کیا طیب اردوغان کا سفر جاری رہے گا؟ 

کیا طیب اردوغان کا سفر جاری رہے گا؟ 

ترکی کے الیکشن میں کامیابی کے بعد اردغان کی زندگی پر تحریر ایک کتاب ’رجب طیب اردوغان‘ کے حوالے سے ایک تبصرہ‘
شکیل رشید
منصوبہ بڑا ہی آسان مگر بے حد خوفناک تھا۔۔۔
رجب طیب اردوغان کو پھانسی پر چڑھادیا جائے ، عبداللہ اوکلان کو قتل کردیا جائے ۔ اور پھر ترکی میں مذہبی سیکولر طبقے اور کردوں کے درمیان جنگ کی ایسی آگ بھڑکا دی جائے کہ یہ بھی عراق اور شام کی طرح شیدید قسم کی خانہ جنگی کی لپیٹ میں آجائے ۔ اور نتیجے میں شام کی باقی ماندہ سنّی آبادی اور شامی مہاجرین تباہی وبربادی کی اس کگار پر جاکھڑے ہوں جہاں سے واپسی ناممکن ہوجائے ۔ اور ترکی کی اینٹ سے اینٹ بچ جائے ! مگر ’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘ کے مصداق ترکی کی ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۶ء کی فوجی بغاوت ناکام ہوگئی۔ صرف ناکام ہی نہیں ہوئی ، اس فوجی بغاوت نے طیب اردوغان کے قدم ترکی کی زمین پر بھی ، عالم اسلام میں بھی اور غیر مسلم دنیا میں بھی ایک جدید مگر اسلامی مزاج رکھنے والے قائد کی حیثیت سے کچھ اس قدر مضبوط کردیئے کہ تازہ ترین صدارتی انتخابات میں ان کے مدّمقابل آنے والے لیڈروں اور پارٹیوں کو ’ اردوغان پسندوں‘ نے اس طرح سے ناکام بنایا کہ وہ اپنی شکست کو یاد کرکے برسوں تلملاتے رہیں گے ۔ اور صرف وہی کیوں سارا یوروپ ، امریکہ اور ترکی بلکہ اردوغان کے سارے مخالفین جو زورلگائے ہوئے تھے کہ اردوغان جس طرح بھی ہو ہار جائیں، اپنے زخموں کو برسہا برس تک چاٹتے رہیں گے ۔
آخٔر ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۴ء تک ترکی کے وزیراعظم اور ۲۰۱۴ء سے ابتک ترکی کے صدر کی حیثیت سے حکمرانی کرنے والے رجب طیب اردوغان میں وہ کون سی خوبیان یا وہ کون سی صفات ہیں جو انہیں نہ صرف مقبول بنائے ہوئے ہیں بلکہ انہیں مسلم دنیا میں انتہائی بااثر اور طاقتور لیڈر کی حیثیت دے رکھی ہے ؟؟ اس سوال کا جواب چند سطروں میں دینا ممکن نہیں ہے ، اس کے لئے پوری ایک کتاب درکار ہے ۔ اردو زبان میں ویسے بھی’حالات حاضرہ ‘پر کتابوں کا فقدان ہے لیکن یہ اردوغان کی ’ کرشماتی شخصیت‘ کا کمال ہی ہے کہ اردو میں ان پر پوری ایک کتاب ابھی حال میں شائع ہوکر آئی ہے ۔’ر جب طیب اردوغان ‘ نام کی کتاب عربی زبان میں ڈاکٹر راغب السرجانی کی تحریر کردہ ہے ، اسے اردو کا جامعہ ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی نے پہنایا ہے ، بلکہ ترجمے کے ساتھ کتاب میں اضافے بھی کیئے ہیں ۔ عربی کتاب چونکہ ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی تھی اس لئے مترجم نے اپنے تحریر کردہ ضمیمے بھی شامل کیے ہیں تاکہ ۲۰۱۲ء کے بعد کے حالات پر روشنی پڑسکے ۔
