تازه ترين

وہ رہا چاند

وہ رہا چاند

اس سے پہلے کہ شام ہوجائے !

ولاکن لا تحبون الناصحین

مولانا فضیل احمد ناصری قاسمی

استاذ حدیث و نائب ناظم تعلیمات جامعہ امام انور شاہ دیوبند

رمضان کے دو تین ایام ہی اب ہمارے درمیان رہ گئے ہیں، مگر چاند سے متعلق محاذ آرائی *ضرب زید عمرواً* کی طرح مسلسل جاری ہے اور عید گزرنے تک جاری رہے گی۔ راقم الحروف نے پرسوں ہی ممبئی کی ہلال کمیٹی کو آئینہ دکھاتے ہوئے ایک مفصل و مدلل تحریر لکھی تھی، جس کی الحمدللہ ملک و بیرونِ ملک پذیرائی ہوئی۔ متعدد مقامات سے تبریک کے پیغامات آئے، یہ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی ایک کوشش تھی، جس پر احقر کی زبردست حوصلہ افزائی کی گئی۔ خاکسار ان تمام بزرگوار کا تہِ دل سے ممنون ہے۔ مضمون لکھ کر اندازہ یہی تھا کہ مرجوحین کو ندامت ہوگی اور وہ کاتبِ سطور کو دعاؤں سے نوازیں گے، مگر اپنا نصیب ایسا کہاں! مضمون پرسوں لکھا تھا اور کل بعدِ نمازِ فجر ہی اس کا رد مجھے موصول ہو گیا۔ ایک دراز نفس تحریر۔ الزامات و اتہامات کی مرقع۔ درشت کلامی کا نمونہ۔ شیطان کی آنتوں کی طرح الجھی ہوئی اور لکھنؤ کی بھول بھلیوں کی طرح مجسم پہیلی۔

 

*غیر فرمائشی مضمون*

 

یہ تحریر اخلاق ندوی صاحب کے قلم سے تھی۔ اخلاق ندوی ایک فرضی نام ہے، اس کے پیچھے پردہ نشیں شخصیت کون ہے، مجھے سب پتہ ہے۔ لکھتے پڑھتے ایک زمانہ ہو گیا، اپنوں اور بیگانوں کا قلم اب تو پہچان ہی چکا ہوں۔ اچھا ہوا کہ میرا جواب لکھنے والے نے فرضی نام ہی استعمال کیا، اگر وہ اصل نام سے روبرو ہوتے تو ان کی *محمودیت* خطرے میں پڑ سکتی تھی، پھر ملاقات کے وقت دیدار کا مزہ ہی کیا رہتا۔ خیر جب لکھنے والے نے اپنا تعارف اخلاق ندوی سے کرایا ہے تو مخاطب بھی اسی نام سے کرنا عین صواب ہوگا۔

 

اخلاق صاحب نے ابتدا میں فرمایا ہے کہ

میں یعنی فضیل احمد ناصری نے یہ مضمون مولانا شاھد ناصری صاحب کے اشارے پر لکھا ہے اور یہ کہ میں ناصری صاحب کا شاید رشتے دار ہوں۔ تو اس سلسلے میں پہلی بات تو بالکلیہ غلط ہے۔ میں نے کسی کے اشارے پر کچھ نہیں لکھا۔ جو کچھ لکھا، دل کی صدا پر لکھا، غیر فرمائشی اور خالص فطرت کے اشارے پر۔ میری عادت ہے کہ جو چیز بھی خلافِ شرع معلوم ہوئی، اگر وقت نے ساتھ دیا تو میں اس پر اپنا موقف پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں، یہاں بھی یہی ہوا۔ دوسری بات بالکل درست ہے، شاید کے ساتھ نہیں، یقین و اذعان کے ساتھ۔ ہم لوگ ایک ہی وطن اور ایک ہی خاندان سے ہیں۔ محترم مولانا شاھد ناصری صاحب میرے عمِ محترم ہیں۔ ممبئی، ہمایوں بخت اور ہم کنارِ شہرت۔پورا ملک ان کی قابلیت کا معترف۔ ہندوستان میں خدمتِ قرآن کے مسابقتی طرز کے بانی ہیں۔ وہ ایک عدد تنظیم کے سربراہ بھی ہیں اور ایک دینی درس گاہ کے سرخیل و روحِ رواں بھی۔ رہی بات الزامات کی، تو ان سے کوئی نہیں بچا۔ وان النفس لامارۃ بالسوء۔

 

*سوادِ اعظم پر ایک بار پھر یلغار*

 

