مسجد میں عورتوں کا اعتکاف

مسجد میں عورتوں کا اعتکاف

مفتی شکیل منصور القاسمی

صدر مفتی سورینام جنوب امریکہ

“اعتکاف” لغوی اعتبار سے
’’ رکنے ‘‘ اور “کسی چیز سے چمٹے رہنے “کو کہتے ہیں ،
جبکہ اصطلاح شرع میں : “ایسی مسجد میں اللہ کے لیے ، عبادت کی نیت سے رکنے کو “اعتکاف ” کہتے ہیں جہاں پنج وقتہ نماز ہوتی ہو ۔ ( وهو في اللغة الإقامة على الشيء، ولزومه، وحبس النفس عليه، ومنه قوله تعالى {ما هذه التماثيل التي أنتم لها عاكفون} [الأنبياء:۵۲] وقوله تعالى {يعكفون على أصنام لهم} [الأعراف:۱۳۸] وفي الشريعة: هو الإقامة في المسجد واللبث فيه، مع الصوم والنية، قال اللہ تعالى {أن طهرا بيتي للطائفين والعاكفين} [البقرة:۱۲۵] والمعنى اللغوي فيه موجود مع زيادة وصف .(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق- عثمان بن علي بن محجن البارعي، فخر الدين الزيلعي الحنفي (م:۷۴۳ هـ):۱؍۳۴۷، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ط: المطبعة الكبرى الأميرية – بولاق، القاهرة٭مراقي الفلاح، ص: ۲۶۴، باب الاعتکاف،ط: المکتبۃ العصریۃ٭درر الحكام شرح غرر الأحكام- محمد بن فرامرز بن علي الشهير بملا – أو منلا أو المولى – خسرو (م:۸۸۵هـ):۱؍۲۱۲، کتاب الصوم، باب الاعتکاف،ط: دار إحياء الكتب العربية٭رد المحتار علی الدر المختار:۲؍۴۴۰، کتاب الصوم، باب الاعتکاف،ط: دار الفکر)

اعتکاف اہم ترین عبادت ، انابت الی اللہ اورتقرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے ۔
ہمارے دین و مذہب میں مرد وعورت ، دونوں ‘ دینداری، تقوی، پرہیزگاری اور رجوع الی اللہ کے یکساں محتاج ہیں ، اس لئے “اعتکاف ” دونوں صنفوں کے لئے برابر کار ثواب اور “سنت ” ہے ۔
اعتکاف صرف مردوں یا سن رسیدہ خواتین کے حق میں رجسٹرڈ عبادت نہیں ، بلکہ دونوں صنفوں کے ہر عمر کے حضرات وخواتین کے لئے یہ یکساں سنت ہے –
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاحیات خود رمضان کے آخر عشرے کا اعتکاف فرمایا اور آپ کی ازواج مطہرات نے بھی آپ کے ہمراہ مسجد نبوی میں اور آپ کے بعد اپنے اپنے گھروں میں (مرقات المفاتیح حدیث نمبر 2097 ) بھی اس سنت پہ عمل کیا اور اس طریقے کو باقی رکھا ۔بخاری شریف میں ہے :
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
صحيح البخاري. كتاب الاعتكاف
رقم الحديث : 1922

اس حدیث سے واضح ہے کہ اعتکاف مسنون مردوں کی خصوصیت نہیں بلکہ یہ مرد وعورت دونوں کے لئے یکساں سنت ہے ۔

جمہور علماء امت کا اتفاق اس بات پر اتفاق ہے کہ مردوں کے اعتکاف مسنون کے لئے “مسجد ” ہونا ضروری ہے ۔کیونکہ قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی آیت 187 میں اسے مسجد کی قید کے ساتھ مقید کیا گیا ہے ۔
تاہم اس کے لئے کسی مخصوص شہر کی کوئی مخصوص مسجد لازم وضروری نہیں۔
ہاں اتنا ضرور ہے کہ سب سے افضل اعتکاف مسجد حرام میں، پہر مسجد نبوی میں ، پہر مسجد اقصی میں ، پہر جامع مسجد اور پہر زیادہ نمازیوں والی مسجد میں ہے :

