تازه ترين

’قیادت سے برگشتہ کرنے کی سازش‘

’قیادت سے برگشتہ کرنے کی سازش‘

نازش ہما قاسمی
جو قوم اپنے مذہبی رہنماوں سے بدظن ہوجاتی ہے اس کے مقدر میں ذلت اور طویل غلامی لکھ دی جاتی ہے۔۔۔!
۔۔۔منکووووووول۔۔۔
ہندوستان میں ہورہی سیاسی تبدیلی نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے، جتنا ملک کا مستقبل داؤ پر لگا ہے اس سے کہیں زیادہ مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے، مسلم اقوام کے خلاف زبان درازی اور بیان بازی چند سر پھرے لوگوں کا بہترین مشغلہ بن چکا ہے، کسی نہ کسی صورت میں ان بے لگام دشنام طرازوں کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ کبھی خاطر خواہ ان کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ ایسے افراد کو عموما عہدوں سے نوازا جاتا ہے، اور انہیں مزید وسائل فراہم کئے جاتے ہیں؛ تاکہ بہتر طور پر زہر افشانی کے پیغام کو عام کیا جاسکے۔ایسی صورت میں مسلمانوں کیلئے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے، مسلمانوں کو ایک ٹھوس اور مضبوط پلاننگ کی ضرورت ہے، جس کے نتائج اگر فوری نہ بھی آئیں؛ لیکن جب آئیں تو کم از کم دیرپا ہوں، ایسے امور کا زیر بحث آنا ضروری ہے جس نے مسلم عوام میں شکوک و شبہات کی لہر پیدا کردی ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ ایسی صورت حال پیدا کردی جاتی ہے اور اس طرح عوام الناس کے اذہان سے کھیلا جاتا ہے کہ وہ مزید سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں، موجودہ دور میں ہر کوئی اس بات پر شاکی ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے، یا قائد میں قائدانہ صلاحیت نہیں ہے، ہر کوئی قیادت کے متعلق فکر مند ہے، سب مخلص ہیں؛ لیکن پریشانی یہ ہے کہ ہم نے اب تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ ہمارا قائد کیسا اور کون ہونا چاہئے۔ پہلے تو یہ بات ذہن نشین ہو کہ ہمیں کن سمتوں میں قیادت کی ضرورت ہے، کن شعبہ حیات میں ہم قائد کے بغیر ادھورے ہیں۔ قائد پیر و مرشد بھی ہوا کرتے ہیں جو اپنے متوسلین کی راہنمائی کرتے ہیں، شرعی حدود کا پابند رہ کر دیگر افراد کو بھی اس کام کیلئے تیار کرتے ہیں۔ علماء کرام بھی دینی امور میں قائد کی حیثیت رکھتے ہیں، امور شرعیہ اوامر و نواہی کا ادراک نئے مسائل کا استنباط، دور جديد کے فتنے ان تمام امور میں علماء کرام کی قیادت بہت ضروری ہے۔ میدان سیاست میں قائد کی ضرورت، ایسا قائد جس کے رگ و پا میں سیاست رچی بسی ہو اور وہ مسلمانوں کے تئیں مخلص بھی ہو۔ ان کے علاوہ بھی اگر ہم تقسیم در تقسیم کریں تو مزید شاخیں نکلینگی؛ لیکن مذکورہ تین امور ایسے ہیں جو ہر ہر فرد کی ذاتی زندگی سے متعلق ہیں ، کوئی بھی شخص ان کے بغیر اپنا درست اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ جو حضرات خانقاہ سے وابستہ ہیں ان سے سیاسی امور پر بات چیت کرنا فضول ہے؛ کیوں کہ وہ اس میدان کے فرد نہیں ہیں ، ہوسکتا ہے کہ شخص واحد میں دونوں اوصاف جمع ہوجائیں؛ لیکن ایسا ہر کسی کے ساتھ ہو ممکن نہیں ہے۔ علماء کرام کا اس امت پر بڑا احسان ہے، خصوصا ملک ہندوستان میں علماء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ ہم آج بھی اسلام اور مسلمان سے واقف ہیں، ہمارے ملک میں عموما علماء نے میدان سیاست سے دوری اختیار کئے رکھا ہے، وہ کبھی عملی سیاست میں تو نہیں آئے البتہ ملی سیاست میں علماء نے ہر طرح سے مسلم قوم کو سنبھالا ہے. عموما ہمارے علماء کسی غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ ہوکر ہی ان امور کو انجام دیتے ہیں، یوں بھی ہمارے ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ تمام تنظیمیں غیر سرکاری ہیں، اس لئے کبھی کبھار انہیں بھی کام کرنے میں دشواریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور کبھی انہیں دشواریوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے، یہ تنظیمیں مسلمانوں کیلئے بہت بڑی نعمت ہیں ۔ ہندوستان جیسے ملک میں سیاسی میدان کیلئے مسلمانوں کے پاس افراد کی کمی ہوسکتی ہے، لیکن جو بھی ہیں غنیمت ہیں ، ہمیں ان سے بات چیت کرکے مزید مسائل کی جانب توجہ دلانے کی ضرورت ہے، بشری تقاضا ہے کہ جب تک آپ ان سے براہ راست گفتگو نہیں کریں گے معاملہ میں پختگی نہیں آئے گی۔
مسلمانوں کیلئے یہاں سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج عوام کے اذہان میں علماء کی قیادت کے متعلق شکوک و شبہات بھر دیئے گئے ہیں، خصوصا وہ علماء کرام جو ملی مفاد کیلئے سرگرم ہوتے ہیں، ان کے طریق کار پر انگشت نمائی کی جاتی ہے، انہیں عجیب و غریب قسم کے القاب سے نوازا جاتا ہے، ان کی بے لوث خدمت کو سراہنے کے بجائے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تنقید برائے تنقید نہیں؛ بلکہ تنقیص و تحقیر ہوا کرتی ہے، جس میں طریقہ کار پر کم اور ذاتیات پر زیادہ حملہ ہوا کرتا ہے، بلکہ بسا اوقات بعض نادان دوست تو ذاتی زندگی کو بھی موضوع بحث بنا لیتے ہیں. ممکن ہے آپ کو یا ہمیں ان کا طریقہ کار پسند نہ ہو، اور یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہر کسی کو ہر کسی کا کام پسند آئے، اگر ہمیں کام پسند نہیں ہے تو ہم براہ راست رابطہ کی کوشش کریں؛ کیوں کہ آج جو کچھ مسلم قوم میں رمق دمق ہے یہ انہیں علماء کرام کی شبانہ روز محنتوں کا نتیجہ ہے، جو ہفتوں مہینوں تک مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے سفر در سفر کرتے ہیں، جو اپنی پیرانہ سالی کے باوجود سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہیں، دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف گردانتے ہوئے بروقت پہونچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اب تک کے حالات اس بات پر گواہ ہیں کہ ان مخلص علماء کرام نے کبھی عوام کو مایوس ہونے نہیں دیا ہے، انہوں نے کبھی گھبرا کر قوم کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا ہے، اور آج بھی مسلمانوں کی امیدیں انہیں اللہ والوں سے وابستہ ہیں؛ کچھ مخلص احباب وقتی جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں، ان کی تحریریں جذبات سے پُر ہوا کرتی ہیں، جو یقینا وقتی طور پر دل کی تسکین کا باعث تو ہوسکتی ہیں؛ لیکن نتائج کے اعتبار سے بہت مہلک ہوا کرتی ہیں ۔
