مدارس ہوشیار رہیں

مدارس ہوشیار رہیں

مدرسہ بورڈ او رمحسن رضائوں سے
کہیں واقعی کرتا پائجامہ کی جگہ ڈریس کوڈ نافذ نہ ہوجائے!
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
حملہ چوطرفہ ہے!
ایک جانب توماب لنچنگ میں ملوث’قاتلوں‘کو بی جے پی کے لیڈران ہارپھول پہنا کر مسلمانوں کو دھونس دے رہے ہیں کہ ہم نے قاتلوں کی ایک ایسی ٹیم تیارکرلی ہے جوتمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔اوردوسری جانب دینی مدرسوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگانے کی کوششیں کرکے یہ بھی جتلایا جارہاہے کہ ہماری حکومت میں اب مذہبی تعلیم کا حصول تمہارے لیے آسان نہیں ہوگا۔تیسری جانب مسلمانوں کے غیرمذہبی تعلیمی اداروں…..جیسے کہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اورجامعہ ملّیہ اسلامیہ وغیرہ…..کے اقلیتی کردار پر سوال اٹھا کر اوران اداروں میں دلتوں کے ریزرویشن کا شوشہ چھوڑکر یہ اشارہ بھی دیا جارہاہے کہ تمہارے لیے ہم اعلیٰ تعلیم کا حصول بھی مشکل کردیں گے۔اورشریعت میں نکاح حلالہ،تعدد ازدواج اورطلاقِ ثلاثہ کے نام پر مداخلت الگ ہے۔پولس اورایجنسیاں دہشت گردی کے بہانے مسلم نوجوانوں کو جس طرح سے نشانہ بنا رہی ہیں پوری مسلم اقلیت اس کا عذاب الگ جھیل رہی ہے۔غرضیکہ کوشش یہی ہے کہ مسلمانوں کو چاروں طر ف سے اس طرح سے گھیر لیا جائے کہ وہ بچنے نہ پائیں!اورستم ظریفی یہ ہے کہ ان سارے معاملات میں بھاجپائیوں ،بھگوائیوں اورسنگھیوں کے ساتھی کوئی اورنہیں مسلمان ہی بنے ہوئے ہیں !وہ مسلمان جو چند پیسوں اورکچھ چھوٹے موٹے عہدوں کے لیے یاباالفاظ دیگر’لالچ‘میں آکر اپنا دین،اپنا ایمان اورعقیدہ سب کچھ چھوڑنے کے لیے ہمہ وقت تیاررہے ہیں۔
مثال یوگی سرکارکے ایک ’مسلمان‘وزیر محسن رضا کی ہی لے لیں……یہ توہم نے ان کے مسلمانی نام کی وجہ سے انہیں’مسلمان‘لکھ دیا ہے ورنہ وہ خودکو’ہندو‘کہنے میں’گرو‘محسوس کرتے ہیں اوروزیر اعظم نریندرمودی کی طرح ۵۶انچ کاسینہ چوڑا کرکے مندرمیں جا کر پوجا کرنے کو اپنا دھرم مانتے ہیں……انہوں نے ایک بیان دیا کہ یوگی سرکا راس بات پر غورکر رہی ہے کہ مدرسوں میں بھی ’ڈریس کوڈ‘لاگوکردیا جائے اورجس طرح دوسرے اسکولوں کے بچے پینٹ شرٹ(اوربچیاں اسکرٹ یاشلوار)پہنتے ہیں اسی طرح مدرسوں کے بچے بھی کرتاپائجامے کی بجائے پینٹ شرٹ پہنیں تاکہ تمام ہی طلباء کی ایک جیسی شناحت بن جائے۔ظاہر ہے کہ یہ بیان مسلمانوں میں اضطراب پیدا کرنے والاتھا اوراضطراب پیدابھی ہوا‘جس کے نتیجے میں یوگی سرکارمیں مذہبی امورکے سینئر وزیر لکشمی نارائن چودھری کو یہ تردیدی بیان جاری کرنا پڑا کہ مدرسوں میں ’ڈریس کوڈ‘لاگوکرنے کایوگی سرکار کا کوئی منصوبہ نہیں ہے یہ محسن رضا کااپناذاتی بیان ہے۔فی الحال تو’تردید ‘ہوگئی پرسوال ہے کہ کیا مستقبل میں کبھی مدرسوں میں’ڈریس کوڈ‘لاگوکرنے کی واقعی کوشش نہیں کی جاسکتی؟محسن رضا جیسے ’ہندومسلمان‘جب تک یوگی سرکا رمیں ہیں تب تک مدرسوں کو کسی بھی رنگ میں رنگنے کاخدشہ، اندیشہ یاخطرہ برقرار ہی رہے گا۔
