پہلے آپ! 

پہلے آپ! 

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
سپریم کورٹ نے تو اپنا کام کردیا اب گیند دہلی حکومت یا دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کے پالے میں اتنی نہیں ہے جتنی کہ دہلی کے لیفٹننٹ گورنر اور مرکزی سرکار اور اس سے بھی ز یادہ دہلی کے ’بابوئوں‘ یا بالفاظ دیگر ’نوکرشاہوں‘ کے پالے میں ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تو بالکل سیدھا اور سادا ہے کہ اروند کیجری وال کی سرکار عوام کی منتخب کردہ سرکار ہے اس لیے اسے دہلی ریاست کے لیے فیصلے کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کو چاہئے کہ ریاستی سرکار کے فیصلوں میں نہ دخل دیں، نہ اڑچنیں ڈالیں اور نہ ہی افسران یا بابوئوں کو سرکار کے خلاف اکسائیں، بلکہ دہلی کی حکومت جو بھی منصوبے بنائے اور جو بھی پلان پیش کرے اسے منظوری دینے میں آنا کانی نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے بہت ہی صاف صاف لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنر دہلی سرکار کی کابینہ کی صلاح ماننے کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ لیفٹننٹ گورنر لاء اینڈ آرڈر ، پولس اور اراضی سے متعلق معاملات کے خاص ذمے دار ہیں، باقی تمام معاملات میں انہیں کابینہ کی صلاح ماننی ہی پڑے گی۔ اور یہ فیصلہ کسی یک رکنی بینچ نے نہیںبلکہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی پانچ رکنی بینچ نے دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ پانچ سینئر ججوں نے یہ صاف کردیا ہے کہ دہلی کے اصلی ’باس‘ یا ’حاکم‘ ایل جی یعنی لیفٹننٹ گورنر نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ یعنی اروند کیجری وال ہیں۔ اب ایل جی کو اپنی روز مرہ کی ’مداخلتیں‘ روکنی ہی ہوں گی۔
سابق لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کے دور سے دہلی حکومت اور ایل جی میں جنگ چلی آرہی ہے۔ اس جنگ کے اثرات پوری ریاست پر پڑے ہیں۔ عوام کو اس کی مار جھیلنی پڑی ہے۔ کیجری وال نے صحت، طب اورتعلیم کے محکموں میں اصلاحات کے جو اہم اور انقلابی فیصلے کیے تھے، جن سے دہلی کے لوگوں کو راحت ہی ملتی انہیں ایل جی کے دفتر سے بار بار روکاگیا۔ پانی کامسئلہ، بجلی کا مسئلہ، صاف صفائی کا مسئلہ اور نہ جانے کتنے مسئلے تھے جن کے حل کے لیے کیجری وال سرکار نے اقدامات کیے لیکن پہلے نجیب جنگ نے اور پھر انیل بیجل نے ان پر پانی پھیر دیا۔ اور وہ بھی یقیناً اس لیے کہ مرکزی سرکار یعنی مودی کی سرکار یہ نہیں چاہتی تھی کہ کیجری وال سرکار کوئی ایسا کارنامہ انجام دے کہ دہلی کی عوام انہیں اور ان کی عام آدمی پارٹی (آپ) کو کندھوں پر بٹھائے۔ بھلے مودی سرکار کہے کہ یہ اس پر الزام اوربہتان ہے پر ایل جی کے سر اور پیٹھ پر مرکزی سرکار کے ہاتھ صاف نظر آتاہے ۔مسئلے جو حل نہیں ہوئے، کیونکہ انہیں حل نہیں ہونے دیا گیا، ان ہی کو بنیاد بناکر بی جےپی نے دہلی کے الیکشن لڑے۔اب بی جےپی پھر سامنے آکھڑی ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ کانگریس بھی ہے جو کیجریوال کے خلاف ایک طرح سے بی جے پی کی ساتھ محاذ بنائے ہوئے ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دونوں نےا یک سر میںیہ بات کہی ہے کہ’’ کیجریوال اب کوئی بہانہ نہیں چلےگا‘‘ یعنی اب سپریم کورٹ نے تمہیں بادشاہت سونپ دی ہے تو اب سب کام کر دکھانے ہونگے۔ حیرت اس بات پرہے کہ یہ دونوں ہی پارٹیاں اپنے اپنے دور میں دہلی ریاست کو ترقی دینے میں ناکام رہیں لیکن کیجریوال سے کہہ رہی ہیں کہ’ بہانہ نہیں چلے گا‘ ۔ تو اگر واقعی یہ مخلص ہیں کہ دہلی ترقی کرے تو انہیں کیجریوال کا ساتھ دینا ہوگا ان کے اچھے فیصلوں کی حمایت کرنی ہوگی، ایل جی اور نوکر شاہوں کی اڑچنوں کے خلاف کھل کر بولنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ایک دن بعد چند سرکاری افسران دہلی حکومت کے ’ٹرانسفر‘ کے فیصلے کو نہ ماننے پر بضد ہیں اس رویے کےخلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ ایل جی کو بھی یہ سخت حکم دینا ہوگا کہ فیصلہ دہلی سرکار کاہی چلے گا۔ اب اگر واقعی ا س ملک میں جمہوریت ہے تو لوگوں کی جمہوری طورپر منتخب کیجریوال سرکا ر پرا نگلی اٹھانے سےپہلے مرکزی سرکار ، کانگریس، بی جےپی ، ایل جی اورنوکر شاہوں کو ’پہلے آپ‘ کے مصداق آگے بڑھ کر تمام روکاٹیں دور کرنا ہوں گی اور منتخب سرکار کو کام کرنے کی آزادی دینا ہوگی۔
(بصیرت فیچرس)