ترکی میں ہم جنس پرستوں کا جلوس؟ ریالی ٹولے کی بوکھلاہٹ اور غیر اخلاقی حرکت

ترکی میں ہم جنس پرستوں کا جلوس؟ ریالی ٹولے کی بوکھلاہٹ اور غیر اخلاقی حرکت

_اسماعیل کرخی_

(تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس تحریر کو کسی دیوانے شخص کی غلاظت کا جواب نہ سمجھیں، یہ تحریر محض اس لئے آپ کے حوالے کی جارہی ہے تاکہ آپ لوگوں کا یقین مزید پختہ ہوجاے کہ ریالی میں اتنی طاقت ہے کہ اس کے ذریعہ کچھ بھی ہوسکتا ہے، بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں جنہیں ریال سُنگھا دیا جاے تو وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوجائیں گے جیسا کہ مصر میں اس کا ثبوت بہت پہلے ہی دیا جاچکا ہے لیکن ترکی میں ریالی ٹولہ پر بھی نہ مار سکا تو کہا گیا کہ اردوغان اور مودی ایک ہیں لیکن مودی کا بھارت اور اردوغان کا ترکی ہی اسکا جواب دینے کے لئے کافی ہیں، پانچ سالوں میں ہندوستان کو جس طرح لوٹا گیا وہ بھی سب جانتے ہیں اور اردوغانی دور کے شروع سالوں میں ہی ترکی کس طرح عالمی منظر نامہ پر اُبھر کر سامنے آیا اُس سے بھی سب واقف ہیں، پھر کہا گیا ترکی اسرائیل کا دوست ہے ہم نے قیصرِ عرب بن شاہ سلمان کے چند جملوں کے ساتھ تاریخی صفحات کے کچھ اوراق بھی اُلٹ دیئے جس پر ریالی ٹولا تلمایا تو خوب مگر جواب نہ دے سکا، اچانک کسی نے خواب دیکھ لیا کہ ترکی میں اردوغان نے جسم فروشی کو تحفظ فراہم کیا ہے، اس پر بھی میرا وقت ضائع کیا گیا اور جب سارے دلائل میں نے دے دیئے تو یہ ٹولا ہمیشہ کی طرح جواب دینے کی بجاے اوٹ پٹانگ سوالات قائم کرتے ہوے بل میں چھپ گیا، لیکن شیطان نے انہیں پھر کچوکا لگایا تو یہ میدان میں دوبارہ کود پڑے، اور اپنی چھرچھری چھوڑی کہ اردوغان کی حمایت میں ہم جنس پرست اُتر آے اور ترکی کے اخوانی اسلام پسندوں نے انکا ساتھ دیا، سب سے پہلے تو میں ریالیوں کی اس جرأت کو سلام پیش کرتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ ریال وہ کچھ کرنے پر مجبور کردیتا ہے جو تصور میں بھی نہ آسکے. ان لوگوں نے اخوان کی مخالفت میں ترک صدر کی اور وہاں کے اسلام پسندوں کی غلط غلط تصویر اپلوڈ کیں، حالانکہ اکثر تصویر ایڈٹیڈ تھیں، جبکہ بقیہ تمام تصویر الگ الگ جگہوں کی الگ الگ موقعوں کی بالکل مختلف خبروں کے ساتھ تھی، لیکن سب کچھ خلط ملط کرکے پیش کیا گیا، تاکہ غلط پیغام دیا جاے، یہ بھی اللہ کی قدرت ہے کہ ان کی اس حرکت سے ایک شخص بھی متأثر نہیں ہوا)

ہم بلا وقت ضائع کئے چند حقیقتیں سامنے رکھنا چاہیں گے تاکہ اس ٹولہ پر منافقت کی آخری مہر ثبت ہوجاے

