گئے تھے، اگرآج کے ہندوستان کو دیکھا جائے تو ہر شخص پریشان دیکھائی دیگا جس میں سب سے زیادہ متاثر متوسط طبقہ ہے، غریبوں کی حالت تو بد سے بد تر ہوچکی ہے، عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے، ہر کوئی حکومت کو گالیاں دے رہا ہے ، لیکن ان بے شرموں پر کوئی بھی اثر نمایاں نہیں ہوتا، نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیکر گھوم رہے ہیں، خواتین کی عزتیںو عصمتیں محفوظ نہیں ہیں، ایک طرف سنگھی ذہنیت کے لوگ گائے کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں، کہیں فرقہ پرست عناصر ماحول کو خراب کرنے میں لگے ہیں، حق بولنے اور لکھنے والوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، اگر ملک کی ایکتا کو برقرار رکھنا ہے، ملک کو خانہ جنگی سے بچانا ہے، دم توڑتی جمہوریت کو بچانا ہے تو عوام کو بلا تفریق مذہب ان فرقہ پرستوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے، اور آنے والے انتخابات میں سیکولر پارٹیوں کو اقتدار میں لانا ہوگا۔ جس طرح سے ملک کو خاموشی کے ساتھ دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کیا جارہا ہے اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جو حالت آج ملک کی ہوگئی ہے، آنے والے کچھ سالوں میں اور بھی خراب ہوسکتی ہے۔
ذوالقرنین احمد
(مہاراشٹر۔انڈیا)