لب پہ شِکوے چلے آتے ہیں گِلہ آتا ہے !

لب پہ شِکوے چلے آتے ہیں گِلہ آتا ہے !

خبر در خبر
غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن
خبر ملی ہے کہ سیاسی مفاد کو لیکر آسام کے چالیس لاکھ مسلمانوں کا نام این آر سی لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے، ہم بتا دیں کہ این آر سی کی تیاری کو لیکر سپریم کورٹ نے ہدایات جاری کی تھیں، ان عدالتی ہدایات کو گھر کی لونڈی سمجھنے والوں نے یکسر نظر انداز کر کے ایک بار پھر اپنے گھناؤنے چہرے سے نقاب اٹھایا ہے، جس سے آسام کے شہریوں میں کافی بے چینی پائی جا رہی ہے اور یہ امر پریشان کن ہے بھی کہ یکلخت ہزار دو ہزار کے بجائے چالیس لاکھ لوگوں کا نام حذف کر دیا گیا ہے، اقتدار کی کرسی پر فائز لوگوں کی یہ گھناؤنی حرکت بتاتی ہے کہ ان عناصر نے جہاں عدالتی فیصلے کو ماننے سے انکار کیا ہے، وہیں ملک کی دوسری اکثریت سے بغض و عناد کا بھی پتہ دیتی ہے۔ در اصل ان کا یہ منصوبہ ہے جو ان شاء اللہ کبھی پورا نہ ہوگا کہ اگر ملک میں ہندوتو کو لانا ہے اور ہندوستان جیسے جمہوری ملک کو رام راج میں تبدیل کرنا ہے تو سب سے پہلے بھارت سے مسلمانوں کا پتہ صاف کیا جائے، آہستہ آہستہ مسلمانوں کو دی گئی قانونی مراعات کو سلب کر لیا جائے،جمہوری ہندوستان میں ان سے ووٹ کا حق چھین لیا جائے، انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنا کر غلام بنا لیا جائے؛ تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری کہ جب مسلمان ملک میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے تب جس طرح چاہو ان پر ظلم و جور کے پہاڑ توڑدو اورمسلمان اس ظلم وستم کے خلاف بولنے و لکھنے کی ہمت تک نہ کر سکیں ، کیونکہ ہندوستان کا مسلمان ہی ان کے راستے کا سب بڑا کانٹا ہے اور جب یہ کانٹا ہی نہ رہے گا تو ہم اپنی من مانی کریں گے، میں نے پانچ سال قبل ہی اپنے ایک مضمون میں تذکرہ کیا تھا کہ اس کھیل میں نام نہاد سیکولرازم کی دعویدار کانگریس بھی برابر کی شریک ہے، کانگریس اور بھاجپا دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، بس فرق اتنا ہے کہ کانگریس پیٹھ پیچھے سے وار کرتی آئی ہے اور بھاجپا سامنے سے، آج موجودہ بی جے پی حکومت اسی میدان پر گھناؤنے کھیل کھیل رہی ہے ،جس میدان کو کانگریس نے ستر سالوں سے ہموار کیا اور بنایا ہے، میں کوئی بے تکی بات نہیں لکھ رہا ہوں؛ بلکہ پے در پے کانگریسی لیڈران کی بھاجپا میں شمولیت بھی اس بات کی غماز ہے کہ کانگریس خود بھی آر ایس ایس کے نظریات کی حامل پارٹی ہے اور اب تو بلی تھیلے سے باہر بھی آ گئی ہے، کوئی جھپی دیتا ہے، کوئی بند کیمرے میں گیم پلان کرتا ہے تو کوئی ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر پر جا کر سماج دشمن عناصر کو سلامی پیش کرتا ہے اور اس کی سمادھی پر پھول اور مالائیں بھی چڑھاتا ہے، اس لئے صرف بھاجپا کو قصوروارٹھہرانا سراسر زیادتی ہے۔ ملک کو آگ لگانے میں جس قدر بھاجپا کا حصہ ہے اس سے کہیں بڑھ کر اس کا کریڈٹ کانگریس کو بھی جاتا ہے، اس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کھلے دشمن کے ساتھ ساتھ مار آستین کا بھی گلا دبائیں، دونوں ہی پارٹیاں ہمارے لیے اور ملک کے سیکولر عوام کے لئے زہر قاتل ہے، دونوں کا ایک ہی ایجنڈا ہے اور وہ ہے معصوموں کی لاش پر اقتدار و حکومت کی کرسی سجانا، دونوں پارٹیوں کا ایک ہی دشمن ہے اور وہ ہے بھارتی مسلمان، دونوں کے مد نظر یہی ہے کہ بھارت سے مسلمانوں کی تاریخ کو مٹا دیا جائے،انہیں بندھوا مزدور بنا کر رکھا جائے ہم جو چاہیں ان پر قانون لاگو کر دیں۔ در اصل ان کے دلوں میں برسوں سے مسلم دشمنی کی آگ لگی ہوئی ہے، یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو کبھی پھلتا اور پھولتا دیکھنا نہیں چاہتےہیں اور یہ عداوت و دشمنی انہیں ان کے پرکھوں سے ورثہ میں ملی ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح ان کے باپ دادا اور دھرم گرو منہ میں رام اور بغل میں چھری رکھتے تھے یہ بھی اب تک یہی کرتے ہوئے آئے ہیں، لیکن اب تو یہ اقتدار میں بھاری اکثریت سے آ چکے ہیں اس لئے مسلم دشمنی کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں، لیکن ماتم تو ان بکاؤ مسلم لیڈران پر کرنے کا من کرتا ہے جو آج تک ان کی دریوزہ گری کر رہے ہیں، ان کا دم چھلہ بن کر ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، مجھے شکوہ ہے تو ان ملت فروش لیڈران سے، مجھے گلہ ان ہی مفاد پرست قائدین سے ہے جنہوں نے قوم مسلم کی زندگی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ آخر یہ کب سمجھیں گے کہ اب سیاست سیاست نہیں رہی؛ بلکہ یہ ایک مسلم دشمنی کا گیم ہے، ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کا ایپی سوڈ ہے، ہر لمحہ اور ہر ہر پل ہم کفر کے ابر میں گھرے جا رہے ہیں! اچھی طرح یاد رکھ لینا چاہیے کہ آج آسام کے لوگوں کے شہری حقوق کا مسئلہ ہے، آج ان سے انکا جمہوری حق چھینا گیا ہے، کل کو ہماری بھی باری آ سکتی ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جائیں گے، اس وقت ہمارے پاس بولنے اور کہنے کو کچھ نہیں بچے گا، اس لئے اس طرح کے حالات پیدا کئے جانے سے پہلے ہی ہم ہوش کے ناخن لیں، کون اپنے اور کون پرائے ہیں، اس کی اچھی طرح چھان پھٹک اور تحقیق کرکے مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں تب ہی ہم ملک کو بچا سکتے ہیں؛ ورنہ ہماری بیوقوفی اور ناسمجھی پر صدیوں ہماری نسلیں ہمیں کوسیں گی۔
(بصیرت فیچرس)