اس سے پہلے کہ شام ہوجائے!

اس سے پہلے کہ شام ہوجائے!

اس سے پہلے کہ شام ہو جائے!

 

*چاند سے محروم کمیٹی*

 

مولانا فضیل احمد ناصری

استاذ حدیث و نائب ناظم تعلیمات جامعہ امام انور شاہ دیوبند

 

چاند اور سورج یہ دونوں ایسے سیارے ہیں جو اوقات و حساب دانی کے بہت کام آتے ہیں۔ اللہ نے چاند کی اہمیت بیان کرتے ہوئے *ھی مواقیت للناس والحج* فرمایا۔ سورۂ رحمٰن میں ان دونوں کا تذکرہ ایک ساتھ یوں کیا *الشمس و القمر بحسبان* ۔ غرض اور دیگر فوائد کے ساتھ ان کا ایک بڑا اور عظیم فائدہ تاریخ و حساب دانی بھی ہے۔ پورا کیلنڈر انہیں کے ارد گرد گردش کرتا ہے۔ ان دونوں میں ایک نمایاں فرق یہ بھی ہے کہ سورج کی رنگت اگرچہ ضرور بدلتی ہے، مگر اس کا قد سال کے بارہ مہینے یکساں رہتا ہے، خاص بات یہ کہ اس کے طلوع کے لیے وجودِ نہار بھی ضروری ہے، جب کہ چاند آفتاب سے اکتسابِ نور کے باوجود گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ آج کوئی جسم کی ساخت اور ہے اور کل کوئی اور ۔ شبِ اول سے پندرہویں تک اس کا قد مسلسل بڑھتا ہے، پھر گھٹنا شروع۔ اس میں روز ہی تجدید ہوتی ہے، اسی لیے سورج کا مشہور نام عربی میں ایک ہی ہے، لیکن چاند کے کئی۔ سورج کے لیے الشمس ہے اور چاند کے لیے ہلال، تربیع، قمر، بدر وغیرہ ۔ پہلی رات کا چاند ہلال کہلاتا ہے جب کہ چودہویں کا بدر۔ قرآنی ٹکڑے *یسئلونک عن الاھلۃ* میں مذکور *اھلۃ* اسی ھلال کی جمع ہے۔ اس جگہ مرزا غالب کا شعر بھی تازہ کر لیجیے، وہ اپنی محبوبہ سے چاند کے اختلافِ احوال کی وجہ بتاتے ہوئے کہتا ہے ؎

 

ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال

آستانے پہ ترے ناصیہ سا ہوتا ہے

 

*چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے ہی دیکھ کر افطار*

 

روزے کے سلسلے میں پیغمبرﷺ کی واضح ہدایت ہے کہ چاند دیکھ کر اپنے معمولات جاری رکھو۔ فتاویٰ دارالعلوم میں ہے کہ:

ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺁں حضرت ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ :

ﻻﺗﺼﻮﻣﻮﺍ ﺣﺘّﯽ ﺗﺮﻭﮦُ ﻭﻻﺗﻔﻄﺮﻭﺍ ﺣﺘّﯽ ﺗﺮﻭﮦ ﻓﺈﻥ ﻏﻢَّ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﻓﺎﻗﺪﺭﻭﺍ ﻟﮧ ․ ‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺝ ۱ / ۲۵۶ ‏)

ﺭﻭﺯﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺟﺐ ﺗﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﺴﺘﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮕﺎ ﻟﻮ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺗﯿﺲ ﺩﻥ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﻟﻮ ‏) ۔

ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ:

ﺍﻟﺸﮩﺮ ﺗﺴﻊٌ ﻭﻋﺸﺮﻭﻥ ﻟﯿﻠﺔ، ﻓﻼ ﺗﺼﻮﻣﻮﺍ ﺣﺘّٰﯽ ﺗﺮﻭﮦ ﻓﺎﻥ ﻏُﻢَّ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﻓﺎﮐﻤﻠﻮﺍ ﺍﻟﻌﺪَّﺓّ ﺛﻼﺛﯿﻦ ․ ‏( ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺝ : ۱ / ۲۵۶ ‏)

ﻣﮩﯿﻨﮧ ‏( ﯾﻘﯿﻨﯽ ‏) ﺍﻧﺘﯿﺲ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻮ ﺟﺐ ﺗﮏ ‏( ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ‏) ﭼﺎﻧﺪ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﭼﺎﻧﺪ ﻣﺴﺘﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ‏( ﺷﻌﺒﺎﻥ ‏) ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺗﯿﺲ ﺩﻥ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺳﻤﺠﮭﻮ۔

ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﺐ ﻣﺴﺘﻨﺪ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﺤﺪﺙ ﻧﮯ ﮐﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ان ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺪﺍﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﺭﻭﯾﺖ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﻔﻆ ” ﺭﻭﯾﺖ “ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ : ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ “ ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺠﺎﺯ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﺍﺱ ﺍﺭﺷﺎﺩِ ﻧﺒﻮﯼ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺣﮑﺎﻡِ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﺟﻮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻡ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ۔ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺪﺍﺭِ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺍﻓﻖ ﭘﺮ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺭﻭﯾﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻓﻖ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮ؛ ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻗﺎﺑﻞِ ﺭﻭﯾﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﻮ ﺍﺣﮑﺎﻡِ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔

ﺗﺮﻣﺬﯼ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ : ﺍﻥ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﯾﻮﻡ ﺗﺼﻮﻣﻮﻥ ﻭﺍﻟﻔﻄﺮ ﯾﻮﻡ ﺗﻔﻄَﺮﻭﻥ ﻭﺍﻷﺿﺤﯽ ﯾﻮﻡ ﺗﻀﺤﻮﻥ ‏( ﺗﺮﻣﺬﯼ ﺷﺮﯾﻒ ۱ /۱۵۰ ‏) ﯾﻌﻨﯽ ﺭﻣﻀﺎﻥ، ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ ﺍﻻﺿﺤﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺩ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ۔ انتہیٰ کلامہ

 

یہ اور ان جیسی احادیث کے پیشِ نظر علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ رؤیتِ ہلال کے بعد ہی رمضان مانا جائے گا، بغیر رؤیت رمضان ہی کیا، کسی بھی ماہ کا کوئی تصور نہیں۔ لیکن دنیا بڑی ہے، اس کی پہنائیاں بے پناہ ہیں، چاند کہیں آج طلوع ہوتا ہے، کہیں کل۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر آدمی کی نظر میں وہ آ بھی جائے، اسی لیے شریعت نے رؤیتِ ہلال کے ثبوت کی چند شکلیں رکھیں:

 

۱: پہلی شکل یہ کہ آدمی خود چاند دیکھے اور قاضیِ شہر کے پاس اس رویت کی گواہی دے، اس کو فقہ والے شہادتِ رویت کہتے ہیں۔

 

۲: دوسرا یہ کہ چاند سب کو تو نظر نہیں آیا، تاہم دو آدمی کو دکھائی دیا، وہ کسی عذر کی بناپر خود قاضی کے پاس نہ جا کر شہادت کے لیے اپنے دو نمائندے بھیج دیے، انہوں نے قاضی کے پاس گواہی دی کہ فلاں فلاں صاحبان نے چاند دیکھا ہے اور اس کی شہادت کے لیے انہوں نے ہمیں بھیجا ہے ۔ فقہی اصطلاح میں شہادت کی اس شکل کو شہادۃ علی الشہادۃ کہتے ہیں۔

 

۳: تیسری شکل یہ ہے کہ ایک آدمی کی گواہی پر قاضی نے رؤیت کا فیصلہ کر دیا، وہاں کچھ اور لوگ تھے جو اس کار روائی کو دیکھ رہے تھے۔ بعد میں جب گواہ نے دعویٰ کیا کہ قاضی صاحب نے رؤیت کا فیصلہ کر دیا ہے اور لوگ تذبذب میں پڑ جائیں کہ اس کا دعویٰ درست ہے بھی یا نہیں، ایسے موقعے پر کار روائی کے شاھدین نے گواہی دی کہ جی ہاں! قاضی جی نے ایسا فیصلہ دیا ہے، تو اسے اصطلاحِ فقہ میں شہادۃ علی القضاء کہتے ہیں

 

۴: چوتھی صورت یہ ہے کہ رؤیتِ عامہ تو نہیں ہوئی، مگر کئی علاقوں سے اس کی خبر متواتر ملنے لگی تو اسے خبرِ مستفیض کہتے ہیں، اس سے بھی رؤیت ثابت ہو جاتی ہے۔

 

*ہر سال گومگو*

 