( وأما أفضل الاعتکاف ففي المسجد الحرام ، ثم في مسجدہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ثم في المسجد الأقصی ، ثم في الجامع ، قیل : إذا کان یصلی فیہ بجماعۃ فإن لم یکن ففي مسجدہ أفضل لئلا یحتاج إلی الخروج ، ثم ما کان أہلہ أکثر ۔’’ رد المحتار(۳/۳۸۱ ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، النہر الفائق :۲/۴۴ ، خلاصۃ الفتاوی :۱/۲۶۷)

جہاں تک عورتوں کے اعتکاف کی جگہ کی بات ہے تو اس بابت جمہور علماء اور شافعیہ کے قول جدید کے مطابق عورتوں کے اعتکاف مسنون کے لئے بھی “مسجد جماعت ” ضروری ہے ،عورت اگر گھر میں اعتکاف کرلے تو اعتکاف مسنون ان حضرات کے یہاں صحیح نہ ہوگا ۔
جبکہ ابراہیم نخعی، سفیان ثوری ،ابن علیہ ، شافعیہ کا قول قدیم اور حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ پردہ کے اہتمام، آداب وحقوق مسجد کی رعایت، مردوں کے ساتھ بالکلیہ عدم اختلاط، بغیر زیب زینت اور بغیر آرائش وزیبائش اور فتنوں سے مکمل تحفظ کے تیقن کے ساتھ عورتین مسجد جماعت میں اعتکاف کرسکتی ہیں !
تاہم ان کے لئے افضل یہ ہے کہ اپنے گھروں میں اعتکاف کریں۔
یعنی شرائط مذکورہ کی رعایت کے ساتھ مسجد میں عورت کا اعتکاف بھی اگرچہ حنفیہ کے یہاں جائز ہے ، لیکن خلاف افضل یعنی مکروہ تنزیہی ہے ۔
(عینی شرح بخاری ،جلد 11 ،صفحہ 141 (287 )

عورتوں کے اعتکاف کی صحت کے لئے مسجد کو لازم قرار دینے والے علماء کے پیش نظر یہ دلائل ہیں :
1۔۔۔ آیت کریمہ “وانتم عاكفون في المساجد ” البقرة : 187 – اور تم مسجدوں میں اعتکاف کیا کرو)
2۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کہ آپ نے ہمیشہ مسجد ہی میں اعتکاف فرمایا
3۔۔۔ابن عباس کا فرمان جس میں انہوں نے گھر میں اعتکاف کی نذر ماننے والی خاتون کے عمل کو بدعت اور بدعت کو اللہ کی نظر میں سب سے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔

جبکہ مسجد کی بہ نسبت گھر میں عورت کے اعتکاف کو افضل قرار دینے والے حضرات علماء کے پیش نظر یہ دلائل ہیں :

1۔۔۔۔۔۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَاءٍ فَبُنِيَ لَهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَى بِنَائِهِ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
صحيح البخاري رقم الحدیث 1940۔بَاب مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَخْرُجَ
(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےایک مرتبہ فرمایا کہ میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کروں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی (کہ وہ بھی اعتکاف کریں گی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا مجھے بھی اجازت دلا دو، انہوں نے اجازت دلا دی۔ جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی (خدام کو خیمہ لگانے کا) حکم دے دیا۔ چنانچہ ان کا بھی خیمہ لگادیا گیا۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے تو بہت سارے خیموں کو دیکھ کر فرمانے لگے: یہ خیمے کیسے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ حضرت عائشہ،حضرت حفصہ اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن نے لگائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا انہوں نے اس سے نیکی کا ارادہ کیا ہے؟ “فامر بخبائہ فقوض” پهر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے اکھاڑنے کا حکم دیا.
(صحیح البخاری: ج1ص274 باب من أراد أن يعتكف ثم بدا لہ أن يخرج)
یہی روایت صحیح مسلم میں بهی موجود ہے.

