الیکشن جیت کر جو بھی آئے گا، قبول ہوگا: فوجی ترجمان

الیکشن جیت کر جو بھی آئے گا، قبول ہوگا: فوجی ترجمان

اسلام آباد :10؍جولائی(بی این ایس؍ایجنسی)
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی کوئی پسندیدہ جماعت یا سیاسی وابستگی نہیں ہے اور فوج 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مکمل طور پر غیر جانب دار رہے گی۔
منگل کو راولپنڈی میں صحافیوں کو عام انتخابات میں فوج کے کردار پر بریفنگ دیتے ہوئے جنرل آصف غفور نے کہا کہ عوام کے ووٹوں سے الیکشن جیت کر جو بھی وزیرِ اعظم آئے گا، وہ قبول ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم خدا کی مخلوق ہیں۔ وقت بتائے گا کہ خلائی مخلوق جیسے القابات کا کیا اثر ہوسکتا ہے۔ خلائی مخلوق سیاسی نعرہ ہے۔ عوام کے لیے ڈیوٹی کرتے رہیں گے۔ عوام جسے چاہیں منتخب کریں۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی شخصیات کو خطرہ ہے اور اس سلسلے میں ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ لیکن ان کے بقول ان شخصیات کو خود بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک فون کال پر کوئی اپنی پارٹی بدل دے؟ سیاسی عمل کو سیاسی ہی رہنے دیں۔ سپاہی ہمارے حکم پر جان دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اسے کسی غلط کام کا نہیں کہہ سکتے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات کو الیکشن سے منسلک نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ کون سے الیکشن ہیں جن سے پہلے سیاست دانوں نے جماعتیں نہ بدلی ہوں۔ ہر الیکشن سے پہلے سیاست دانوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ مختلف آزاد امیدواروں کے انتخابی نشان “جیپ” کو جو رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ ہمارا رنگ ہی نہیں۔ ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج گزشتہ 15 سال سے ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اور کچھ لوگوں کا مقصد مختلف الزامات لگا کر فوج کی توجہ بٹانا ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے اور جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ الیکشن سے متعلق شکوک و شبہات دم توڑ گئے اور انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو عوام جمہوری عمل آگے بڑھائیں گے۔ جمہوری تسلسل کا یہ تیسرا الیکشن ہوگا۔ الیکشن میں فوج کا براہ راست کوئی کردار نہیں۔ افواجِ پاکستان کا کردار صرف الیکشن کمیشن سے تعاون کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج الیکشن کمیشن کی پہلے بھی مدد کرتی آئی ہے اور یہ پہلا موقع نہیں جب فوج انتخابات کے دوران سکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھائے گی۔