یوں تو سبھی مہینے کی ابتدائی تاریخ کا چاند دیکھنا چاہیے ، مگر رمضان کا چاند دیکھنا واجبِ کفایہ ہے، اگر کسی نے بھی نہیں دیکھا تو سارے مسلمان گنہگار ہوں گے۔ ہمارے یہاں رمضان اور عیدین کے چاند کے علاوہ کسی اور ماہ کا زیادہ اہتمام نہیں ہوتا، چناں چہ اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی عربی تاریخ بتانے سے قاصر ہیں۔ یہ مرض عوام کی طرح خواص میں بھی عام ہے۔ میری یہ کوتاہی ہے کہ شمسی تاریخ یاد نہیں رہتی، سارا دھیان قمری پر ہی رہتا ہے۔ چاند دیکھنے کا حکم صرف انہیں تین ماہ سے متعلق نہیں۔ اس سلسلے میں بدعتی رہ نما زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں چوں کہ ہر ماہ میلاد و اعراس کے نام پر کچھ نہ کچھ تقریب رہتی ہے، اس لیے وہ قمری تاریخ پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ شیعہ کی ساری نظر محرم پر رہتی ہے۔ ہماری ہلال کمیٹیاں تین ماہ کے علاوہ سوئی رہتی ہیں، کوئی اہتمام نہیں ہوتا، ہاں ان تین ماہ میں ان کے وہ جلوے ہوتے ہیں کہ مت پوچھیے، بالکل الیکشن کے موسم کی طرح: نئے نئے نام کی پارٹیاں وجود میں آتی ہیں، نئے نئے نمائندے، بھانت بھانت کے گزارش کنندگان اور نئے نئے اخبارات کی جلوہ نمائی۔

 

*ہر چاند اہم ہے، مگر رمضان کا اہم ترین*

 

چاند کسی بھی ماہ کا ہو، اہم ہے، کیوں کہ اسی پر ایامِ بیض کے روزوں کا دارومدار ہے۔ تاہم بعض مہینے خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ شوال کا آغاز ہی عید سے ہوتا ہے، اس کے ہلال کی رؤیت کا کیا پوچھنا!، ذوالحجہ حج اور قربانی کی عبادت ہے جو خالص تاریخ سے وابستہ ہے۔ محرم کے چاند کی اہمیت صومِ عاشوراء سے بڑھ جاتی ہے۔ رجب کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے: رجب شھر اللہ۔ شعبان کی اہمیت شبِ برٱت سے ہے، ویسے اسے پیغمبرﷺ نے “اپنا مہینہ” بھی فرمایا ہے۔ رمضان کا تو کہنا ہی کیا، اس کی تو ہر ساعت گویا دن عید، رات شبِ برٱت ہے، اس کے ہر عشرے کی فضیلت الگ ہے، اعتکاف بھی اسی میں ہے، ان سب سے بڑھ کر شبِ قدر، اسی لیے اس ماہ کا چاند دیکھنے کو واجبِ کفایہ بتایا گیا ہے، اگر چاند دیکھنے میں کوئی کوتاہی ہوئی اور تاریخ کی تعیین نہ ہو سکی تو رمضان کی برکات سے اچھی طرح مستفید ہونا ہی محال ہے۔ نہ وہ مخصوص عشرے کی دعا ہی یقین کے ساتھ پڑھ سکے گا، اعتکاف بھی غلط سلط اور شبِ قدر کی تلاش بھی بے انتہا دشوار۔

 

*پورے ہندوستان کا مطلع ایک ہے*

 

یہاں یہ خیال بھی رہے کہ ہم احناف کے یہاں پورے ہندوستان کا مطلع ایک ہے، ملک کے کسی بھی حصے میں چاند دیکھا گیا اور شرعی مطالبات پورے کیے گئے تو ملک کے سارے مسلمان اس کے زیر اثر ہوں گے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مطلع بالکل صاف ہو، غبار بالکل نہ ہو، تاریخ ۲۹ ویں ہو اور چاند ایک آدھ جگہ کے علاوہ کہیں دکھائی نہ دے۔ اس رمضان میں بھی یہی ہوا کہ مطلع صاف ہونے کے باوجود چاند چند ہی ریاستوں میں نظر آیا: کرناٹک، مدراس اور آندھراپردیش وغیرہ ۔ اکثر ریاستوں میں اس کی رؤیت نہیں ہوئی۔ چوں کہ ہندوستان کا مطلع ایک ہے، اس لیے ہمارے بڑے اہلِ علم اور نمایاں اداروں نے اس کی رؤیت کی تصدیق کردی۔ دارالعلوم دیوبند، امارتِ شرعیہ، جامع مسجد دہلی اور فرنگی محل سمیت ملک کے بیش تر علاقوں میں 17 مئی کو پہلا روزہ رکھا گیا، یہ جمعرات کا دن تھا۔ الحمدللہ 17 ویں شب میں تراویح بھی ادا کی گئی۔