اخلاق ندوی صاحب نے اپنے مضمون کا عنوان رکھا ہے *زبردستی کا چاند* ۔ یہ عنوان اختصار کے باوجود بہت کچھ بیاں کرتا ہے۔ اس عنوان سے اس دعوے کی بھی قلعی کھل گئی کہ “ممبئی کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ اجتہادی غلطی کے زمرے میں آئے گا، جس پر ثواب کے وعدے ہیں۔ “اہلِ علم جانتے ہیں کہ مجتہد اپنے موقف کی ترجیح کے ساتھ مخالف موقف کے امکانِ صواب کا بھی قائل ہوتا ہے، مگر یہاں ایسا نہیں، یہاں تو یکسر تردید اور یک طرفہ تغلیظ ہے۔ ممبئی کمیٹی نے نقد کی تلوار چلا کر نہ صرف یہ کہ اپنی ترجیح پیش کی، بلکہ حق کو اپنی تنظیم میں منحصر بھی کر لیا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ دعویٰ بھی کہ رویت نہ ہونے کے باوجود سوادِ اعظم نے زبردستی چاند نکال لیا ہے، جو سراسر غلط اور اسلامی تعلیمات کا بالکل الٹ ہے۔ اس طرح انہوں نے جمہور امت پر خطِ تنسیخ کھینچ کر نہایت جسارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سے سے انہوں نے اس طرف بھی اشارہ کر دیا کہ *شرذمۂ قلیلہ* کے برعکس ملت کی اکثریت درست فیصلے میں ناکام رہی۔

 

*علمی اختلاف شرپسندی نہیں*

 

ندوی صاحب کی ایک اور جسارت دیکھنے میں آئی ہے، انہوں نے ممبئی چاند کمیٹی کے فیصلے سے اختلاف کرنے والوں کو شہرت طلب اور *شرپسند* تک کا خطاب دے ڈالا۔ سوال یہ ہے کہ کیا علمی اختلاف کی گنجائش اب یکسر ختم ہو چکی ہے؟ دین کے بے شمار مسائل میں علما کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کی ایک قدیم تاریخ ہے۔ خود پیغمبرﷺ کے عہدِ مسعود میں بھی اس کا وجود رہا، جیساکہ اخلاق ندوی صاحب کی تحریر میں بھی اس کا ذکر ہے، تو کیا اختلاف کرنے والے سارے شہرت طلب اور شرپسند تھے؟ علمی اختلاف کو شرپسندی اور شہرت طلبی سے تعبیر کرنا میرے نزدیک گھٹیا درجے کی انتہاپسندی ہے۔

اپنی حد تک تو میں کہہ ہی سکتا ہوں کہ الحمدللہ مجھے کسی شہرت کی ضرورت نہیں۔ اللہ نفس کے شر سے بچائے۔ دعائیں دینے والے اور سر پر دشتِ شفقت رکھنے والے بحمدہ تعالیٰ بہت ہیں۔ مسلمانوں کے تئیں اچھا گمان رکھنا چاہیے، مگر ندوی صاحب نے تو حد ہی کر دی۔ بدگمانی! وہ بھی رمضان میں!! کریلا نیم چڑھا تازہ ہو گیا۔

 

*امارتِ شرعیہ کی معتبریت پر سوال*

 

ندوی المحترم نے اشاروں اشاروں میں امارتِ شرعیہ کی معتبریت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا اور دلیل میں ایک ایسے مولوی کا حوالہ دے بیٹھے، جس نے ایک قادیانی کا مضمون اپنی تخلیق کے طور پر اخبارات میں شائع کرایا تھا۔ ندوی صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ چاند کے سلسلے میں امارت نے شرعی تقاضے پورے نہیں کیے اور صرف جنوبی ہند کی رویت پر بلاوجہ اعلان کر دیا۔ حالانکہ امارت نے جس تیقظ، بیدار مغزی اور دینی ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اس کی یہی وہ ادا ہے، جس کی تحسین ملک کا ہر معتبر طبقہ کرتا ہے۔ اس کا اعتبار اب بھی میلا نہیں ہوا۔

 

*ممبئی ہلال کمیٹی کی فروگزاشتیں*

 

