یہ ہے پالتو میڈیا!

یہ ہے پالتو میڈیا!

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
اگر اب بھی نہ جاگے تو؟
اس سوال کا جواب قطعی مشکل نہیں ہے۔۔۔اگر اب بھی نہ جاگے تو گلے میں وہ پٹّہ بھی نظر آنے لگے گا جو عام طور پر پالتو جانوروں بالخصوص پالتوں کتّوں کے گلے میں پڑا ہوا نظر آتا ہے۔۔لیکن ٹھہرئیے ، مذکورہ سوال عام ہندوستانیوں سے نہیں بلکہ ہندوستانی میڈیا سے کیاجارہا ہے۔ عام ہندوستانی تو خوف کے سائے میں بھی آواز اُٹھاتا ہے، احتجاج بھی کرتا ہے اور مظاہرہ بھی اور لاٹھیوں کے ساتھ گولیاں بھی کھاتا ہے۔۔۔لیکن یہ میڈیا جو ہے قطعی طور پر ’پالتو کتے‘ کے رنگ میں رنگ رہا ہے بلکہ رنگ گیا ہے۔
ایک انتہائی سینئر صحافی قمر وحید نقوی نے فیس بک کی اپنی وال پر تحریر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی اب تک کی زندگی میں اس قدر ڈرا اور سہما ہوا میڈیا نہیں دیکھا ہے، ایمرجنسی میں بھی یہ صورتحال نہیں تھی۔ ان کی بات سچ ہے۔ پر میڈیا ڈرے اور سہمے ہونے سے کہیں زیادہ لالچ کا شکار ہے۔ ایک مخصوص سیاسی پارٹی، چلیے نام لے لیں، بی جے پی اور ملک کے وزیر اعظم کی انگلیوں کے اشارے پر میڈیا کا ناچ صرف اس لیے نہیں ہے کہ اسے حکومت سے ڈر اور خوف ہے اور وہ سہما ہوا کہ کہیں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوجائے اور اس کی روزی روٹی چھن جائے، بلکہ یہ ناچ ۹۹ فیصد لالچ کی وجہ سے ہے۔ میڈیا بک گیا ہے۔ اسے یہ لگ رہا ہے کہ کوئی ایسا آیا ہے جو اسے فیک نیوز، پروپیگنڈے او ریکطرفہ خبروں کی اشاعت ونشریات کےلیے منہ مانگی رقم دے سکتا ہے۔ اسے اس کی قطعی فکر نہیں بلکہ یہ کہاجائے تو زیادہ درست ہوگا کہ وہ یہ سوچنے کےلیے تیار تک نہیں ہےکہ میڈیا کا کام ’سچ ‘ کی اشاعت ہے ۔اب تو جھوٹ کا راج ہے اس لیے جھوٹ کاپرچار بھی ہے۔
اے بی پی نیوز میں جو کچھ بھی ہوا ہے وہ انتہائی افسوس ناک،المناک اور بھیانک ہے۔ ملند کھاندیلکر، ابھیشار شرما اور پرسون واجپئی کی زبان پر تالا لگادیا گیا۔ او ر سارا میڈیا چپ ہے! کسی کی زبان نہیں کھل رہی ہے۔ چند ایک ضرور ہیں جو بول بھی رہے ہیں اور لکھ بھی رہے ہیں، پر میڈیا کی اکثریت چپ ہی ہے۔ ایسی خاموشی تو ایمر جنسی کے دور میں بھی نہیں تھی۔ دراصل خاموش وہی ہیں جو ’لالچ‘ کے اس کھیل میں شریک ہیں ،اور یہ بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ انہیں فرقہ پرستی کازہر گھولنے میں مزہ آتاہے، یہ ملک کے شہریوں کو آپس میں لڑانے میں میں حظ محسوس کرتے ہیں، انہیں گھر واپسی، لوجہاد اور وندے ماترم کی باتیں کرکے سکون ملتا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس نے ۲۰۱۴ میں مودی کی جیت کے بعد ہی سر اُٹھانا شروع کردیا تھا اور آج یہ بے لگام ہے۔ افسوس کہ میڈیا کو اس قدر بے شرمی، بے حیائی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا۔۔جو تھوڑے بہت لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ زبان بندی جمہوریت کا قتل ہے انہیں جاگنا ہوگا۔۔اگر اب بھی نہ جاگے تو پھر کبھی کچھ بھی نہیں بول سکوگے۔۔ذراسا احتجاج کرنے سے بھی زبان لڑکھڑائے گی۔۔پھر میڈیا کے وہ لوگ بھی نہیں بول سکیں گے جو آج بول رہے ہیں اورہر ’ظلم وزیادتی او رہر بے ایمانی وبدعنوانی‘ پر ایک مکمل خاموشی طاری ہوجائے گی۔۔۔موت جیسی خاموشی!
(بصیرت فیچرس)