 

*امارتِ شرعیہ پٹنہ کی تصدیق*

 

اس جگہ امارتِ شرعیہ پٹنہ کی تصدیق نقل کرنا مناسب ہے، جس سے خوب واضح ہو سکے گا کہ ملک کا بیش تر حلقہ ہی حق بجانب ہے اور ممبئی والے غلط۔ مولانا انیس الرحمن صاحب ناظم امارتِ شرعیہ کہتے ہیں:

 

ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﺑﮩﺎﺭ ، ﺍﮈﯾﺸﮧ ﻭ ﺟﮭﺎﺭﮐﮭﻨﮉ ، ﺧﺎﻧﻘﺎﮦ ﻣﺠﯿﺒﯿﮧ ﭘﮭﻠﻮﺍﺭﯼ ﺷﺮﯾﻒ ، ﭘﭩﻨﮧ ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ، ﻧﺪﻭۃ ﺍﻟﻌﻠﻤﺎء ﻟﮑﮭﻨﻮٔ ، ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ، ﺟﻤﻌﯿۃ ﻋﻠﻤﺎء ﮨﻨﺪ ، ﮔﺠﺮﺍﺕ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﺍٓﺑﺎﺩ ، ﺻﻮﺑﺎﺋﯽ ﺟﻤﻌﯿﺖ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﻤﺒﺌﯽ ، ﻣﺮﮐﺰﯼ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﻓﺮﻧﮕﯽ ﻣﺤﻞ ﻟﮑﮭﻨﻮٔ ، ﻣﺮﮐﺰﯼ ﺭؤیت ﮨﻼﻝ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﭘﻮﮐﮭﺮﻥ ﺭﺍﺟﺴﺘﮭﺎﻥ ، ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺎﺩﻕ ﭘﻮﺭ ، ﭘﭩﻨﮧ ، ﺟﻤﻌﯿۃ ﻋﻠﻤﺎء ﮐﺮﻧﺎﭨﮏ ، ﺭؤیتِ ﮨﻼ ﻝ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﭘﻨﺠﺎﺏ ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻘﻀﺎء ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﻭﺟﮯﻭﺍﮌﮦ ، ﺍٓﻧﺪﮬﺮﺍ ﭘﺮﺩﯾﺶ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺭﻭﯾﺖ ﮨﻼﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﺟﻨﻮﮞ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﻣﻮﺭﺧﮧ ۱۷ ﻣﺌﯽ ۲۰۱۸ ﺳﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﻊ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﻟﻊ ﮐﻮ ﺑﺤﺚ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ، ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻋﺮﺏ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﻣﻄﻠﻊ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﻠﻊ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻣﮕﺮ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻓﻠﮑﯿﺎ ﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﮨﺌﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ ، ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﻓﺮﻕ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﮕﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺩﻥ ﭼﺎﻧﺪ ﻧﮑﻞ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻓﻠﮑﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ ، ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﻧﮧ ﮔﻮﺍﮦ ﮐﻮ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﺎ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ، ﻗﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﺧﻮﺩ ﮔﻮﺍﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺎﺋﺰ ﻭ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮ ﺗﺎ ﮨﮯ ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻣﺎﺭ ﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮦ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﻤﺮ ﺍﻧﯿﺲ ﻗﺎﺳﻤﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺋﯿﺲ ﺍﻟﻤﺒﻠﻐﯿﻦ ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﺟﻮﺍﺑﮭﯽ ﭼﻨﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﻗﺎﺳﻤﯽ ﺗﺎﻣﺒﺮﻡ ﭼﻨﺌﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺿﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺎﺿﯽ ﺷﮩﺮ ﮔﻮﺭﻧﻤﻨﭧ ﺍٓﻑ ﺗﻤﻞ ﻧﺎﮈﻭ ﭼﻨﺌﯽ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﺎﭘﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺍﺭﺍلقضاء ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺳﺎﻝ ﮐﯽ۔ﺳﺎﺗﮫ ہی ﺗﻤﻞ ﻧﺎﮈﻭ ، ﺍٓﻧﺪﮬﺮﺍ ﭘﺮﺩﯾﺶ ، تلنگانہ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺭﻭﯾﺖ ﻋﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺖ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﯾﺖ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮧ ﻋﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﻣﺴﺘﻔﯿﺾ ﮐﮯ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ، ﺍﻭﺭ ﺧﺒﺮ ﻣﺴﺘﻔﯿﺾ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﺎ ﺿﺎﺑﻄﮧ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﯿﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﻥ ﺷﻮﺍﮨﺪ ﻭ ﺛﺒﻮﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻘﻀﺎء ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﭘﮭﻠﻮﺍﺭﯼ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﭩﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﻭﯾﺖ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ۔ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ نے ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺭﻭﯾﺖ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺭﻭﯾﺖ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﭘﮭﯿﻼ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﭼﺎﻧﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﻄﻠﻊ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺭﻭﯾﺖ ﺛﺎﺑﺖ ﻣﺎﻧﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ﭼﻨﺌﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺫﯾﻞ ﻋﻠﻤﺎئے ﮐﺮﺍﻡ ﻭ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ ﺭﻭﯾﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ ، ﺩﺍﺭﺍﻟﻘﻀﺎء ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﻭﯾﺖ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ ﮨﮯ ۔

