نادانی ترک کر اور وحدت کا جام لے!

نادانی ترک کر اور وحدت کا جام لے!

خبر در خبر

غلام مصطفی عدیل قاسمی

ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن

آج ہماری شامت ویسے ہی نہیں آئی ہوئی ہے، کفار ہم پر یونہی مظالم نہیں ڈھا رہے ہیں، ظالم یہود و نصاری بے وجہ ہم پر نہیں چڑھ دوڑے ہیں، خود ہمارے ملک ہندوستان میں حکومت سے لیکر میڈیا تک اچانک ہم پر جری نہیں ہوئی، یہ حالات خود ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں، یہ سب خود ہمارا اپنا کیا دھرا ہے، ہم نے انہیں بھرپور مواقع دیئے ہیں، ہم نے خود اپنی کمزوری سے انہیں آگاہ کیا ہے، وہ پلان بناتے رہے ہم ایک دوسرے کا گریبان چاک کرتے رہے، وہ خاک پر بیٹھ کر چاند پر گئے اور ہم اندرون خانہ ذاتیات کو نشانہ بنانے کا کھیل کھیلتے رہ گئے، انھوں نے ہمارے خلاف محاذ آرائی کا ایپی سوڈ شوٹ کیا اور ہم اپنے بچے کھچے رہنما اور مسلمان قیادت کو ملیامیٹ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، وہ لاکھ کمزوری اور اختلافات کے باوجود ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے اور ہم نے جسد واحد کہلا کر بھی ایک دوسرے کی عزت اچھالنا اپنا محبوب ترین مشغلہ بنایا، مختصر یہ کہ جن کو اپنا وقت ملت کی تعمیر و ترقی میں صرف کرنا تھا وہ ملت کا بخیہ ادھیڑنے کا کام کر رہے ہیں.

آج دو تحریریں نظر سے گزری، دونوں ہی تخریب اور زہر کی پڑیا عمائدین ملت کی پگڑی اچھالتی ملت کا بچا کھچا شیرازہ بکھیرتی دکھائی دی، یہ تحریریں بتا رہی تھی کہ صاحب تحریر کسی کی شہرت و مقبولیت سے کس قدر نالاں ہیں اور انھوں نے عمائدین ملت سے کس طرح کا حسد پال رکھا ہے، لگ رہا تھا کہ ساری خدائی ان ہی کی جھولی میں آ گئی ہے، بڑوں نے بالکل درست کہا ہے کہ حسد کسی شخصیت کی قبولیت اور صلاح و تقوی کو مجروح کرنے کے لیے کی جاتی ہے، ہمارے قوم کے یہ نام نہاد حاسد مفکرین اسی کی مثال پیش کرتے نظر آتے ہیں، جو کام اب تک اسلام دشمن طاقتیں کرتی آئی ہیں وہ کام اب ہمارے سوشل میڈیا کے مسلم مفکرین نے اپنے ذمہ لے لیا ہے، کبھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی کسی کی ذات کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ ایسا بھی نہیں کہ یہ عناصر اختلاف کرنے کے طریقے سے ناآشنا ہیں، سب جانتے بُوجھتے بھی اس طرح کی نیچ حرکتیں کرتے ہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کمی انکی تربیت میں ہے، دوش انکی پرورش و پرداخت کا ہے، ان مفکرین نما حاسدین کو پتا ہونا چاہیے کہ انکا یہ طرز عمل بنی اسرائیل کا ہے، یہ طریقہ حسد یہود بے بہبود کا ہے نہ کہ اسلام پسندوں کا، مجھے تو ڈر ہے کہ حسد کر کے جس طرح یہودی حق سے ہاتھ دھو بیٹھے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مفکرین بھی اسی ڈگر پر چل کر اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھیں، کیونکہ حسد کے معنی ہی ہیں کھوکھلا کرنے کے اور جس کے دل میں حسد پیدا ہو جائے حسد اسے کھوکھلا کر دیتی ہے، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ بھی فرمان جاری ہوا ہے جس کا مفہوم ہے “تم میں دیگر قوموں کی بیماریاں در آئیں گی جن میں حسد اور بغض بھی اور یہ مونڈھ دینے والی ہوگی اور یہ بال نہیں بلکہ دین کا صفایا کرنے والی ہے” معلوم ہوا کہ حسد انسان دوسروں کے لیے پالتا ہے لیکن نقصان خود اپنا کرتا ہے، اس لئے اپنے نوجوانوں سے یہی کہوں گا کہ آپ ادب کے دائرے میں رہ کر ہزار اختلاف کیجئے مگر کسی کی ذات سے متعلق منفی تبصرے سے گریز کیجئے، آپ اپنی صلاحیت کو تخریب کاری کے بجائے تعمیری کام میں صرف کیجئے، کسی کی پگڑی اچھالنا کسی کی ذات کو متہم کرنا یہ اسلام پسندوں کا شیوہ کبھی نہیں رہا، آپ غلاظت پر بیٹھنے والی مکھیوں کے بجائے پھول اور پتیوں پر بیٹھنے والی شہد کی مکھی کے طرز کو اپنائیں تاکہ آپ کی ذات اور آپ کے افعال سے روئے زمین پر بسنے والی دیگر مخلوق فائدہ اٹھا سکے، یاد رکھیں کہ باطل اب میدان کے بجائے ایوان سے لڑ رہا ہے کہ اور انجانے میں خود ہم انہیں زمین ہموار کر کے دے رہے ہیں اس لیے میری التجا ہے اب تو بس کر دیں، وقت آ گیا ہے کہ ہم آپسی نفرت و کدورت مٹا کر پیار اور محبت تقسیم کریں، ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ ڈال کر ملی اتحاد کا مظاہرہ کریں۔

(بصیرت فیچرس)