تازه ترين

ضد کیوں؟

ضد کیوں؟

جناب ایڈیٹر صاحب السلام علیکم
سحر میں مائیک کے استعمال پر ضد کیوں، دس منٹ باقی،پانچ باقی ہے، کلی کرلیجئے اور آخر میں اذان بھی فل آواز میں.
دوستوں:صبح ساڑھے تین بجے سے سحری کے لیے مائیک لاؤڈ-اسپیکر کا استعمال کرنا کہاں تک درست ہے؟
آپ کے روزے سے پڑوسی کے غیر مسلموں کو کیا لینا دینا ہے؟ بعض مساجدکے پاگل لوگوں نے تو حد کردی، ہر دس منٹ پر چلانا شروع کردیتے ہیں کہ اٹھئے سحر کا وقت ہو گیا ہے، آدھا گھنٹہ باقی ہے……. اسلام میں پڑوسیوں کو تکلیف دینا حرام ہے. اکثر علاقوں میں ہندو مسلم آبادی والے مشترکہ محلے ہوتے ہیں، انہیں تکلیف ہوتی ہے.وہ لوگ اگر مندروں میں ساڑھے تین بجے سے بھجن کرتن شروع کردیں تو پھر کیا ہوگا. ہمارے مؤذنین حضرات تو کچھ زیادہ ہی زیادتی کرتے ہیں، صبح کے وقت ماحول میں خاموشی ہوتی ہے، تھوڑی اور کم آواز بھی فضا میں دور دور تک پہنچتی ہے، ہم لوگ پوری طاقت اور فل آواز میں لاؤڈ-اسپیکر میں اذان دیتے ہیں. اس سے ہر حال میں پرہیز کرنا چاہیے.
اذان کا بھی معاملہ عجیب کردیا ہے، اگر ایک محلہ میں چار مسجدیں ہیں تو سب مائیک پر اذان دے رہے ہیں، پہلے تو دینا ہی نہیں چاہیے، اور اگر دے بھی دیئے تو ایک مسجد کی اذان کافی ہے، پر نہیں، ہم نہیں مانیں گے، جب انتظامیہ نوٹس جاری کرے گا یا پھر سونو نگم جیسا کوئی سر پھیرا اعتراض کرے گا تو ہم واویلا کریں گے.
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک لاؤڈ-اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے. دوسری بات یہ کہ میں صبح چھ بجے سے پہلے مائیک کے استعمال سے پرہیز کرنے کے بارے میں کہہ رہا ہوں، ہاں سردیوں کے موسم میں آپ دیجئے اذان رات بڑی ہوتی ہے سورج بھی دیر سے طلوع ہوتا ہے.
دوسری بات : اذان کے لیے بہترین آواز والوں کا انتخاب کریں تو بہتر ہوگا. چاہے اس کے لیے ہمیں مسجدوں کی زیبائش و آرائش پر کم خرچ کرنا پڑیں، قالین کی بجائے سادھی چٹائیوں پر نماز پڑھنا پڑیں، AC کی بجائے پنکھوں اور کلر پر کام چل جائے گا مگر آئمہ و مؤذنین کو اچھی تنخواہ دیں۔
مرزاعبدالقیوم ندوی
سیکرٹری تحریک اوقاف 9325203227 اورنگ آباد