2۔۔۔۔حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا۔سنن ابی داود 570
ترجمہ:
ابن مثنی، عمرو بن عاصم، ہمام، قتادہ، مورق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے یعنی عورت جس قدر بھی پردہ اختیار کرے گی اسی قدر بہتر ہے صحن میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ میں نماز پڑھنا افضل ہے اور کمرہ میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ کے اندر بنی ہوئی کوٹھری میں نماز پڑھنا افضل ہے۔

غور کیجئے ! جب نماز کے لئے عورت کے گھر کو ثواب وفضیلت میں مسجد کا حکم دیدیا گیا اور مسجد جماعت کی بہ نسبت یہاں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا گیا تو یقینا اعتکاف کے لئے بھی یہی حکم ہوگا ، کیونکہ نماز اور اعتکاف دونوں مسجد کے ساتھ مخصوص اعمال ہیں ۔
واذاکان لہ حکم المسجدفی حقھا فی حق الصٖٖٖٖٖٖلاۃ فذلک فی حق الاعتکاف لان کل واحد منھما فی اختصاصہ بالمسجد سواء(بدائع ص ۲۸۲ج۲)

3۔۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ. )سورۃ البقرہ:187(
ترجمہ:اور تم مسجدوں میں اعتکاف کیا کرو۔
اس آیت کی تفسیر میں امام ابوبکر الجصاص م 370ھ فرماتے ہیں:
وأما شرط اللبث في المسجد فإنه للرجال خاصة دون النساء۔ )احکام القرآن للجصاص :ج1ص333(
ترجمہ:مسجد میں ٹھہرنے کی شرط (اعتکاف کے لیے)صرف مردوں کے لیے نہ کہ عورتوں کے لیے۔

*قابل غور پہلو*

اگر مسجد میں عورت کا اعتکاف پسندیدہ یا افضل عمل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے خیمے لگ جانے کے بعد مسجد سے اکھاڑ پھینکنے کا حکم صادر نہ فرماتے!

اسی لئے حنفیہ اور علامہ ابن بطال کی نقل (عینی ج11 ص 141 ) کے مطابق شافعیہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مرد کے لئے اپنے محلہ کی مسجد میں اور عورت کے لئے اپنے گھر کے مخصوص جگہ میں اعتکاف کرنا افضل ہے ۔

والمرأۃ تعتکف فی مسجد بیتہا، إذا اعتکفت فی مسجد بیتہا فتلک البقعۃ فی حقہا کمسجد الجماعۃ فی حق الرجل لا تخرج منہ إلا لحاجۃ الإنسان۔ (عالمگیری ۱؍۲۱۱، ومثلہ فی الخانیۃ ۱؍۲۲۱، مراقی الفلاح ۳۸۳، تبیین الحقائق ۲؍۲۲۵۔الھدایہ ج1 ص 209 )

لیکن اگر کسی مسجد میں اس طرح مکمل نظم وضبط ہو کہ شرعی حدود کا مکمل لحاظ ہو،پردہ کی مکمل رعایت ہو ، زیب وزینت ، آرائش وزیبائش سے مکمل اجتناب اور مردوں سے مکمل عدم اختلاط کا ماحول اور وقوع فتنہ سے تحفظ کی یقینی صورت حال ہو تو عورت کو ان شرطوں کی رعایت کے ساتھ ایسی مسجد میں اعتکاف یا نماز پڑھ لینے کی حنفیہ کے یہاں بھی گنجائش ہے ۔
لیکن اگر عورت خود کو اس طرح شرعی حدود وقیود کی پابند نہیں کرسکتی تو ایسی خاتون کے لئے بہتر وافضل ہے کہ اپنے گھر کے کونہ میں اعتکاف کرے ۔
ابن نجیم لکھتے ہیں :

ان إعتکافها فی مسجد الجماعة جائز.