ویسے فی الحال جو مدرسے یوپی کی یوگی سرکار اورمرکز کی مودی سرکار کی زد میں ہیںوہ، وہ ہیںجن کا ’مدرسہ بورڈ‘ سے الحاق ہےمگربجلی’غیرالحاق شدہ‘مدرسوں پر بھی گرسکتی ہے بس سنگھیوں کو ایک موقعے کی تلا ش ہے۔اورسچ تو یہ ہے کہ ان علمائے کرام اورمہتمم صاحبان نے’خطرے ‘کادرکھولاہےجو مدرسوں کے ’مدرسہ بورڈ‘سے الحاق کی افادیت کے قائل ہیں۔لیکن اب جب سے مدرسوں پر‘بالخصوص یوپی میں طرح طرح کے دباؤپڑنے لگے ہیں‘کبھی رجسٹریشن کے بہانے‘کبھی لازمی یوگا کے بہانے اورکبھی تنخواہوں میں تاخیرکے سبب تب سے ’مدرسہ بورڈ‘کی افادیت کے قائلوں کو بھی تشویش اوریہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ اگرسرکاری ایڈ(مدد)لی جائے گی توسرکاری مداخلت ہوگی ہی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل كے سیکریٹری گلزار احمد اعظمی کا یہ ماننا ہے ’’قصوروار خودمدرسوں کے ذمے داران ہیں،دارالعلوم دیوبند اورجمعیۃ علماء ہند کاصاف طور پر کہنا ہے کہ ہمیں اپنے مدرسوں کو’مدرسہ بورڈ‘میں رجسٹرڈنہیں کرنا ہے،اس کی وجوہات ہیں،جب’مدرسہ بورڈ‘ بناتھا تب کانگریس والے حکومت میں تھے،ان کی ایمانداری پر کچھ لوگ یقین کرتے تھے،اس کے باوجودیہ طئے شدہ بات تھی کہ اگرآپ حکومت سے’مدرسہ بورڈ‘کے نام پر امداد لیں گےتوآگے چل کر حکومت آپ کے مدارس پر کنٹرول کرے گی‘اپنے احکامات اوراپنے سرکاری تعلیمی محکمے کے بنائے گئے نصاب کو لاگوکرے گی،اس کے باوجودکچھ مدارس نے ’مدرسہ بورڈ‘ میں رجسٹرڈکرایا ہے کیونکہ بورڈ‘مہتمم صاحبان کی بہ نسبت زیادہ تنخواہ دیتے ہیں اوراسی میں یہ سب اپنا فائدہ سمجھ رہے ہیں۔اوراب توبی جے پی کی سرکارہے جس پر بالکل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدرمولانا مستقیم احسن اعظمی کاکہناہے ’’انکے نزدیک صرف پیسہ ہی ہے جب کہ ہمارا یعنی جمعیۃ اوردارالعلوم دیوبند کا مسلک یہ ہے کہ ’مدرسہ بورڈ‘کی امداد لینا زہرکھاناہے،اسی لیے جب رمضان وغیرہ میں’مدرسہ بورڈ‘سے الحاق شدہ مدرسوں کے سفراء ہمارے پاس تصدیق نامے حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں توہم صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ جب آپ کو سرکار سے مددملتی ہےتوہم کیوں آپ کے مدرسے کی تصدیق کریں؟