تازه ترين

عید کی نماز عید گاہ میں

عید کی نماز عید گاہ میں

مولانا ندیم الواجدی

اسلام میں اجتماعیت کا تصور بہت نمایاں ہے، اور ملت کے ہر ہر فرد کو مختلف طریقوں سے یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ اجتماعیت سے وابستہ رہے، قرآن کریم میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہیں، انتشار میں مبتلا نہ ہوں، (آل عمران: ۱۰۳) فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم: ید اللّٰہ علی الجماعۃ بھی اسی اجتماعیت کی دعوت دیتا ہے، شریعت کی تعلیم تو یہ ہے کہ اگر دو یا دو سے زائد مسلمان کسی سفر کے لئے نکل رہے ہوں، تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنے میں سے ایک کو اپنا امیرمنتخب کرلیں اور باقی سمع وطاعت اختیار کریں، اسلام نے اجتماعیت کو صرف تصور تک محدود نہیں رکھا بل کہ اس کو مختلف جہتوں سے عملی شکل بھی عطا کی، پانچ وقت کی نمازوں کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے پر تاکید اور اس پر ستائیس گنا اجر وثواب کی نوید اسی لئے ہے تاکہ اس مسجد کے ارد گرد رہنے والے مسلمان ایک دوسرے سے جڑیں رہیں، اور دن ورات میں ایک بار نہیں کم از کم پانچ مرتبہ ایک دوسرے سے ملاقات کریں، پھر باجماعت نماز میں صفوں کی درستگی اور خلاء رہ جانے کی صورت میں اس کو پُر کرنے کا اہتمام بھی اسی لئے ہے تاکہ ان میں انتشار وافتراق کی کیفیت نظر نہ آئے، ایک امام کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا اور اس کے ساتھ رکوع وسجود کرنا بھی اجتماعیت کا ایسا پر اثر نظارہ ہے جو دیکھنے والے کی نگاہ سے اتر کر قلب وروح تک کو سرشار کرجاتا ہے، یہ تو مسلمانوں کی روز مرّہ کی سرگرمیوں کا محور ہے، ہفتے میںانہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس دائرے کو وسعت دیں، جمعہ کی نماز فرض کی گئی اور شہر کی جامع مسجد میں اس کو ادا کرنا زیادہ بہتر قرار دیا گیا، اس میں بھی یہی حکمت پنہاں ہے کہ شہر کے تمام مسلمان کم از کم ہفتے میں ایک بار جمع ہوکر اللہ کی عبادت کرلیا کریں، جمعہ کی نماز عام نمازوں کی طرح نہیں ہے کہ لوگ اپنے اپنے محلوں کی مسجدوں میں جاکر ادا کرلیں، بل کہ ذرا گھر سے نکلیں اور کچھ دور چل کر کسی ایسی مسجد میں جائیں جہاں دوسرے علاقوں کے مسلمان بھی آکر نماز میں شریک ہوتے ہوں، سال میں باون مرتبہ ہفتہ واری ملاقات اور اجتماع کے بعد دو مرتبہ سالانہ اجتماع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، عیدین کے موقع پر شہر بھر کے مسلمان، بل کہ مضافات اور نواحیِ شہر کے مسلمان بھی اگر آسکتے ہوں تو آجائیں اور اپنے بھائیوں سے مل لیں، سال بھر میں ایک مرتبہ حج کے عنوان سے عالمی اجتماع بھی رکھا گیا ہے جس میں ایک شہر یا ایک ملک کے مسلمان ہی نہیں بل کہ دنیا کے ہر ملک اور اس ملک کے ہر شہر سے مسلمان سفر کی مشقتیں اٹھا کر منی اور عرفات کے میدانوں میں جمع ہوتے ہیں اور مناسک حج ادا کرتے ہیں، ایک دوسرے سے متعارف بھی ہوتے ہیں اور آپس میں گفت وشنید بھی کرتے ہیں، غرضیکہ اسلام کی تمام عبادات اجتماعیت کا درس دیتی ہیں اور اس کی عملی مشق بھی کراتی ہیں۔