’’بے شک عورت کا جماعت والی مسجد میں اعتکاف جائز ہے۔‘‘

علامہ کاسانی کی بدائع الصنائع کے حوالہ سے آپ مزید لکھتے ہیں :

ان اعتکافها فی مسجد الجماعة صحيح بلا خلاف بين اصحابنا.

ابن نجيم، البحر الرائق، 2 :  324

’’عورت کا مسجدِ جماعت میں اعتکاف میں بیٹھنا درست ہے۔ اس میں ہمارے ائمہ احناف کے مابین کوئی اختلاف نہیں۔‘‘

علامہ ابن عابدین شامی ردالمحتار میں عورت کا مسجد میں اعتکاف بیٹھنا مکروہ تنزیہی قرار دیتے ہیں ساتھ ہی بدائع الصنائع کے حوالہ سے لکھتے ہیں :

صرح فی البدائع بأنہ خلاف الأفضل۔

ابن عابدين شامی، رد المحتار، 2 :  441

’’بدائع الصنائع میں علامہ کاسانی نے تصریح فرمائی ہے کہ مسجد میں عورت کا اعتکاف بیٹھنا خلافِ افضل ہے۔‘‘

حدود شرعیہ کے لحاظ کے ساتھ مردوں سے الگ رہتے ہوئے مسجد میں پہنچ کر مسجد کے کسی الگ حصہ میں مردوں سے الگ رہ کر الگ کھڑی ہو کر نماز پڑھنے سے عورتوں کو روکنے سے منع کیا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ إِدْرِيسَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ
صحيح مسلم442

علامہ نووی کے بقول :
عدم اختلاط ،عدم تزین ، عدم تطیب، عدم خوف فتنہ کے ساتھ عورتیں مسجد جاسکتی ہیں ۔
لیکن گھر کی چہار دیواری ان کے لئے بہر حال اولی وبہتر ہے ۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نصیحت بھی یہی ہے ۔
﴿ قال العلامۃ اِبن الہمام فی شرح الہدایۃ ۔ وروی اِبن خزیمۃ عنہ ’’ اِنّ أحبّ صلاۃ المرأۃ الی اﷲ فی أشد مکان فی بیتہا ظلمۃ ‘‘ وفی حدیث لہ ولابن حبّان ’’ وأقرب ما تکون من وجہ ربّہا وہی فی قعر بیتہا ‘‘ ومعلوم أن المخدع لا یسع الجماعۃ، وکذا قعر بیتہا وأشد ظلمۃ، شرح فتح القدیر ص ۳۵۴ ج۱۔ دارالفکر بیروت ﴾
﴿ وعن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت لَو أدرک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ما أحدث النساء لمنعہن المسجد کما مُنِعَتْ نساء اسرائیل، صحیح بخاری ص ۲۹۶ ج ۱۔ حدیث رقم ۸۳۱ ۔ وقال الدکتور مصطفیٰ دیب البُغا فی حاشیتِہٖ ( ما أحدث النساء ) من اِظہار الزینۃ ورائحۃ الطیب، وحسن الثیاب ونحو ذلک ۔ وقال النو وی ؒ فی شرح مسلم،لا تمنع المسجد لکن بشروط ذکرہا العلماء ماخوذۃ من الأحادیث وہو أن لا تکون متطیبۃ ولا متزينة ولا ذات خلالل يسمع صوتہا ولا ثیاب فاخرۃ ولا مختلطۃ بالرجال ولا شابّۃ ونحوہا ممّن یفتتن بہا وأن لا یکون فی الطریق ما یخاف بہ مفسدۃ ونحوہا ص ۱۸۳ج۱﴾

*خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسجد کی نسبت عورت کا گھر میں اعتکاف میں بیٹھنا افضل ہے۔مسجد میں نماز یا اعتکاف کے لئے جانے کی ممانعت “سد ذریعہ ” کے طور پر ہے ۔ اس طرح دیکھا جائے تو جمہور ائمہ اور حنفیہ وشافعیہ کا اختلاف، لفظی ہوا حقیقی نہیں ۔* واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی۔ بیگوسرائیوی
27 رمضان 1439 ہجری
(بصیرت فیچرس)