سرکاری محکمے بڑی تعداد میں ٹیکس کے کیس واپس لیں گے

سرکاری محکمے بڑی تعداد میں ٹیکس کے کیس واپس لیں گے

نئی دہلی‘ 11 جولائی (یو این آئی) حکومت نے ٹریبونل اور عدالتوں میں ٹیکس سے متعلق معاملات میں کمی لانے اور کاروبار میں سہولت کو فروغ دینے کے لئے سرکاری محکموں کے ذریعہ ایسے معاملات میں اپیل کے لئے متعلقہ کم سے کم رقم میں تین سو فیصد تک کا اضافہ کردیا ہے۔ جس سے محکموں کے ذریعہ بڑی تعدادمیں معاملات واپس لینے ہوں گے۔
وزارت خزانہ نے آج بتایا کہ انکم ٹیکس ٹریبونل اور ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی اور سروس ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل میں محکمہ جاتی اپیل کے لئے کم سے کم متنازعہ رقم کی حد دس لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ ہائی کورٹوں میں اب پچاس لاکھ روپے یا اس سے زیادہ رقم کے لئے ہی اپیل کی جاسکے گی۔پہلے یہ حد بیس لاکھ روپے تھی۔ سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے کم سے کم رقم پچیس لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ وزارت نے اسے ٹیکسوں سے متعلق عدالتی معاملات کے مینجمنٹ میں اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے معاملات کی تعداد کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور محکمہ بڑے معاملات پر توجہ مرکوز کرسکیں گے۔
اس فیصلے کے بعد سینٹر ل ڈائریکٹ ٹیکس بورڈ انکم ٹیکس ٹریبونل میں زیر التوا 34فیصد ‘ ہائی کورٹوں میں زیر التوا48 فیصد اور سپریم کورٹ میں زیر التوا54فیصد معاملات واپس لے گا۔ حالانکہ قانونی پیچیدگی والے معاملات واپس نہیں لئے جائیں گے۔