اردوغان ۲۶؍فروری ۱۹۵۴ء میں استنبول میں پیدا ہوئے جو پہلے ترکی کا دارالحکومت تھا ، ان کی ولادت ایک پسماندہ ترک خاندان میں ہوئی ، ان کے والد ساحلی گارڈ تھے ، اردوغان کی تعلیم ایک دینی مدرسے میں ہوئی ۔ کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ اس عہد کا شامل ہے ۔ ’’ایک روز دینی تربیت کے استاد نے عملی مشق کے گھنٹے میں مطالبہ کیا کہ کوئی طالب علم نماز کی امامت کرے تو اردوغان نے یہ ذمہ داری قبول کرلی ، لیکن جب مدرس نے ان کو ایک اخبار دیا کہ وہ اس پر نماز ادا کریں تو اردوغان نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ اس اخبار پر نماز نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس کے صفحات میں بے پردہ عورتوں کی تصاویر موجود ہیں ، ان کے اس عمل سے معلم اس قدر خوش ہوئے کہ ان کو ’الشیخ رجب‘ کا لقب دے ڈالا ۔‘‘ جب اردوغان مرحلہ ثانویہ میں ’ مدرسہ ایوب‘ میں منتقل ہوئے تو وطنی مسائل میں دلچسپی لینے لگے ، اسی دوران وہ ترک طلبہ کے قومی اتحاد کی مختلف شاخوں میں سرگرم عمل رہے ۔استنبول یونیورسٹی کے شعبۂ تجارت واقتصادیات میں داخلہ لیا ۔ اردوغان اپنی دینی تعلیم سے بے حد متاثر ہوئے ، وہ آج بھی کہتے ہیں ’’میری کامیابی کا اصل سبب ایمان، اسلامی اخلاق ، اخلاق نبویؐ اور سنت نبویؐ کی اقتداء ہے ۔‘‘
کتاب میں ترکی کی اسلامی تاریخ کے حوالے سے ترکی کے عظیم رہنما پروفیسر نجم الدین اربکان کی سیاسی سرگرمیوں کا تفصیلی ذکر ہے ۔ اردوغان قافلۂ اربکان کے ایک سرگرم سپاہی تھے ، ان کی ’اسلامی ویلفیئر پارٹی‘ کے ایک رکن اور پارٹی میں رہ کر مختلف ذمے داریوں کو سنبھالتے ہوئے اربکان کے دست وبازو ۔
کتاب میں بڑی ہی تفصیل کے ساتھ اردوغان کے سیاسی سفر پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ استنبول کے میر کی حیثیت سے ان کے کارناموں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر راغب السرجانی کے بقول ’’اردوغان کا استنبول کا میئر منتخب ہونا ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم اور امتیازی واقعہ تھا، وہ ترکی کے ایک ایسے میئر ہوگئے جہاں پالیسیاں وضع کی جاتی تھیں ، سیاسی پالیسیاں ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے صادر ہوتی تھیں، تو اقتصادی پالیسیاں ترکی کی اقتصادی راجدھانی استنبول سے صادر ہوتی تھیں۔‘‘ اربکان اور فوج میں ٹکراؤ، اردوغان کی قیادت میں ’ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘ کا قیام گویا کہ ترکی کے حالات روزانہ ہی اوپر نیچے ہورہے تھے ۔ اردوغان اور ان کے ساتھیوں پر اس زمانے میں یہ الزام بھی لگا کہ ’’یہ سب امریکی اور صہیونی ایجنٹ ہوگئے ہیں ۔‘‘ اس الزام کی وجہ اربکان کی پارٹی سے اردوغان اور ان کے ساتھیوں کی علیحدگی تھی۔۔۔۔ اردوغان مشکلوں میں گھرے مگر ایک بڑی تعداد تھی جس کا یہ کہنا تھا کہ اردوغان کا سیکولرزم کی مخالفت نہ کرنا اور سیکولرزم کی محافظ فوج سے ٹکراؤ سے بچنا ’ اسلامی کاژ کے لئے تجدیدی عمل ‘ تھا ۔ اردوغان جب ۲۰۰۳ء میں ترکی کے وزیراعظم بنے تو ترکی شدید ترین اقتصادی مسائل سے دوچار تھا، قرضوں میں اضافہ ہوا تھا، ترکی یوروپین کسٹم یونین کارکن بن گیا تھا جس کی وجہ سے ترکی کے بازاروں میں یوروپی صنعت کا غلغلہ ہوگیا تھا اور ترکی کی صنعتیں دیوالیہ ہوگئی تھیں، کرپشن زوروں پر تھا، فوج کا بجٹ بے پناہ تھا ، حجاب پر شدید اختلافات تھے، کرد مسئلہ بھی گرم تھا ، بیرونی ممالک ترکی کو ہڑپنے کے لئے کوشاں تھے اور اسرائیل کے ساتھ ترکی کے سفارتی تعلقات قائم ہوچکے تھے ۔۔۔ ترک قوم تبدیلی چاہتی تھی، اور اردوغان کی ’کرشماتی شخصیت‘ نے تبدیلی کا کارنامہ کردکھایا ، معیشت کو بہتر بنانے کا اہتمام کیا ۔ اردوغان نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے باوجود فلسطینیوں کی حمایت کی ، انہوں نے اسرائیل سے اسٹراٹیجک شراکت داری ختم کرکے اسے ایک جھٹکہ دیا ، حماس کے وفد کا استقبال کیا اور جب اسرائیل نے حماس کے پارلیمانی نمائندوں کو گرفتار کیا تو سرگرم ترک کارکنان ان کی مدد کو پہنچے ۔۔۔ اس طرح اردوغان حکومت کی کھلی اجازت سے ترکی قوم کا جذبہ قضیۂ فلسطین کی نصرت کے لئے کھل کر سامنے آیا ۔ اردوغان نے حکومت کے دوسرے دور(۲۰۰۷ء) میں بھی معاشی اصلاحات کی پالیسی جاری رکھی ۔ یہ وہ دور ہے جب وہ عالمی منظرنامے پر ابھر کر سامنے آئے ۔ اس دور میں ترکی کی طرف سے قضیۂ فلسطین کے بارے میں بڑی مثبت رائے کا اظہار کیا گیا اور غزہ پر اسرائیلی حملے کے موقع پر ترکی نے سخت اور واضح پیغام جاری کیا اور صہیونی ریاست پر جرائم اور بدترین سلوک کے ارتکاب کا الزام لگایا ۔۔۔۔ کتاب میں ’’ڈیووس کانفرنس‘‘ میں اسرائیلی رہنما کو اردوغان نے جو سخت سست سنائی اس کی تفصیلات دی گئی ہیں جو دلچسپ ہیں ۔ ملاحظہ کریں ۔
’’پھر شمعون پیریز چیخنے لگا ، تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ کیا تم لوگ پاگل ہوگئے ہو؟ جناب اردوغان کیا آپ اجازت دیں گے کہ ایک دن میں سوراکٹ داغے جائیں یا کم از کم استنبول پر دس راکٹ گرائے جائیں؟ اس پر مجمع پیریز کے لئے تالیاں بجانے لگا ، اردوغان نے گفتگو کا مطالبہ کیا تو ناظم جلسہ نے ان کو یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کی کہ پبلک کو سوالات کرنے کا موقع دینا ہے ۔ لیکن اردوغان نے اصرار کیا تو ناظم جلسہ نے صرف ایک منٹ میں اپنی بات کہنے کی اجازت دی ، اردوغان نے سب سے پہلے سامعین پر تنقید کی جنہوں نے بچوں کے قاتل کے لئے تالیاں بجائیں اور پھر باآواز ِ بلند شمعون پیریز کو جواب دیا ، ’’تم صاحب حق نہیں ہو ، تمہاری دلیل کمزور ہے ، اسی لئے تم نے غیر سفارتی لہجہ اختیار کیا اور بلند آواز میں بات کی ،حقیقت یہ ہے کہ ابتدا میں حماس نے راکٹ داغے مگر وہ سب کھلی جگہوں پر گرے ، جبکہ تم لوگوں نے گھروں پر بمباری کی اور چھتوں کو ان گھروں میں موجود عورتوں اور بچوں پر گرادیا ، پر امن سمجھوتے کا مکمل امکان موجود تھا مگر تم لوگوں نے جنگ کا راستہ اختیار کیا ، جناب صدر تم بچوں کے قاتل ہو۔‘‘ ناظم جلسہ نے اردوغان کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ اردوغان نے موتمر کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ،تو اردوغان کھڑے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے ہال سے باہر نکل گئے کہ وہ دوبارہ ’ ڈیووس کانفرنس‘ میں نہیں آئیں گے ۔ ۔۔ اللہ اکبر ! شاید یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی مسلم رہنما صہیونی صدر سے اس سختی اور شجاعت کے ساتھ پیش آیا ہو ۔‘‘