یہ تمہید اس لئے قائم کی گئی کہ اجتماعیت کے جس تصور کو اسلام نے پنج وقتہ، ہفتہ واری، اور سالانہ اجتماعات کے ذریعہ ہماری زندگی میں رچانے بسانے کی کوشش کی ہے ہم اسے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کرنے لگے ہیں، آپ ہفتہ واری اجتماعات ہی کو لے لیجئے، ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم اس اجتماع کے لئے اپنے شہر کی جامع مسجد کو ترجیح دیں، جامع مسجد تنگ پڑ جائے تو علاقے کی کسی ایک بڑی مسجد کو جمعہ کی نماز قائم کرنے کے لئے منتخب کریں، اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ ایک ایک محلے کی کئی کئی مسجدوں میں جمعہ قائم کیا جارہا ہے، ماناکہ آبادی بڑھ رہی ہے، مسجدیں تنگ پڑ رہی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ گلیوں کی مسجدوں میں بھی جمعہ ہونے لگے، پہلے لوگ بڑے اہتمام کے ساتھ جمعہ کے دن شہر کی جامع مسجد میں جاکر نماز پڑھا کرتے تھے، اب کوشش کرتے ہیں کہ چند قدم بھی چلنے کی زحمت نہ ہو، گھر سے نکلتے ہی مسجد میں گھس جائیں، اور مسجد سے نکلتے ہی گھر میں داخل ہوجائیں، جب سے محلّے محلّے میں جمعہ ہونے لگا ہے شہر کے زیادہ تر لوگ جامع مسجد کا راستہ بھول گئے ہیں، سب سے زیادہ افسوس عیدین کے دن ہوتا ہے، جب لوگ دوگانہ نماز عید ادا کرنے کے لئے عیدگاہ کے بجائے محلّے کی مسجدوں کا رخ کرتے ہیں، حالاں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی نماز ہمیشہ عیدگاہ میںادا فرمائی ہے، مدینہ طیبہ میں مسجد موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بھی نماز پڑھاسکتے تھے، صرف ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ بارش کی وجہ سے عیدگاہ تشریف نہ لے جاسکے اور نماز عید مسجد میں ادا فرمائی، حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تھے، سب سے پہلے آپ نماز پڑھاتے تھے پھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوتے اور خطبہ ارشاد فرماتے، لوگ بدستور صفوں میں بیٹھے رہتے تھے، (صحیح البخاری: ۲/۱۷، رقم الحدیث: ۹۵۶) اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مولانا منظور نعمانیؒ نے لکھا ہے ’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہی تھا کہ عیدین کی نماز آپ مدینہ طیبہ کی آبادی سے باہر اسی میدان میں پڑھتے تھے جس کو آپ نے اس کام کے لئے منتخب فرمالیا تھا اور گویا (عیدگاہ) قرار دے دیا تھا اس وقت اس کے گرد کوئی چہار دیواری بھی نہیں تھی، بس صحرائی میدان تھا، لکھا ہے کہ مسجد نبوی سے قریب ایک ہزار قدم کے فاصلے پر تھا ۔ (معارف الحدیث: ۳/۳۹۹) حدیث کی کتابوں میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معذو رین کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے، صرف ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز مسجد میں پڑھائی (سنن أبی داؤد: ۱/۳۰۱، رقم الحدیث: ۱۱۶۰) مولانا رشید احمد لدھیانویؒ نے شامی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اصل حکم یہی ہے کہ عیدین کے لئے شہر سے باہر ایک ہی جگہ اجتماع عظیم ہو، اس میں شوکت اسلام کا مظاہرہ بھی ہے، مگر بڑے شہروں سے باہر نکلنا مشکل ہے، اس لئے شہر کے اندر بڑے میدان میں یا ضرورت کے وقت مسجد میں نماز ادا کرنا بلاکراہت درست ہے لیکن حتی الامکان لازم ہے کہ ہر محلّے میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات کے بجائے ایک بڑے مقام پر بڑے اجتماع کی کوشش کی جائے۔ (احسن الفتاوی: ۴/۱۱۹، بحوالہ فتاوی شامی: ۱/۷۷۶) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف بارش یا کسی دوسرے عذر کی وجہ سے عیدگاہ کی نماز ترک کی جاسکتی ہے اگرعذر نہ ہو تو عیدین کی نمازیں عیدگاہ ہی میں ہونی چاہئیں، حضرت مولانا عبدالرحیم لاجپوریؒ تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ ’’نماز عید کے لئے عیدگاہ جانا سنت مؤکدہ ہے، بلا عذر اس کا تارک لائق ملامت اور مستحق عتاب ہے، اور ترک کا عادی گنہ گار ہوتا ہے، شہر سے عیدگاہ دور ہونے کی وجہ سے اگر ضعیفوں اور بیماروں کو تکلیف ہوتی ہو ان کے لئے مسجد میں انتظام کرنے کی فقہاء نے اجازت دی ہے‘‘۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱/۲۷۶)

