چاہ کن را چاہ درپیش!

چاہ کن را چاہ درپیش!

نایاب حسن

بی جے پی نے دوسروں کو چت کرنے کے لیے سوشل میڈیاپر جیالوں کی جو فوج تیار کی تھی،اس کے حملہ ہاے ترکانہ کا رخ اب خود اس کی ایک سینئر لیڈرطرف ہے اور اس فوج نے گزشتہ کئی دنوں سے لگاتار اس کے ناک میں دم کیاہوا ہے،بات فطری ہے جیساکہ ہم نے بچپن میں پڑھاتھا کہ’’چاہ کن راچاہ درپیش!‘‘تویارلوگوں نے اپنے سیاسی حریفوں،نظریاتی مخالفین اور مسلمانوں و اقلیتوں کورگیدنے کے لیے جو آئی ٹی سیل بنایا تھااور اس کے کارپردازوں کو سوشل میڈیاکے میدان میں اتاراتھا،وہ چوں کہ اب مودی جی اوران کی حکومت کو پروموٹ کرنے کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں دیکھ پارہے؛اس لیے بی جے پی کی طرف ہی ان کی توجہ ہوگئی ہے۔محترمہ سشماسوراج بی جے پی کی ایک سینئر لیڈرہیں،ان کا تعلق اس پارٹی کے اس دھڑے سے ہے،جسے قدرے اعتدال پسند سمجھاجاتا ہے،ان کا پس منظربھی آر ایس ایس والانہیں ہے،حالاں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان کا رویہ روایتی رائٹسٹ رویے کے برخلاف ہے،البتہ یہ ضرورہے کہ اپنے دوسرے کولیگس کے بالمقابل وہ قدرے مختلف ہیں،بحیثیت وزیر خارجہ عام طورپر وہ ایکٹیورہتی ہیں،گزشتہ چار سالوں کے دوران مختلف مواقع پر ان کی بڑی پذیرائی بھی ہوئی ہے،مختلف جنگ زدہ ممالک میں بسے ہندوستانیوں کو اپنے ملک واپس لانے کے سلسلے میں یا کسی دوسرے ملک میں مقیم ہندوستانی کو درپیش مشکل کو دور کرنے کے حوالے سے ان کی کارکردگی کوعام طورپر سراہاگیاہے،چوں کہ آج کل بڑے سے بڑے انسان تک رسائی کے لیے سوشل میڈیاکو ذریعہ کے طورپر استعمال کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھاہے؛کیوں کہ اس طرح فوری رسپانس کی توقع بھی ہوتی ہے؛چنانچہ موقع بہ موقع کئی لوگ سشماسوراج سے بہ ذریعہ ٹوئٹ تعاون کی درخواست کرتے ہیں اور یہ بڑی بات ہے کہ وہ فوراً اس درخواست پر توجہ دینے کے ساتھ حسبِ امکان تعاون بھی کرتی یا کرواتی ہیں۔
ابھی حال میں ایک واقعہ لکھنؤمیں پیش آیا،جہاں پاسپورٹ آفس کے ایک جونیئر افسر نے ایک جوڑے کواس کا پاسپورٹ دینے سے اس لیے انکارکیاکہ شوہر مسلم اور بیوی ہندوتھی اور انھیں برابھلابھی کہا،پھر ان لوگوں نے وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا،تووزارت نے ان کا پاسپورٹ بھی دلوایااور ان کی شکایت کی وجہ سے اس افسر کو لکھنؤپاسپورٹ سیواکیندرسے گورکھپور ٹرانسفرکردیاگیا،اس واقعے پر ہندوتوابریگیڈمیں کھلبلی سی مچ گئی اور انھوں نے ٹوئٹرپر سشماسوراج کے خلاف مہم چھیڑدی،کئی لوگوں نے توان کے شوہر کو مشورہ دیاکہ انھیں اس طرح ’’ٹھیک‘ ‘کیاجانا چاہیے،جیسے عام ہندوستانی شوہراپنی بیویوں کو’’ٹھیک‘‘ کرکے رکھتے ہیں۔حیرت ناک امر یہ ہے کہ اس پورے ایپی سوڈ میں وزیر اعظم تودرکنار، کسی قابلِ ذکروزیر تک نے ایک لفظ تک بولنے کاتکلف نہیں کیا۔ اس کے برخلاف 6؍جولائی کوروزنامہ’’انڈین ایکسپریس‘‘ میں بی جے پی کے سنگھ ریٹرن ترجمان و قومی جنرل سکریٹری رام مادھونے اپنے کالم میں ایک طرف تو بی جے پی کے ’’سوشل ایکٹوسٹس‘‘کوتلقین کی کہ سوشل میڈیاپر کسی کے خلاف ناراضگی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے زبان میں شایستگی ملحوظ رکھنی چاہیے اور کسی کے بارے میں ایسے الفاظ نہیں استعمال کرنے چاہئیں ،جوخود اپنے بارے میں نہیں سننا چاہتے ،اسی طرح سشماسوراج کی قوم پرستی کی ’’تصدیق ‘‘کی اور اپنے لوگوں سے ان پر’’اعتماد‘‘کرنے کی اپیل کی ،مگر ساتھ ہی اپنے اندرون کے چور کوظاہر کرنے سے روک نہیں سکے اور مضمون کے پہلے پیراگراف میں ہی صاف صاف لکھاکہ’’چاہے سشمار سوراج لکھنؤپاسپورٹ آفس کے جونیئر اہلکار کے ٹرانسفر کی ذمے دارہوں،چاہے انھوں نے یہ عمل مصنوعی سیکولرجوش کے تحت کیاہویاوہ افسر سیکولر گینگ کی زیادتی کا شکارہواہو،یہ سب اہم سوالات ہیں،البتہ ان کی اہمیت ثانوی ہے؛اس لیے نہیں کہ یہ سوالات حساس نہیں ہیں؛بلکہ اس لیے کہ ہمیں کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے گہرائی سے ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے‘‘۔آپ زبان تو دیکھیں اس بندے کی، ایک وہ خاتون ہے،جس نے اپنی زندگی،اپنی توانائی اور اپنی تمام تر فکری و نظری قوتیں بی جے پی کی تعمیر وترقی کے لیے صرف کی ہیں اور بڑی ریاضتوں کے بعد وہ آج اس مقام پر ہے اور دوسری طرف یہ انسان ہے،جس کی ساری زندگی آر ایس ایس میں گزری اور ابھی بی جے پی میں آئے محض چار سال ہوئے ہیں،دراصل رام مادھوکا یہ لہجہ بی جے پی پر آرایس ایس کی اس چھاپ کانتیجہ ہے،جس کے سایے تلے مودی وودی ؛سب بونے،کوتاہ قد اور Nothing ہیں،سشماسوراج کے خلاف جو مہم جوئی ہورہی ہے اوراس پر بی جے پی کاکوئی بندہ لب کھولنے کی جرأت نہیں کررہا،اس کے پس پردہ بھی کہیں نہ کہیں یہ حقیقت ضرور کارفرماہے کہ اس خاتون کا پس منظرآرایس ایس زدہ نہیں رہاہے۔
البتہ لکھنؤوالے سانحے میں ان کے ساتھ جوکچھ ہواہے،وہ خود ان کی اپنی پارٹی(جس کا خود بھی حصہ ہیں)کے بوئے ہوئے بیج کا نتیجہ ہے،سیاسی مفاد پرستی کے زیر اثرمسلمانوں سے نفرت کی جس انتہاپرآپ لوگوں کوپہنچاناچاہتے ہیں،اتفاق سے وہ اس سے بھی آگے نکل جانے کے چکر میں ہیں،وہ آگ،جوآپ نے دوسروں کوبھسم کرنے کے لیے لگائی تھی،خود آپ کے دامن تک بھی پہنچ چکی یا پہنچ رہی ہے،جس مقصد کے لیے آپ نے ہندوستان کے بے روزگار نوجوانوں کومسلمانوں کے خلاف اکسایاتھا،اسی مقصدکے تحت ان کا ہاتھ اب آپ کے اپنے گریبانوں تک بھی پہنچ رہاہے،ہم تو پروین توگڑیا کوبھی دیکھ رہے ہیں،جس نے مودی جیسے’’ہندوہردے سمراٹ‘‘کی پول کھولنے کا بیڑااٹھایاہواہے اور صاحب جی اس کا قصہ پاک کرنے کے موقعے کی تلاش میں ہیں۔خیر!سشماسوراج کے ساتھ ہونے والی ٹرولنگ یقیناًافسوس ناک ہے،مگر اس کی گہرائی میں جوسفاک عوامل کارفرماہیں،ان سے انکاربھی بھلاکیسے کیاجائے ـ مجھے تویہ لگتاہے کہ ابھی توپارٹی شروع ہوئی، لمباچلے گی!