 

*ممبئی کی ہلال کمیٹی*

 

جیسا کہ واضح ہوا کہ تقریباﹰ پورے ملک میں 17 مئی سے ہی روزہ ہے، مگر ممبئی کی ہلال کمیٹی کے اڑیل رویے نے مراٹھا مسلمانوں کے درمیان شکوک و شبہات ڈال دیے۔ اس کمیٹی کی وقفے وقفے سے دو میٹنگ ہوئی اور فیصلہ ہر مرتبہ عدمِ رویت کا ہوا۔ حالانکہ چند ممبران اس فیصلے سے ناخوش تھے، تاہم اکثریت نے ان پر کوئی توجہ نہ دی اور یوں پورے ملک میں انتشار کی لہر دوڑا دی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان کے پاس دارالعلوم کے دلائل نہیں آئے، امارت کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ متعدد مقامات سے رویت کی مستند خبریں نہیں آئیں۔ سب کچھ ہوا، مگر کمیٹی کی ایک ہی منطق کہ مطلع کے صاف ہونے کے باوجود چاند نظر نہیں آیا، لہذا ثبوتِ رمضان کا فیصلہ غلط ہے۔

 

*سبیل المؤمنین سے انحراف*

 

حالانکہ یہی ممبئی کمیٹی ہے جس نے حضرت مولانا شوکت علی نذیری مرحوم کے عہد میں یوپی بہار کے فیصلے پر رویت کا فیصلہ صادر کر دیا تھا، لیکن آج یہی کمیٹی اپنے متعصبانہ رویے کے سبب انتشارِ ملت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اتنے شواھد کے باوجود رویت کا فیصلہ نہ کر کے کمیٹی نے نہ صرف یہ کہ اپنا وقار اور اعتماد مجروح کیا ، بلکہ سبیل المؤمنین سے انحراف کی رسمِ بد بھی ایجاد کی ۔ آج سے کئی دہائی پیش تر بھی ممبئی کے اڑیل رویے سے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو پریشان ہونا پڑا تھا اور 28 ہی روزے پر انہیں اکتفا کرنا پڑا تھا، اس بار بھی امید ایسی ہی ہے۔ ممبئی والوں کو ایک روزہ کی قضا کا اعلان کرنا پڑ سکتا ہے۔ ممبئی رویتِ ہلال کا رویہ خالص غیرمنطقی، غیر شرعی اور فہم سے بالا تر ہے۔ یہاں کی کمیٹی عام طور پر بدعتیوں کے زیرِ اثر رہتی ہے اور کسی بھی طرح کے فیصلے سے پہلے بدعتیوں کی طرف دیکھتی ہے۔