سب سے پہلے تو یہ کہ اردوغان نے کبھی بھی ہم جنس پرستوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ اُنکے بیانات میں واضح الفاظ میں بار بار یہ سنا گیا کہ ہم ایک پاکباز اور پختہ ایمان والی نسل چاہتے ہیں، مزید اردوغان نے اس طرح کا پیشہ اپنانے والوں کے لئے سخت ترین قوانین پاس کئے، میں نے دفعہ ۲۲۷ کے تحت جسم فروشی پر مفصل بحث کی ہے اس پر بھی بہت تفصیل سے بات کرسکتا ہوں لیکن فی الوقت اختصار کافی ہے..
یاد رہے ترکی میں ہم جنس پرستوں کو قانونی طور پر ۱۹۲۳ میں تسلیم کیا گیا جبکہ ہم جنس پرست فوجیوں کے لئے ۱۹۵۱ میں قانون پاس کیا گیا
legal act since the day it was founded in 1923.[1] LGBT people have had the right to seek asylum in Turkey under the Geneva Convention since 1951 (wikipedia)
مزے کہ بات یہ ہے کہ تب سے اب تک ریالی شیخِ حرم کے پیٹ میں کوئی درد نہیں تھا،.. لیکن اچانک شور مچانے لگے کہ اردوغان نے ہم جنس پرستوں کے حقوق محفوظ رکھنے کا قانون بنا دیا ہے، حالانکہ یہ صریح بہتان ہے، در اصل اردوغان نے جب حکومت سنبھالی تو ترکی ناگفتم بہ حالات سے گزر رہا تھا لیکن ۲۰۰۸ تک ترکی کی حالت حیرت انگیز طور پر تبدیل ہوگئی، اُس وقت تک اردوغان عالمی منظر نامہ پر صرف ایک کامیاب سیاست داں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، اور اردوغان نے خود کو یہی ثابت بھی کرنا چاہا، اسی لئے ابتدا میں وہ عالمِ اسلام کے حالات یا اسلامی موضاعات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے رہے، اسی اثناء میں ترکی میں ایک حادثہ یہ پیش آیا کہ ایک کردش باپ نے اپنے بیٹے کو ہم جنس پرستی کے جرم میں قتل کردیا، حکومت کی طرف سے فوری کاروائی نہ ہونے کہ سبب سارا یورپ بوکھلا گیا اور تنظیم انسانی حقوق کے بندر ترکی میں جمع ہوگئے، پھر انہی کے اشارے پر انقرہ میں ہم جنس پرستوں کا سب سے بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا (اس احتجاج کی تصویریں بھی اس سال خوب اچھالی گئیں) اس سے قبل ۲۰۰۳ میں بھی ایک مرتبہ استنبول کی سڑکوں پر ہم جنس پرستوں نے جلوس نکالا تھا،. چونکہ اس وقت تک میڈیا اور فوج کی لگام ڈھیلی تھی اس لئے آق پارٹی پر زبردست دباؤ ڈالا گیا لیکن جب آق پارٹی پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوا تو اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر ۲۰۱۳ میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے سامنے ایک تجویز پیش کی جسے آق پارٹی نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ ہم جنس پرستی معاشرے کے لئے خطرناک ہے اور بہت سی وباؤں کا پیش خمیہ بھی اور بطور دلیل یورپی ڈاکٹروں کی ریسرچ کو بھی سامنے رکھ دیا، لیکن کمالسٹ پارٹی کے صدر نے جواباً کہا کہ امریکی تحقیق کے مطابق کالے لوگ گوروں کی برابری نہیں کرپاتے، لہذا آپ یہ کہنے کے مجاز نہیں اور اُنکے سائنس داں قابلِ قبول نہیں، میڈیا نے بھی خوب ہنگامہ برپا کیا اور آق پارٹی سخت آزمائش میں پڑ گئی، انہیں دِنوں ترک مقننہ کی طرف سے آق پارٹی کے لیڈروں کے خلاف زبردست پرپگینڈا بھی رچا گیا اور ججوں نے فرضی اسکینڈل بنا کر میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں انہیں بدنام کرنے کی پوری کوشش کرڈالی ، یہ سب ہوتا رہا لیکن اُس وقت کسی ایک ریالی کے منہ سے اُف تک کی آواز سنائی نہیں پڑی کے ہم جنس پرستوں کے حقوق کیوں مانگے جارہے ہیں اور آق پارٹی کو مجبور کیوں کیا جارہا ہے؟.اس کے راستے کیوں تنگ کئے جارہے ہیں؟.

بہر کیف..! ملکی اور غیر ملکی دباؤ ڈال کر ایک قانوں پاس کروایا گیا جس کے تحت پینل کوڈ، میڈیا ریگیولیشین اور ملیٹری لاء میں توسیع کی گئی لیکن اس کے باوجود آق پارٹی نے ایسی شقیں بہت پہلے سے پیدا کرنا شروع کردی تھیں جسکی وجہ سے ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۴ تک ہم جنس پرستی میں %66 تک کمی آئی، میں تفصیل کے ساتھ اُن شقوں کا ذکر کرسکتا ہوں لیکن مجھے پورا علم ہے کہ ریالی ٹولے پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑے گا، میرے مخاطب وہ مسلمان بھائی ہیں جو ان ریالیوں کے گندے ذہن سے پریشان ہوجاتے ہیں اور انکی دجالی باتوں میں ہیں،..
جب ترکی میں ہر طرح کی ہم جنس پرستی قانونی حیثیت کی حامل تھی تب یہ ریالی گروپ نیندیں مار رہا تھا لیکن اب ان کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں حالانکہ آق پارٹی نے جو شقیں پیدا کیں اُن کی وجہ سے ۱۱ قسم کی ہم جنس پرستیوں پر پابندی عائد ہوگئی..