افسوس کی بات یہ ہے کہ اب ہمارے ذہنوں میں عیدگاہ کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی جو قرن اول سے ہمارے بچپن تک باقی تھی، اب لوگ دوری وغیرہ کو بنیاد بنا کر عید جیسے عظیم الشان اجتماع میں شامل ہونے کے بجائے کوشش یہ کرتے ہیں کہ محلّے کی مسجدوں میں دوگانہ نماز عید ادا کرلی جائے، بڑے شہروں میں تو یہ عذر واقعۃً قابل قبول ہوسکتا ہے کہ عیدگاہ بہت دور ہوتی ہے، اور شہر سے نکل کر عیدگاہ تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے لیکن قصبات اور چھوٹے چھوٹے شہروں میں عیدگاہ تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، اور اگر کچھ مشکل بھی ہو تو کیا ہم اپنی اجتماعیت برقرار رکھنے کے لئے اور شوکت اسلام کا اظہار کرنے کے لئے اس مشکل پر قابو نہیں پاسکتے، جب کہ یہ دوری خالی از فائدہ بھی نہیں ہے، ہمارے لئے عیدگاہ کی طرف قدم اٹھانے اور بڑھانے میں بھی فضیلت رکھی گئی ہے اور اجر وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، بل کہ مسنون تو یہ ہے کہ عیدگاہ جانے کے لئے ایک راستے کا انتخاب کریں اور واپس آنے کے لئے دوسرے راستہ منتخب کریں، اس سے بھی اجتماعیت اور شوکت کا اظہار ہی مقصود ہے، بہ ظاہر تو کوئی دوسری مصلحت سمجھ میں نہیں آتی۔

آبادی کی کثرت کو بنیاد بنا کر قصبوں اور شہروں میں عیدین کے نماز یں اب کئی کئی مسجدوں میں ادا کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، حالاں کہ عام طور پر ان قصبوں کی آبادی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ عیدگاہ میں سما نہ سکے، اگر آبادی زیادہ بھی ہے تب بھی ایک اجتماع کیا جاسکتا ہے، بس اتنا ہوگا کہ صفیں عیدگاہ سے باہر دور دور تک چلی جائیں گی اور اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں، اگر اس میں کوئی مضائقہ ہے تو عیدگاہ میں دو یا تین جماعتیں بھی کی جاسکتی ہیں، فقہاء نے صراحت کی ہے کہ عام حالات میں تو عیدگاہ کے اندر جماعت ثانیہ کی اجازت نہیں ہے لیکن اگر عیدگاہ میں جگہ کی تنگی وغیرہ کی وجہ سے کافی لوگ جماعت سے رہ گئے ہوں تو ایسے عذر کی بنا پر دوسری جماعت کی گنجائش ہے لیکن اس جماعت کا امام دوسرا ہونا چاہئے۔ (احسن الفتاویٰ: ۴/۱۲۵، فتاوی رحیمیہ:۵/۳۰) یورپ اور امریکہ وغیرہ ممالک میں مسلمان کوئی بڑا میدان، شادی ہال یا اسٹیڈیم وغیرہ کرائے پر حاصل کرلیتے ہیں، وہاں وقفے وقفے سے عید کی نماز مختلف اماموں کی امامت میں ادا کی جاتی ہے کیوں کہ ان جگہوں پر اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ تمام مسلمان ایک ساتھ نماز ادا کرسکیں، پارکنگ وغیرہ کی مجبوری سے، یا میدان سے باہر نماز ادا کرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے تمام مسلمانوں کا ایک ہی وقت میں نماز ادا کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لئے بعض بڑی مساجد میں بھی دو تین جماعتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر تمام مسلمان عیدین کی نماز عیدگاہ میں ادا کرنے کا عزم کریں تو بڑے اجتماعات بھی ممکن ہیں، ہمارے ملکوں میں بڑے اجتماعات کے مناظر عام ہیں، اور اگر بڑے اجتماعات سے گریز ہو تو عیدگاہ ہی میں وقت کے فرق کے ساتھ ایک سے زائد نمازوں کا اہتمام بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ عیدین کی اجتماعیت کو آبادی کی کثرت یا عیدگاہ کی دوری کو عنوان بنا کر نقصان پہنچایا جائے اور ایک مؤکد سنت کو ترک کرنے کا گناہ مول لیا جائے۔