اس کے برخلاف ممبئی ہلال کمیٹی نے کئی فروگزاشتیں کی ہیں، ایک تو یہ کہ ہلال کمیٹی کی اس میٹنگ میں حضرت مفتی عزیز الرحمن فتحپوری صاحب نہیں تھے اور اشاروں کنایوں میں باور یہ کرایا گیا ہے کہ وہ موجود تھے۔ یہ بھی مشتہر کیا گیا ہے کہ اتفاقِ رائے سے کمیٹی نے عدمِ رویت کا اعلان کیا ہے، جب کہ مرکز المعارف ممبئی کے ذمے دار مولانا برہان الدین اور محترم مفتی سعید الرحمن صاحبان نے اس کے خلاف رائے دی تھی۔ یہ دونوں بھی کمیٹی کے رکن ہیں اور ممبئی کے سرکردہ علما میں ان کا شمار ہے۔ تیسرے یہ کہ بغیر کسی تگ و دو اور تحقیقِ کامل کے مختصر وقفے سے دو نشستیں بلا کر سبیل المؤمنین کے خلاف عدمِ رویت کا فیصلہ مراٹھی مسلمانوں پر تھوپ دیا گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوا؟

 

*چاند ہر شخص کے گھر دستک نہیں دے گا*

 

یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ رویت کے ثبوت کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کا وقوع ہر شہر اور ہر گھر میں ہو۔ پہلی رات کا چاند ہر گھر پر دستک دینے نہیں جائے گا کہ بھائی! آؤ! رؤیت کرلو! اسی لیے رمضان کے چاند کے لیے نصابِ شہادت نہیں رکھا گیا، جب کہ بقیہ چاند کے لیے نصابِ شہادت لازم ہے۔ اگر مطلع صاف نہ ہو، آسمان ابر آلود ہو تو رمضان کا چاند صرف ایک آدمی کی شہادت سے ثابت ہو جائے گا، جب کہ بقیہ مہینوں میں یہی صورت پیش آئے تو ثبوتِ رویت کے لیے نصابِ شہادت لازم ہے۔ دو مردوں، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کے بغیر رویت ثابت نہیں ہوگی۔

 

*ندوی صاحب کے ایک نہایت اہم سوال کا جواب*

 

ندوی صاحب نے اپنے جوابی مضمون کے اختتام پر ایک سوال بھی ہمنوایانِ سوادِ اعظم کی گردنوں پر رکھ دیا ہے ۔ فرماتے ہیں:

 

“ناصری صاحب اور ہمنوا یہ بتائیں کہ مسلم شریف کی روایت کے مطابق اہل شام کے ساتھ حضرت معاویہ نے ایک دن قبل، اور اہل مدینہ کے ساتھ حضرت ابن عباس نے ایک دن بعد، روزہ رکھنا شروع کیا تھا، ان دونوں میں کون صحیح تھا، کس کا اعتکاف درست ہوا، کس کو شب قدر ملی؟

ہمیں پوری امید ہے کہ ہماری اس تحریر کا جواب ضرور آئے گا اس لئے ہم یہ سوال چھوڑے جارہے ہیں امید کہ جواب دینے والے صاحب پہلے اس کا جواب دیں گے ـ ‌”

 

تو جواباً عرض ہے کہ پہلے حضرت معاویہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا پورا واقعہ سن لیجیے! امام ترمذی “باب ما جاء لکل اھل بلد رؤیتہم” کے زیر عنوان فرماتے ہیں:

 

“ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱؓ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺍﻡ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﻧﮯ ﮐﺮﯾﺐ ﮐﻮ ‏( ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﮐﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﮦ ﺗﮭﮯ ‏) ﮐﺴﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧؓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻠﮏ ﺷﺎﻡ ﺑﮭﯿﺠﺎ، ﮐﺮﯾﺐ ﻧﮯ ﺍﻡ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﻤﭩﺎﯾﺎ، ﺍﺑﮭﯽ ﻭ ﮦ ﺷﺎﻡ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ، ﭼﺎﻧﺪ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ‏( ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﮩﻼ ﺭﻭﺯﮦ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‏) ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺁﺋﮯ ﺍﺑﻦِ ﻋﺒﺎﺱؓ ﻧﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺑﻦِ ﻋﺒﺎﺱؓ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎﺗﮭﺎ ‏( ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﻌﻢ، ﮨﺎﮞ ﺧﻮﺩ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‏) ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺲ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ، ﺍﺑﻦِ ﻋﺒﺎﺱؓ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻨﯿﭽﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ، ﭘﺲ ﮨﻢ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﺎ ﺁﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺗﯿﺲ ﺩﻥ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﯾﮟ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ، ﮐﺮﯾﺐ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﮐﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﺍﺑﻦِ ﻋﺒﺎﺱ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﻤﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ترجمہ منقول از: ﺗﺤﻔﺔ ﺍﻻﻟﻤﻌﯽ ‏) ‏( ﺗﺮﻣﺬﯼ ﺷﺮﯾﻒ ۱ /۱۴۸ ‏)”