میں ہر سال کی طرح اب بھی ممبئی میں ہوں۔الحمدللہ میں نے سوادِ اعظم کے ساتھ چل کر رمضان اور تراویح شروع کی۔ میری مسجد کے سارے نمازی 17 مئی سے باصوم ہیں اور الحمدللہ مطمئن بھی۔ اگلے دن چاند دیکھا تو ان کا یقین مزید پختہ ہوا، میں نے خود دیکھا کہ 17 مئی کو نکلنے والا چاند پونے دو گھنٹے افق پر اپنی موجودگی کا اعلان کرتا رہا۔ کیا پہلی رات کا چاند بھی اتنی دیر تک رہتا ہے؟ ممبئی کی تیرہویں تاریخ کو ہی چاند مکمل ہو چکا تھا۔ کیا اب تیرہویں تاریخ میں چاند بدر ہو جاتا ہے؟

 

*ہم تو ڈوبے ہیں صنم*

 

ممبئی کی ہلال کمیٹی نے 17 مئی کا افطار حلال تو کر دیا، مگر اس سے امت کو کس قدر نقصان پہونچا، اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی۔ کچھ نقصانات تو واضح ہیں، مثلاً: ایک روزہ چھوٹ گیا، خدا نخواستہ مہینہ ممبئی کے حساب سے 28 کو ہی پورا ہو گیا تو کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ آپ ایک روزے کی قضا کا فیصلہ سنائیں گے، مگر عمل کریں گے کتنے لوگ؟ یہ امت اعمال میں ویسے ہی سست ہے، رمضان میں بھی افطار کے بہانے تراشتی ہے، غیر رمضان میں کس کو ہمت ہوگی۔ اگر ہر شخص نے قضا کر بھی لیا تو رمضان کی ساعتیں کہاں سے لائیں گے؟ دوسرا نقصان یہ کہ ایک دن پیش تر اعتکاف میں بیٹھنے والے تو شب قدر یقینًا پالیں گے، ان شاءالله، مگر غیر معتکفین کو شبِ قدر مل ہی نہیں سکتی۔ وہ ڈھونڈیں گے ۲۲، ۲۴، ۲۶، ۲۸ اور ۳۰ ویں شب میں، جب کہ شبِ قدر کا محلِ نزول ۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ ویں شب ہے۔ عام مسلمانوں کو شبِ قدر ملنے سے تو رہی۔ تیسرا نقصان اعتکاف کا ہے، اعتکاف کے لیے کم از کم نو دن ہونے چاہییں اور یہاں آٹھ ہی بنیں گے۔ یہ اعداد و شمار اور یہی نقصانات ہیں، جن کی بنا پر احقر فضیل احمد ناصری سمیت متعدد اہلِ علم نے اہلِ ممبئی سے ایک روز پہلے اعتکاف میں بیٹھنے کی درخواست کی، جس کا الحمدللہ خاطر خواہ نتیجہ بھی سامنے آیا۔ ممبئی اور تھانے کی متعدد مساجد میں ایک روز پہلے سے ہی اعتکاف شروع کر دیا گیا۔ مگر افسوس کہ بجائے اس کی حوصلہ افزائی کے کچھ لوگ، بلکہ خود چاند کمیٹی کے بعض ذمہ داران غیر منطقی اور پوچ دلائل کے سہارے ان کی تغلیط کرنے لگے اور اجتہادی غلطی پر ثواب کا وعدہ یاد کرنے لگے۔ گویا بقول شاعر ؎

 

ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے

 

*چاند کمیٹی کے ایک رکن کی تحریر*

 

اس سلسلے کی سب سے بودی تحریر محترم جناب مولانا عبدالاحد فلاحی صاحب کی نظر میں آئی۔ موصوف “میرا اللہ بخیل نہیں” کے زیرِ عنوان رقم طراز ہیں:

 

“میرا خدا نہ بے بس ہے نہ ہی تنگ دست ۔ میں جس خدا کی عبادت کرتا ہوں وہ تو اتنا کریم ہے کہ دوڑ کر جماعت سے نماز پڑھنے آنے والے کو جماعت چھوٹنے کے باوجود ثواب دے دیتا ہے ۔

میں جس خدا کو مانتا ہوں وہ ایسا داتا ہے کہ بیماری کی صورت میں صحت کے زمانے کے اعمال کا ثواب بغیر کیے ہوئے ہی دے دیتا ہے۔

میں جس خدا کو جانتا ہوں وہ تو ایسا داتا ہے کہ وقف کی وصیت کے لکھنے والے کو بھی اتنا ثواب دے دیتا ہے جتنا وقف کرنے والے کو۔

میں جس خدا کے لئے اعمال کرتا ہوں وہ تو اتنا غنی ہے کہ ایک حج کے بدلے میں تین لوگوں کو نوازتا ہے۔