1) Same-sex sexual activity
legal (Since 1858)
2) Equal age of consent (Since 1858)
3) Right to change legal gender (Since 1988)
مندرجہ بالا تین چیزیں تو آق پارٹی اب تک ختم نہ کرسکی لیکن مختلف شقوں کے ذریعہ اس فعلِ شنیع میں کمی پیدا کی ہے، ہم جنسم پرستوں کے جن حقوق کی بات کی جارہی ہے اُسے مقننہ اور پارلیمینٹ سے منظور کرانے والے کمالسٹ لیڈران، قوم پرست اور کردش پارٹی اور انسانی حقوق کی وہ ناپاک جماعت تھی جس کے خلاف آج تک کسی ریالی نے آواز نہیں اُٹھائی بلکہ اب تو شیخِ حرم خود امریکہ کو نجاتِ دہندہ کہہ رہے ہیں مزید اسی انسانی حقوق کی تنظیم کی تعریفیں کررہے ہیں جس نے ۲۰۰۸ سے لیکر ۲۰۱۲ تک ترکی کو سر پر اُٹھا رکھا تھا کہ یہاں ہم جنس پرست محفوظ نہیں ہیں. آق پارٹی کسی بھی طرح اتنے سارے لوگوں سے دشمنی مول لینے کی متحمل تھی ہی نہیں، یورپ سے لیکر امریکہ تک نے ناک میں دم کر رکھا تھا، اندرونی دباؤ اپنی جگہ لہذا کمالسٹ گروپ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کو کچھ حذف و اضافے کے ساتھ مرتب کیا گیا اور پھر سب نے مل کر اُسے منظور کروایا..
لیکن پھر بھی آق پارٹی نے شقیں پیدا کیں اور اس فعل کو 66 فیصد کم کیا، اس کی رپورٹ انٹرنیٹ پر آسانی سے دستیاب ہوجاے گی..
اُن تصویروں کے بارے میں بھی یاد رکھیں کہ کسی ایک اسلام پسند نے بھی ہم جنس پرستوں کی ریلی میں اُنکا ساتھ نہیں دیا وہ ساری تصویر اڈٹیڈ ہیں جس میں اسلام پسند نظر آرہے ہیں اور دھیرے دھیرے الحمدللہ ہم نے اصل تصویریں کھوج نکالی ہیں، بقیہ وہ دسیوں تصویریں جن میں ہم جنس پرست پریڈ کرتے نظر آرہے ہیں وہ سب مختلف موقعوں کی ہیں، مثلاً استنبول استقلال سڑک کی ۲۰۰۳، ۲۰۰۸ اور ۲۹ مئی ۲۰۱۲ کی اور انقرہ ۲۰۱۲ کی جس وقت ہم جنس پرست اپنے حقوق کی آواز بلند کر رہے تھے، اسی طرح استنبول کے تقسیم چوراہے پر ۲۰۱۳ میں احتجاج کیا گیا، حد تو یہ ہے کہ ان بے چاوں نے ترکی کی مخالفت میں برازیل کی وہ تصویر بھی ڈال دی جو ۱۶ نومبر ۲۰۱۴ کے عالمِ شہرت یافتہ جلوس کے موقعوں پر لی گئی تھی، مجھے نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے یہ سب جان بوجھ کر کیا ہے یا مصری اخبارات کی بھول بھلّیوں کا صدقہ ہے،.
جب ترک حکومت نے شقیں پیدا کیں جس کے سبب انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تو بغیر اجازت کے جلوس نکالا گیا جس کے بارے میں واضح خبریں موجود ہیں کہ ۲۰۱۶ میں اس طرح کے ہم جنس پرستوں کے جلوس پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس میں وہ ہم جنس پرستی کا کھلے عام پرچار کرتے ہوں چونکہ ترکی میں سیکس ایڈورٹائیز یا اُسکے لئے کسی کو اُبھارنا قانوناً جرم ہے، جبکہ ترکی کے بہت سے شہروں میں مقامی لوگوں نے تین سال قبل ہی اس طرح کے جلوسوں پر پابندی عائد کروادی ہے،.. جسے یورپ کہ اکثر بڑے اخباروں نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے
*The Istanbul Pride parade is not supported by the government and is organized without permission from the municipality. In 2016 the pride got banned by the local authorities.*

جتنے بھی جلوس نکالے گئے اُسے کندھا دینے والے کمالسٹ اور کردش رہنما ہیں مزید ان حضرات کے Filiz Kerestecioğlu, Ertuğrul Kürkçü, Melda Onur (tr ), Sırrı Süreyya Önder, Mahmut Tanal, Sebahat Tuncel سارا یورپ شامل ہوتا تھا،.. لیکن ان کے خلاف کسی نے آواز نہیں اُٹھائی حالانکہ یہ سب بڑے بڑے حضرات ہیں، میں قارئیں سے بس اتنا کہنا چاہونگا کہ انٹرنیٹ پر LGBT pride turkey in 2018 لکھ کر ساری حقیقتیں خود جان لیں کہ ترکی میں اس سال کیا ہوا، آپ کو حیرت ہوگی اس ٹولے کی منافقت پر..