 

اس قصے کے نقل کرنے کے بعد امام ترمذیؒ فرماتے ہیں:

 

‏ﻭﺍﻟﻌﻤﻞُ ﻋﻠﯽ ﮨﺬﺍ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﻋﻨﺪ ﺃﮨﻞ ﺍﻟﻌﻠﻢ ﺍﻥّ ﻟﮑﻞ ﺃﮨﻞ ﺑﻠﺪ ﺭﻭٴﯾﺘﮩﻢ ﯾﻌﻨﯽ : ﺗﻤﺎﻡ ﺍﮨﻞِ ﻋﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﯽ ﺭﻭٴﯾﺖ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﻮﮔﯽ۔ ‏( ﺗﺮﻣﺬﯼ ﺷﺮﯾﻒ ۱ /۱۴۸ ‏)

 

امام ترمذیؒ کے اس تبصرے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ شام اور مدینے کا مطلع الگ الگ تھا، اسی لیے ہر ایک نے اپنے مطلع کے حساب سے رویت کا اعتبار کیا، جہاں تک ہندوستان کا معاملہ ہے تو باسٹثنائے کیرل اور بھٹکل پورے ہندوستان کا مطلع ایک ہے، لہذا ایک شہر کی رویت پورے ملک کے لیے کافی ہوگی۔ اہلِ ممبئی اس قصے سے اپنے موقف کو سہارا نہیں دے سکتے۔

 

امید ہے کہ اس تفصیل سے ندوی صاحب کو ان کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا۔

 

*ممبئی ہلال کمیٹی کا موقف: پورے ملک کا مطلع ایک ہے*

 

ممبئی کی ہلال کمیٹی پر ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دستور نامے سے مکر رہی ہے۔ اس کے دستور نامے میں صاف صاف لکھا ہے کہ: اختلافِ مطالع معتبر ہے۔ اور اگلی سطر میں یہ بھی ہے کہ: پورے ہندوستان کا مطلع ایک ہے۔ اس میں کسی علاقے کا استثنا بھی درج نہیں۔ اخلاق ندوی صاحب نے بھٹکل اور کیرل کے ساتھ پورے جنوبی ہند کا استثنا قلم بند کیا ہے، جب کہ دستور نامے میں دور دور تک کوئی ذکر نہیں۔ ان کی یہ تحریر علانیہ کہہ رہی ہے کہ ممبئی ہلال کمیٹی نے آندھرا پردیش، مدراس اور تملناڈو کو بھی کیرل اور بھٹکل کے ساتھ جوڑ کر وہاں کی رویتوں کو لایعبؤ بہ سمجھا اور اس سلسلے میں جنوبی ہند سے کسی طرح کا کوئی رابطہ ہی نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہی ہے تو اپنے دستور نامے میں ممبئی ہلال کمیٹی یہ شق بھی لگادے کہ: جنوبی ہند ازروئے مطلع ہندوستان سے خارج ہے، لہذا وہاں کی رویتیں قابلِ اعتنا نہیں ہوں گی۔

 

*آخری بات*

 

اخیر میں دردمندانِ ملت علما سے درخواست ہے کہ رویتِ ہلال کے قضیے کا مستقل حل جلد از جلد تلاشیں۔ یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ ہر ایک شخص اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے اور اپنے ہی اعلان کو اہمیت دے رہا ہے۔ رویتِ ہلال کمیٹیاں بھی نام نہاد مہتممین کے چلت العلوم، پھرت العلوم کی طرح گلی گلی، نکڑ نکڑ پر موجود انا ولا غیری کے نعرے لگا رہی ہیں۔ میرے خیال میں اس مسئلے کا حل *کل ہند رویتِ ہلال کمیٹی* کی تشکیل ہے۔ اس کمیٹی میں ملک بھر کے ان چنیدہ شخصیات کو شامل کیا جائے، جن کا اپنا ایک وزن اور اعتبار ہے۔ اس کمیٹی میں بھٹکل اور کیرل کے اہلِ علم کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ کمیٹی تشکیل پاتی ہے تو ان شاءالله رویت کی جھنجھٹ اور گومگو کی کشمکش سے پوری ملت کو چھٹکارا مل سکے گا۔

 

وما توفیقی الا باللہ

(بصیرت فیچرس)