‘‘علماء کونسل اورمسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک ذمے دارمولانا محموددریابادی کا موقف اس معاملے میں سخت ہے۔وہ کہتے ہیں’’فی الحال یوپی میں ہمارے مدرسوں کی جو صورتحال ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اکابرین کتنی دورتک دیکھنے والے تھے کہ انہوں نے ’مدرسہ بورڈ‘ کے قیام کے وقت ہی یہ اندازہ کرلیاتھا کہ اس بورڈ سے الحاق کے اثرات مدرسوں پراچھے نہیں پڑیں گے‘اب جوہو رہاہے و ہ سب کے سامنے ہے‘یوگی سرکار کے نئے نئے فرمانوںسے ان مدارس کو‘جو بورڈ سے الحاق کرنا چاہتے ہیں،ہوشیار ہوجاناچاہیے۔‘‘
ممبئی رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمدسعید نوری کا اس سلسلے میں کہناہے ’’ہمارے اکابرین نے سرکاری ایڈ کو ناجائز تونہیں کہاہےمگر’علمائے محتاطین‘نے اس سے منع کیا ہے اورآج جب ’ڈریس کوڈ‘اور’لازمی یوگا‘جیسے معاملات سامنے آرہے ہیں تواندازہ ہوتاہے کہ ہمارے یہ علماء اپنے خیالات میں بالکل صحیح اوردرست تھے۔‘‘ اہل سنت والجماعت کے بریلوی مکتب فکر کے مدارس کی ایک اچھی خاصی تعداد’مدرسہ بورڈ‘ سے الحاق رکھتی ہے۔مبارکپورکے’الجامعۃ الاشرفیہ‘کابھی’مدرسہ بورڈ‘ سےالحاق ہے۔مگربڑے مدرسے تواپنی بات منوا بھی لیتے ہیںلیکن چھوٹے مدرسوں کے لیے سرکاری احکامات ایک مصیبت بن جاتے ہیں۔بقول الحاج محمدسعید نوری’’ہو یہ رہاہے کہ اس طرح شرعی معاملات میں سرکاری مداخلت کاایک دروازہ کھل رہاہے ،اوربات صرف یہی نہیں ہے‘سرکاری تنخواہیں بھاری بھرکم ہیں‘اساتذہ بھی سرکاری اسکولوں کی طرح صبح آکردوپہر تک گھر واپس چلے جاتے ہیں،تعلیمی معاملات متاثرہوتے ہیں اورجس طرح پہلے کے اساتذہ ترویج دین اوراشاعتِ دین میں لگے رہتے تھے آج کے سرکاری تنخواہیں پانے والے اکثراساتذہ اس سے دورہیں‘اس کے خراب اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘تنخواہیں چونکہ سرکار دیتی ہے اس لیے مہتمم صاحب کی بات بھی نہیں سنی جاتی‘اس کاسب سے زیادہ منفی اثرتعلیم پر پڑرہاہے‘ اب فارغین مدارس کی صلاحیتیں کچھ ایک کوچھوڑکر‘ پہلے کے علماء کی طرح نہیں رہ گئی ہیں۔‘‘
مولانا محموددریابادی کے مطابق’’بورڈ کے تحت جو بھی مدارس ہیں،صرف یوپی نہیں سارے ہندوستان کے ‘وہاں انتظام نام کی کوئی چیز نہیں ہے،اساتذہ پر نہ مہتمم کی پکڑہے ،نہ صدرمدرس کی پکڑہے‘تنخواہ حکومت دیتی ہے،اساتذہ پڑھائیں نہ پڑھائیں،وقت پرآئیں نہ آئیں ان کی مرضی،اب رہی تنخواہ والی باٍت توتنخواہ تواچھی خاصی ہے مگرکئی کئی مہینے ملتی نہیں ہے!بہار میں ابھی کچھ پہلے بورڈ کے مدارس کے اساتذہ نے تنخواہ کے لیے دھرنا دیا اورلاٹھیاں کھائی تھیں۔