ترکی اور یورپی یونین دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے

ترکی اور یورپی یونین دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے

بروسلز:31؍مئی(بی این ایس؍ایجنسی)
ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے کہا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کی اور یورپی یونین کو ترکی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین میں صرف چند ممالک ہی ترکی کی اس بلاک میں شمولیت کے خلاف ہیں۔ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے ڈی ڈبلیو کے پروگرام ’کانفلکٹ زون‘ میں گفتگو کے دوران کہا ہے کہ یورپ اور ترکی دونوں کو ہی ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ معروف پروگرام کانفلیکٹ زون کے میزبان ٹم سباستیان کے اس پروگرام میں انہوں نے ترکی اور یورپی یونین کے تعلقات، شام کی خانہ جنگی اور ترکی میں سن دو ہزار سولہ کی ناکام فوجی بغاوت کے علاوہ دیگر کئی اہم موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔مولود چاؤش اولو کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک ایسا رویہ ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے ترکی کو ہی یورپی یونین کی ضرورت ہے، جو بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کی اور یورپی یونین کو ترکی کی ضرورت ہے، ’’ہم اس بات سے باخبر ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ یورپی ممالک اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی میں سن دو ہزار سولہ کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے کئی یورپی ممالک کا بھی ہاتھ تھا، ’’تقریبا سبھی ممالک ہی شامل تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے پاس شواہد ہیں لیکن اس تناظر میں انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ مولود چاؤش اولو کا مزید کہنا تھا کہ انہیں تعجب ہے کہ اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد کوئی مغربی سیاستدان ترکی کیوں نہیں آیا۔
شامی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ شامی عوام کو ہی کرنا چاہیے، ’’یہ شامی عوام کا استحقاق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ملک کو رہنما کون ہو گا۔ اس لیے ہمیں اس ملک کو جمہوری انتخابی عمل کے لیے تیار کرنا ہو گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ترکی اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے یہ بھی کہا کہ شام میں قیام امن کی خاطر انقرہ حکومت نے روس کے ساتھ کام کرنا بھی شروع کر دیا ہے جبکہ اس میں ایران کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو یہ پسند آئے یا نہ لیکن ایران بھی اس معاملے میں ایک اہم فریق ہے‘۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ترک حکومت کو ایران کے ساتھ متعدد اختلافات بھی ہیں، جن میں بشار الاسد کا معاملہ بھی شامل ہے۔ مولود چاؤش اولو کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی ملک یا شخص کے ساتھ مل کر کام کیا جاتا ہے تو لازمی نہیں کہ تمام معاملات پر ہی اتفاق کر لیا جائے۔