ہم اپنے شہر دیوبند کی بات کرتے ہیں، ۸۰ء سے قبل یہاں عیدین کی نماز صرف عید گاہ میں ہوتی تھی، اس میں شامل ہونے کے لئے صرف اہل شہر ہی نہیں بل کہ قرب وجوار کے دیہات میں بسنے والے مسلمان بھی اپنے بچوں کے ساتھ ٹرکوں اور ٹرالیوں میں لد لداکر عیدگاہ میں پہنچا کرتے تھے بڑا روح پرور اور متأثر کن نظارہ ہوتا تھا، اب صورت حال یہ ہے کہ گاؤں کے لوگوں نے اپنی نماز عید الگ شروع کردی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان پر نماز عید فرض بھی ہے یا نہیں، شہر میں دس پندرہ جگہ عید کی نماز ہونے لگی ہے، غضب کی بات تو یہ ہے کہ بعض مسجدوں میں نماز عید کا وقت عیدگاہ کی نماز کے وقت سے پہلے رکھا جاتا ہے، بہت سے عجلت پسند لوگ پہلے ہی نماز پڑھ کر فارغ ہوجاتے ہیں، جو لوگ عیدگاہ میں نہیں جانا چاہتے یا کسی وجہ سے عیدگاہ جانے سے رہ جاتے ہیں وہ کسی پریشانی یا افسوس کے بغیر دوسری مسجدوں میں جاکر نماز اداکرلیتے ہیں، مانا کہ آپ کی نماز صحیح ہوگئی لیکن عید میں اجتماعیت کا جو اہتمام مقصود ہے وہ تو حاصل نہ ہوا، اس سلسلے میں ہمارے علماء کو سوچنا چاہئے، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو عیدین کے مقصد، اہمیت اور اسلام کے نظریۂ اجتماعیت سے لوگوں کو آگاہ کریں اور بتلائیں کہ عیدین کی نماز عیدگاہ میں سنت مؤکدہ کی حیثیت رکھتی ہے، بلا عذر عیدگاہ نہ جانا گناہ کا باعث ہے۔

بلاشبہ بعض قصبوں اور شہروں میں عیدگاہیں چھوٹی بھی پڑگئی ہیں، اس کا ایک حل تو وہی ہے جو بتلایا گیا کہ دوسری اور تیسری جماعت کرلی جائے، دوسرا حل یہ ہے کہ دوسری بڑی عیدگاہ بنالی جائے، پھر عید کے اجتماع کے لئے مستقل عیدگاہ کی بھی ضرورت نہیں ہے، شہر سے باہر کسی بھی بڑے میدان میں عید کی نماز ادا کی جاسکتی ہے، شریعت میں عیدگاہ کی تخصیص نہیں ہے بل کہ مسنون صرف یہ ہے کہ شہر سے باہر جاکر نماز عید ادا کی جائے، (فتاوی دار العلوم: ۵/۲۳۰) ایک شہر میں دو عیدگاہیں بھی ہوسکتی ہیں اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم: ۵/۲۰۸) عیدگاہ کی توسیع سے لے کر دوسری عیدگاہ بنانے تک ہر معاملے میں شریعت نے بڑی گنجائش رکھی ہے، ضرورت یہ ہے کہ شریعت کی تعلیمات میں پوشیدہ حکمتوں کو سمجھاجائے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔

(بصیرت فیچرس)

nadimulwajidi@gmail.com