انہیں کئی مہینے سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں،لہٰذا مدارس ہوشیا رہوجائیں۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں’’افسوس کہ ہندوستان کے ضمیر میں کرپشن بسا ہوا ہے،بڑی تعداد میں فرضی مدارس اگ آئے ہیں جو’مدرسہ بورڈ‘سے ملحق ہیں،ان میں بھائی،بچے،ماں،بیوی سب اساتذکے طور پر کام کرتے ہیں اورموٹی موٹی تنخواہیں لے رہے ہیں،انسپکشن کے لیے جب سرکاری افسران آتے ہیں توپاس پڑوس کے بچوں کو طالب علم بنا کر بٹھادیاجاتا ہے اس طرح سرکار کی رقم ‘جوہماری ٹیکس کی رقم ہے ‘وہ ضائع ہوتی ہے۔‘‘
کرپشن کے تعلق سے الحاج محمد سعید نوری بتاتے ہیں’’بورڈ کے سب تونہیں مگرچند ایک مدرسوں میں تواب باقاعدہ ۵۔۶لاکھ روپئے ’رشوت‘لے کر اساتذہ کاتقررکیا جاتاہے،اگروہ اساتذہ کاہل اورکام چورہیں،صرف تنخواہ لے رہے ہیں تب بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی‘کارروائی بھلا’رشوت‘لینے والاکربھی کیسے سکتا ہے!‘‘
گلزار اعظمی کے بقول’’مسلمان ’مدرسہ بورڈ‘کے مدارس کو یہ کہہ کر زکوٰۃ نہیں دیتےکہ جب آپ اپنی ضروریات حکومت سے پوری کر رہے ہیں توہم اپنی زکوٰۃ آپ کوکیوںدیں‘لہٰذا جب تنخواہیں نہیں ملتیں تواساتذہ کابھی اوربورڈ کے مدرسوں کابھی مالی نظام متاثرہوتا ہے‘تعلیمی نظام پر اس کے اثرات پڑتے ہیں جب کہ ان مدارس کے مقابلے وہ مدارس جو بورڈ سے رجسٹرڈ نہیں ہیں وہاں مالی اورتعلیمی دونوں ہی نظام اطمینان بخش ہیں‘مخیرحضرات ان مدارس کی مدد کرتے ہیں اورپھر اہم بات یہ ہے کہ ان مدارس میں سرکاری مداخلت کاراستہ بندرہتاہے۔‘‘
اورسرکارتوہرحال میں مداخلت چاہتی ہے۔گلزار اعظمی کاکہناہے’’مدرسہ بورڈ‘بنانے کامقصد ہی مدارس پر سرکاری تسلط قائم کرنا تھا‘بورڈ نے پیسے کی لالچ دی اورلوگ لالچ میں آگئے‘ اب جب آپ سرکار سے ایڈ لے رہے ہیں تو’ڈریس کوڈ‘بھی ہوگا‘یوگا بھی اوروندے ماترم بھی ‘یہی وہ خدشات تھے جن کو مدنظررکھتے ہوئے جمعیۃ اوردارالعلوم دیوبند نے یہ فیصلہ کیاتھا کہ نہ ہمیں بورڈ میںجاناہے اورنہ ہی کسی بھی نام سے سرکاری امداد قبول کرنی ہے۔‘‘مولانا مستقیم احسن اعظمی ماضی میں جھانکتے ہوئے بتاتے ہیں’’کانگریس کی ابتدا سے ہی یہ کوشش تھی کہ کسی طرح سے مدارس کو بے اثرکیا جائے،اردو زبان کو تواس نے سازش کرکے ختم ہی کردیاہے،جمعیۃ نے تعلیمی بورڈ بنا کر اس کی مخالفت کی ‘بورڈ اب بھی سرگرم ہے اورسرگرم رہے گا ،رہی بات’مدرسہ بورڈ ‘کی حمایت کرنے والوں کی‘تومحسن رضا جیسے یہ لوگ دین بیزار اوردنیا دوست لوگ ہیں،یہ توپوجابھی کرتے ہیں ان کاکوئی ضمیر نہیں ہے۔‘‘