*پھر وہ لوگ کتنے کم ظرف ہوں گے جو میرے خدا سے اتنے بد ظن ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ میرا خدا ان کو اعتکاف کے ثواب سے محض اس لئے محروم کردے گا کہ ان کے رہبروں سے اجتہادی چوک ہو گئی ہو (جس کا ابھی صرف احتمال ہے) ۔وارثین انبیاء اور مفتیوں سے اجتہادی غلطی ہونے پر بھی وہ نوازنے والا کیا ان کی ماننے والوں کو محروم کردے گا؟*

 

*افسوس ان کم ظرفوں پر کہ انہوں نے میرے خدا کو بھی اپنے جیسا بخیل سمجھ لیا۔*

 

قاضی عبدالاحد فلاحی

امام و خطیب: پتھر والی مسجد ممبئی

 

کس قدر کمزور ہے یہ تحریر، ایسا لگتا ہے یہ اور خدا کی عبادت کر رہے ہیں اور پورا ملک کسی اور خدا کی۔ العیاذ باللہ۔ اللہ بے شک بخیل نہیں ہے، لیکن غیر محل میں عبادت کریں گے تو وہ ناراض ہی ہوگا، نہ کہ خوش۔ اجتہادی غلطی فرد کی ہو اور اسی پر منحصر رہ جائے تب تو ثواب بھی ہے، لیکن خالص تحکم میں کی جانے والی غلطی محلِ ثواب نہیں، موردِ عتاب ہوا کرتی ہے۔ پھر یہاں تو اس کا خمیازہ پوری ایک جمعیت کو بھگتنا پڑ رہا ہے، کیا ایسی اجتہادی خطا کو فروغ دینے اور اس پر اٹل رہنے کی گنجائش ہے؟ امام صاحب کا وضو نہ ہو تو صرف انہیں کی نماز متاثر نہیں ہوگی، بلکہ سب کی ہوگی، اگر کسی نے اس کے باوجود پڑھا ہی دیا تو مقتدیان تو گرفت سے بچ جائیں گے، مگر امام صاحب کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اسی طرح کسی کا اجتہاد عناد پر مبنی ہو تو گناہ صرف مجتہد صاحب کو ہی ملے گا اور سب کی جواب دہی بھی۔ اب بھی وقت ہے کہ ممبئی کمیٹی سوادِ اعظم کی طرف آ جائے، ورنہ اس کا اعتبار مزید ابتر ہوگا۔

 

ایک بات اور۔ مولانا عبدالاحد فلاحی صاحب کی تحریر سےان کے مبلغ علم وفہم کااندازہ اہل علم وبصیرت نے لگا لیا ہوگا ۔اب بھلابتائیے کہ ایسے قابل مجتہد لوگ جب امت کی رہنمائی اورافتاوقضاء کی پاسبانی کریں گے توامت کہاں جائے گی ؟ ظاہرہے کہ میرا اللہ بخیل نہیں ہے جیسی بے موضوع اورچاند سے بے ربط مضمون لکھ کر امت کی اکثریت کو کم ظرف قرار دینا خوداعلی درجہ کی کم ظرفی ہے۔ ایسے لوگ کسی دینی منصب کے اہل نہیں ہوسکتے، چہ جائیکہ رویت ہلال کے حکم ہوں ۔ممبئ کے اہل علم وفضل کو اس سمت غورکرناہوگا کہ وہ اپنی دینی اورمذہبی قیادت کی باگ دوڑ کن لوگوں کے حوالے کررہے ہیں ۔

 

*ممبئی ہلال کمیٹی سے گزارش*

 

اب تو جو ہونا تھا ہو چکا، لوگوں کا ایک روزہ خراب ہو چکا ہے۔ ایک تراویح بھی ان کی چھوٹی۔ عشراتِ ثلاثہ بگاڑ دیے گئے۔ شبِ قدر بھی اندھیرے کی نذر ہوئی۔ اعتکاف بھی آدھا ادھورا ۔ اب دستہ بستہ عرض ہے کہ آئندہ ایسا نہ کرے۔ سوادِ اعظم کے ساتھ چلے۔ دوٹوک فیصلے کرے۔ اجتہاد کے عنوان پر یہ انتشاری انداز چھوڑے، یہ ملت کے مفاد میں نہیں۔

(بصیرت فیچرس)