تجارتی جنگ کے نتیجے میں کسی کو فائدہ نہیں ہوتا

تجارتی جنگ کے نتیجے میں کسی کو فائدہ نہیں ہوتا

واشنگٹن :4؍جون(بی این ایس؍ایجنسی)
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دھاتی برآمدات پر ٹیرف لگانے اور چین کے لئے محصولات میں اضافے کی دھمکی کے اثرات کے بارے میں دو ممتاز ماہرین معاشیات۔ ورلڈ بنک کے سابق سینئر عہدیدار شاہد جاوید برکی اور پیرس یونیورسٹی کے ڈاکٹر عطا محمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے۔
شاہد جاوید برکی کا کہنا تھا کہ ماہرین معاشیات اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ برآمدی سیکٹر کو استعمال کر کے عالمی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ غربت کو دور کرنے کی راہ بھی اختیار کی جاسکتی تھی۔ ان ماہرین کا اندازہ تھا کہ بین الا قوامی ٹریڈ سسٹم کھلا رہے گا اور پابندیاں بتدریج ختم ہوتی جائیں گی اور اسکا ترقی پذیر ملکوں پر اچھا اثر پڑے گا جو برآمدات کو اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے استعمال کر سکتے تھے۔ اب یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے اور اس جنگ میں کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی ماہرین معاشیات اب یہ کہ رہے ہیں کہ اس سے امریکی ملازمتیں محفوظ نہیں بلکہ تباہ ہونگی۔
ڈاکٹر عطا محمد کا کہنا تھا کہ صورت حال اچھی نہیں ہے۔ امریکہ اور یورپی ملکوں کے درمیان اختلافات بڑھتے جارہے ہیں اور اس کا ثبوت جی۔سیون کا اجلاس ہے جو کوئی مشترکہ بیان جاری نہ کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کے وزیر خارجہ متنبہ کر چکے ہیں کہ تجارتی جنگ کا آغاز ہو رہا ہے اور یورپی ملکوں نے بھی جوابی کارروائی کے لئے اُن چیزوں کی ایک فہرست تیار کر لی ہے جو امریکہ برآمد ہوتی ہیں اور جن پر وہ ڈیوٹی لگائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے بھی سخت رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عطا نے کہا کہ اب نئے اتحاد بنیں گے اور نئے معاہدے وجود میں آئیں گے۔ کینڈا نے اپنا زیادہ رجحان یووپی یونین کی طرف کرلیا ہے اور چین اور یورپی یونین بھی قریب آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کا فائدہ روس اور چین کو ہو گا۔ خاص طور سے چین کو زیادہ فائدہ ہو گا اور اس کے جو سلک روڈ منصوبے ہیں ان سے وہ فائدہ اٹھائیں گے اور چین کے لئے وہ مارکیٹ بھی کھل جائے گی جو پہلے اس کے لئے بند تھی۔