چونکہ ہم میں سے اکثر وہ ہیں جنہیں ان کاموں کے کرنے کا تجربہ نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو وہ کسی نہ کسی طور پر انہیں اکابرین کے زیر سایہ ہیں، اس لئے ہمیں ان سرکاری داؤ پیچ اور اصول و قواعد سے واقفیت نہیں ہے، اور نہ ہم کبھی اس کی کوشش کرتے ہیں، فرصت کے اوقات میں وہاٹس ایپ فیس بک اور دیگر سوشل سائیٹس پر چند لکیریں کھینچ کر ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ “سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے” ۔ علماء کا نوجوان طبقہ جو سوشل میڈیا سے وابستہ ہے، ہمیں معلوم نہیں کیوں اسے ہر بات میں اپنی رائے پیش کرنے کی لَت لگ گئی ہے، اور ہمارے الفاظ اس قدر غیر اخلاقی ہوا کرتے ہیں کہ دیگر شعبوں سے منسلک افراد بھی حیرت کرتے نظر آتے ہیں، ہمارے اس رویہ نے ہماری رہی سہی عزت کو بھی داغدار کردیا ہے؛ کیوں کہ جب ایک عالم دین دوسرے عالم کی ذاتیات پر حملہ کرے، اسے بے عزت کرے اس کے خلاف ہفوات بَکے اور یہ سب کچھ کسی بند کمرہ میں نہیں؛ بلکہ عالمی پلیٹ فارم پر تو پھر ہمیں یقین کرلینا چاہئے کہ ہماری تحریر جن لوگوں کی نظر سے گزرے گی وہ دونوں سے بدظن ہونگے ، صاحب تحریر سے اور جن کے متعلق لکھا گیا ہے ان سے بھی۔ چند سالوں قبل تک علماء کے خلاف باضابطہ مضمون نگاری کی جسارت کرنا ممکن نہیں تھا، اور جن لوگوں نے ایسا کیا تھا انہیں علماء نے نہیں؛ بلکہ عوام نے بھی ہمیشہ کیلئے مسترد کردیا تھا؛ لیکن ہماری نادانی و نااہلی کی بنیاد پر ایسے افراد جو اپنے معاملات میں خود گردن تک مشکوک ہیں باضابطہ اب نام لیکر مضامین لکھ رہے ہیں، حالانکہ اگر ان سے دلیل کی بات کی جائے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں؛ کیوں کہ انہوں نے کچھ پڑھا لکھا نہیں ہوتا ہے، کچھ سوچا نہیں ہوتا ہے، ان کے اپنے افکار و خیالات نہیں ہوتے ہیں؛ بلکہ یہ ہماری ان تحریروں کا نتیجہ ہوتا ہے جنہیں ہم جذبات میں لکھ جاتے ہیں۔ فیصلہ آپ خود کیجئے کیا یہ بیداری ہے یا بیماری ہے۔ اب کوئی محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی نہیں آنے والا ہے، دنیا میں بسنے والے تمام افراد انسان ہیں بشمول ملی قائدین کے، کوئی فرشتہ ہماری قیادت کیلئے نہیں بھیجا جائے گا، آج جو باحیات ہیں وہ اس زمانہ میں لاکھ لاکھ غنیمت ہیں ، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کی قدر کریں ورنہ ہمارا رویہ ایک دن ہمیں اپنے علماء سے دور کردے گا اور علماء سے دوری دین و دنیا دونوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ یہ قیادت سے برگشتہ کرنے کی ایک سازش ہے؛ تاکہ عوام کا خواص (علمائے دین) سے رشتہ توڑ دیا جائے اور پھر انہیں شکوک و شبہات میں مبتلا کرکے اسلام سے دور کردیا جائے؛ تاکہ وہ کسی قابل نہ رہیں اور غلامی کی زندگی فخریہ گزاریں ،اگر مسلم عوام اپنی قیادت سے بدظن ہوکر برگشتہ ہوگئے تو پھر اس ملک کو مسلمانوں سے پاک کرنا ایک دم آسان ہوجائے گا۔
(بصیرت فیچرس)