مولانا محمددریابادی این ڈی اے کی واجپئی سرکارکاذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں’’اڈوانی جب وزیر داخلہ تھے تب ایک رپورٹ آئی تھی کہ سرحدی علاقوں میں مدارس کی تعدادبڑھ رہی ہے،اس پر خوب اظہار تشویش کیاگیا اورمدارس میں مداخلت کی پالیسی بنی‘کانگریس کی یوپی اے کی سرکاردس سال رہی اس نے بھی اس پالیسی پرعمل کیا‘توہرحکومت کی نیت مدارس کے تئیں خراب رہی ہے۔اوراب تومرکزمیں پھر این ڈی اے کی سرکار ہے اوریوپی میں یوگی نام کاکٹروادی مذہبی رہنما وزیر اعلیٰ ہے جوآرایس ایس کے نظریے پر چلتا ہے لہٰذاوہ شریعت کی روح کے منافی چیزوں کو مدارس پر تھوپ رہاہے ، یوگا کو ورزش کے نام پر،اس طرح ’سوریہ نمسکار‘کے لیے لوگوں کو مجبورکررہاہے جب کہ سب جانتے ہیںکہ اسلام میں سوائے اللہ کے کسی کی بندگی نہیں ہے،وندے ماترم کاقضیہ ہے‘مسجدوں اورمدرسوں میں تصویریں لگانے کی باتیںہیں‘اوراب یہ محسن رضا کابیان کہ مدرسوں میں کرتا پائجامہ ہٹاکر’ڈریس کوڈ‘لایا جائے گا جبکہ ان کے سینئر وزیر نے اس کی تردید کی ہے،لگتا ہے کہ محسن رضا خود کو بادشاہ سے زیادہ بادشاہ کاوفادار ثابت کرنا چاہتے ہیں،ویسے اگرکل کو اس طرح کاکوئی فرمان آجائے تواس میں تعجب نہیں ہوناچاہیے۔‘‘
خدشہ اورخطرہ ہے کہ ان مدرسوں میں بھی مداخلت شروع ہو سکتی ہے جو بورڈ سے منسلک نہیں ہیں۔گلزار اعظمی اورمستقیم احسن اعظمی کاکہناہے کہ ’’ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے۔‘‘الحاج محمد سعید نوری کاکہناہے ’’محتاط رہناچاہیے۔‘‘مولانا دریابادی اس سلسلے میں کہتے ہیں’’بورڈ کے مدارس کی یہ جو صورتحال ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بورڈ سے الحاق نہ رکھنے والے مدرسوں میں بھی مداخلت کی جائے لہٰذا مدارس کو پوری طرح سے ہوشیاررہناچاہیے،حالات پرنظررکھنی چاہیے،دستاویزات رجسٹریشن ،چاہے چیرٹی کمشنرمیں ہویا وقف میں مکمل ہوناچاہیے،منیجنگ باڈی یاشوریٰ ہونی چاہیے ،مدارس کے پروگراموں میں برادران وطن یاسرکاری افسران کوبھی بلاناچاہیےتاکہ مدارس کی حقیقی صورتحال ان کے سامنے عیاں ہواورایک اچھا پیغام جائے۔بچوں کے قیام وطعام کا انتظام بہترہوتاکہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے نام پرکسی کو دخل اندازی کا موقعہ نہ مل سکے۔مدارس کے نصاب تعلیم کے تعلق سے بہت سی باتیں کی جاتی ہیں،بنیاد ی بات یہ ہے کہ مدرسوں کاکام ڈاکٹریاانجینئر بنانا نہیں ہے دینی رہنمائی کے لیے علماء کو تیارکرنا ہے اوریہ کام ہورہاہے لیکن آج کل عوام الناس کی زبانوں سے بشمول انگریزی سے واقفیت بھی ہوتودعوت کاکام آسان ہو سکتا ہے،کمپیوٹر کادورہے‘کمپیوٹر سے واقفیت ہونی چاہیے تاکہ دینی دعوت مزیدآسان ہو جائے۔لیکن یہ سب کام اس طرح سے ہوں کہ مدرسوں کا اصل کام متاثرنہ ہو۔‘‘
(بصیرت فیچرس)