کتاب میں ’ ’ اردوغان اور عرب انقلابات‘‘ کے عنوان کے تحت باب میں ’ عرب بہاریہ‘ کے متعلق اردوغان اور ان کی حکومت کے موقف پر تفصیلی بحث کی گئی ہے ، انہوں نے ’ عرب بہاریہ‘ کی ہر ممکن حمایت کی ۔جون ۲۰۱۱ء کے ترکی کے پارلیمانی انتخابات اور اردوغان کی کامیابی پر پورا باب شامل کتاب ہے ۔ اور آگے کی سطروں میں یہ پیشن گوئی بھی کی گئی ہے کہ جلد ہی ترکی اور مغرب کا ٹکراؤ ہوگا ۔۔۔ ترکی اور اردوغان سے دنیا کو جو توقعات ہیں ان پر بھی صاحب کتاب نے بھرپور بحث کی ہے ۔۔۔ کتاب کے خاتمے پر مصنف نے اردوغان کو ایک خط لکھ کر دس نصیحتیں کی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ’’کو ئی بھی قدم اٹھایئے تو احتساب کیجئے کہ وہ خالص اللہ کے لئے ہو ۔‘‘ ایک نصیحت یہ کی ہے کہ ’’ مغرب اور امریکہ پر اعتماد کرنے والے قافلے میں شامل نہ ہوں ۔‘‘ ’’مسلمانوں کے ہر مسئلے میں نمایاں کردار ادا کریں۔‘‘ ’’عرب ممالک سے اغماض نہ برتیں‘‘۔۔۔ وغیر ہ
ڈاکٹرطارق ایوبی ندوی نے جو ضمیمے شامل کئے ہیں وہ اس کتاب کو ’تازگی‘ عطا کرتے ہیں کہ ان کے مطالعے سے آج کے حالات واضح ہوکر سامنے آجاتے ہیں ۔ وہ ایک جگہ تحریر کرتے ہیں۔ ’’مغرب اسلام کو اپنی راہ کا روڑا سمجھتا ہے ، وہ اسلام کو اپنے باطل نظریات سے متصادم تصور کرتا ہے ، مصر میں اخوانی حکومت کا تختہ پلٹ، سعودیہ ودوبئی سے غاصبوں کی حمایت کا اعلان کرانا ، دیگر ممالک میں اس جماعت پر پابندی اور اس کے قائدین کو تہہ تیغ کرنا یا پس زنداں ڈال دینا سب اسی پالیسی کا نتیجہ ہے ، ڈاینل پائپس نے اپنی تحقیق کے ذریعے امریکی سیاسی ادارو ںکو اسلامی تنظیموں اور اسلام پسندوں کو ختم کرنے کا یہ طریقہ پیش کیا ہے کہ مسلم قائدین کا صفایا کردیا جائے ۔ اور اب خدا محفوظ رکھے ترکی کے اس ’ مرددانا‘ کو کہ وہ بھی اسلام کی نشاۃ الثانیہ کے لئے کوشاں ہے ۔ ‘‘ وہ ۱۵؍ جولائی کی بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں ’’اس بات کے ثبوت وشواہد منظر عام پر آچکے ہیں کہ یہ ایک منصوبہ بند سازش تھی ، اس پر سب متفق ہیں کہ اس کے نتیجے میں ترکی کی طاقت کو توڑنااور اسلام پسندوں کا قتل عام کرنا مقصود تھا، جولسٹ باغیوں کے پاس سے برآمد کی گئی ہے وہ نوہزار افراد پر مشتمل ہے جن پر مقدمات چلاکر انہیں تختۂ دار پر چڑھانا تھا جن میں سرفہرست رجب طیب اردوغان تھے، بلکہ انہیں تو ان کے اس ہوٹل میں جہاں وہ چھٹیاں گزارنے کے لئے قیام پذیر تھے قتل کرنا پہلا مقصد تھا۔‘‘
اب اردوغان کی جیت کے بعد کئی سوال سامنے ہیں ، معاہدہ لوزان کے اختتام کے بعد کیا ہوگا ؟ یہ وہ معاہدہ ہے جس نے ترکی کی طاقت ، ا س کی شناخت ، خود مختاری اور آزادی اور وہاں کے عوام کے اختیارات کو سلب کررکھا ہے ۔ یہ معاہدہ ۲۰۲۳ء میں ختم ہورہا ہے ۔ امید یہی ہے کہ ترکی میں ایک نئی صبح کا سورج طلوع ہوگا ۔۔۔ کتاب بے حد دلچسپ اور معلومات سے پر ہے ۔ عالمی سیاست کے اتار چڑھاو اور عالم اسلام کے خلاف سازشوں کی تفصیلات پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ’ہدایت پبلشرز‘ نے بڑی ہی دلکش انداز میں یہ کتاب شائع کی ہے ۔ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی کا ترجمہ شاندار ہے ۔ کتاب ممبئی میں مکتہ جامعہ (9082835669) سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ ہدایت پبلشرز کا فون نمبر (9891051676) ہے، اس پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
(مضمون نگار ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر اور بصیرت میڈیا گروپ کے سرپرست اعلیٰ ہیں)
(بصیرت فیچرس)