تازه ترين

شہباز شریف سپریم کورٹ کو خدا حافظ کہہ کر چلے گئے

شہباز شریف سپریم کورٹ کو خدا حافظ کہہ کر چلے گئے

لاہور :4؍جون(بی این ایس؍ایجنسی)
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اتوار کے روز صوبہ پنجاب کی چھپن کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وزیر اعلٰی پنجاب کو طلب کیا کہ وہ خود حاضر ہو کر بتائیں کہ افسران کو لاکھوں روپے تنخواہ کیوں دی جا رہی ہے۔ اس دوران چیف جسٹس ثاقب نثار اور وزیراعلٰی پنجاب کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
طلب کیے جانے بعد شہباز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ دو گریڈ 18 کے افسروں مجاہد شیر دل اور کیپٹن ریٹائرڈ عثمان یونس کو کیوں اتنی تنخواہوں میں کمپنی میں رکھا؟ وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ ایسی کمپنیاں پہلی بار نہیں بنائی گئیں، ماضی میں بھی ایسی کمپنیاں بنائی گئی تھیں اور یہ کمپنیاں ملک بھر میں بنی ہوئی ہیں۔ شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ وہ مانتے ہیں کہ صاف پانی کمپنی میں پیسے ضائع ہوئے لیکن انہوں نے اس میں 70 ارب روپے بچائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وزیراعلٰی فیل ہو تو وہ خود مستعفی ہو جاتا ہے۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ رمضان ہے وہ سچ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے 160 بلین روپے اس قوم کے بچائے اور تنخواہیں دینے کا فیصلہ انہوں نے نہیں کیا بلکہ فنانس ڈپارٹمنٹ نے کیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہیں کسی کتے نے نہیں کاٹا تھا کہ پیسے بچانے کے لیے مارا مارا پھرتا رہوں۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ زبان سوچ کر استعمال کریں۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ وہ عدالت میں ایسی زبان استعمال کرنے پر معذرت خواہ ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ وہ پھر بتا رہے ہیں کہ تنخواہوں کا نوٹیفکیشن انہوں نے نہیں محکمہ خزانہ نے کیا تھا جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالت آپ کے جواب سے مطمئن نہیں۔
اس پر شہباز شریف نے کہا کہ آپ بڑی عدالت کے جج ہیں۔ ہماری کارکردگی دیکھیں۔ آج یہ کمرہ ٹھنڈا ہے انہی پاور پراجیکٹس کیبوجہ سے جس میں ایک سو ساٹھ ارب بچائے۔ شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ اور نندی پور میں قوم کے پانچ سو ملین روپے ضائع ہوئے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سب کام آؤٹ سورس کیا ہوا ہے جس سے حکومت کا کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ تو پرائیویٹ جہاز بھی استعمال کرتے ہیں تو اس کا کرایہ اپنی جیب سے دیتے ہیں۔ اگر کسی ایک بھی منصوبے میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو عدالت جو مرضی سزا دے دے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ لوگ آپ سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں جس پر شہباز شریف نے درخواست کی کہ مجھے بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ آپ جو بھی رولنگ دیں گے قبول ہوگی۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نہ بھی کریں تو آپ کو بات کرنی ہوگی۔ ملک میں قانون کی عملداری چلے گی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے عوام سے کیا گیا کون سا وعدہ پورا کیا جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں نے 160 ارب روپے کی بچت کی اور ایک دھیلہ بھی کم ہو تو جو مرضی سزا دیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں آپ کے احتساب کے لیے نہیں بیٹھا، احتساب کے لیے کوئی اور ادارہ ہے۔ وہ اپنا کام کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے قبول ہے۔ آپ ملک کی عدالت کے سب سے بڑے جج ہیں۔ میرے خلاف کرپشن کا ایک دھیلہ بھی نکل آئے تو سزا کے لیے تیار ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنی ذات کو کیوں بار بار لے آتے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں نے آپ کو مخصوص سوال کے جواب کے لیے بلایا ہے۔ کمپنیوں میں پچیس پچیس لاکھ پر ان لوگوں کو کیوں رکھا گیا۔
چیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “میں آپ کے جواب سے غیرمطمئن ہوں۔ یہ پیسہ واپس آنا چاہیے چاہے آپ کریں یا جن لوگوں نے یہ پیسہ لیا ہے۔ ہم آپ سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ اتنی زیادہ تنخواہیں کیوں دیں؟ یہ عوام کا اور ٹیکس دینے والوں کا پیسہ ہے۔ آپ تو خود اتنا ٹیکس بھی نہیں دیتے”۔
جس پر وزیراعلٰی پنجاب نے جواب دیا، جو ہے وہ یہی ہے۔ آپ مجھے کل دوبارہ بلا لیں۔ میں تیاری کر کے آ جاؤں گا۔ یہ کہہ کر شہباز شریف سپریم کورٹ کو خدا حافظ کہہ کر چکے گئے۔