جمعیۃ یوتھ کلب کو ۲۰۱۹ کے الیکشن کے تناظر میں نہ دیکھاجائے!

جمعیۃ یوتھ کلب کو ۲۰۱۹ کے الیکشن کے تناظر میں نہ دیکھاجائے!

نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
9322244439
۲۴؍جولائی کو دیوبند کے فردوس گارڈن میں آزادی ہند میں خون کا نذرانہ پیش کرنے والی مشہور تنظیم اور ہندی مسلمانوں کا ہراول دستہ، مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم جمعیۃ علما ہند نے یوتھ کلب کا تعارفی پروگرام منعقد کیا تھا ۔ اس پروگرام میں یوتھ کلب کے شاندار مظاہرے سے اپنوں سمیت دشمنوں کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوگئی۔ کوئی اسے ۲۰۱۹ کے الیکشن کے تناظر میں دیکھ رہا ہے تو کوئی جمعیۃ کو مشورہ دے رہا ہے کہ ابھی اس کا مظاہرہ نہیں کرناچاہئے تھا اس سے فسطائی طاقتوں کو شہ ملے گی۔کچھ نام نہاد قومی وملی چندوں پر زندگی کی شروعات کرنے والےصحافی ان مولویوں کی جماعت کو چندہ خور کہہ کر قوم کے پیسوں کا بے جا صرف کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں؛ حالانکہ مسلمانان ہند واقف ہیں کہ کس نے قوم کےپیسوں کا غلط استعمال کیا ہے اور کس نے اپنی زندگی سنواری ہے۔جمعیۃ علما ہند میں لاکھ خامیاں سہی؛ لیکن وہ ہندی مسلمانوں کی امید ہے، جمعیۃ ہی ہر جگہ ہر موڑ پر مسلمانوں کی مدد کرتی نظر آرہی ہے۔ جمعیۃ علما ہند نے اگر چندہ لیا ہے تو اس نے اس کا بے جا استعمال نہیں کیا ہے اور جمعیۃ کا خرچ واضح ہے کہ وہ قومی وسائل کو ملک کے مسلمانوں کی دگرگوں حالت پر ہی خرچ کرتی آئی ہے، انہیں تعلیم سے جوڑا ہے، انہیں جیلوں کی سلاخوں سے آزادی دلانے کا کام کررہی ہے، سماوی آفات و مصائب میں بلا تفریق مذہب ومسلک پوری ہندوستانی قوم کے لیے مسیحا ثابت ہورہی ہے، ان لوگوں کی طرح نہیں جنہوں نے اپنے اخبار کی پیشانی پر اعلان چندہ لگا کر قوم سے چندہ کیا اور اسی چندے سے ا پنی دنیا بنائی ،اچانک معاشی تنگی کا رونا روکر صحافت سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور دانشور بن بیٹھے ۔ میڈیا بھی اس معاملے کو بڑھ چڑھ کر سازش کے تحت اسے پیش کررہا ہے اور برادران وطن کی ذہن سازی میں لگا ہوا ہے ۔ یوتھ کلب کے اس مظاہرے سے انہیں خوف زدہ کررہا ہے کہ مسلمانوں نے مسلم نوجوانوں کی فوج تیار کرلی ہے؛ حالانکہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے یوتھ کلب کے تعلق سے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’ ہمارا یہ قدم منفی نہیں بلکہ مثبت اور تعمیری قدم ہے،ہمار ا مقصد ایسے لوگوں کو تیار کرنا ہے جو قوم کے سچے خادم بنیں اور ضرورت پڑنے پر خود کی حفاظت کرسکیں ۔آج امت سب سے زیادہ داخلی بحران کا شکار ہے، ملک کے موجودہ حالات میں جس طرح مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے، اس سے نوجوانوں میں مایوسی ، مرعوبیت اور اپنی شناخت گم ہونے کااحساس پنپ رہا ہے۔ اس لیے یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اس سنگین بحران سے نکا لا جائے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ امت کا ہر فرد ایک دوسرے کا معاون بن جائے اورمکان کی اینٹ کی طرح ایک دوسرے سے منسلک ہوجائے ،وہ اتنا مضبوط ہوجائے کہ کوئی بھی خارجی بحران اس کا بال بیکانہ کرسکے۔عزت حاصل کرنے کا ایک کامیاب نسخہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کا دل جیتیں، اپنے اندر سچائی ، ایمانداری ، غم گساری اور دوسروں کی مدد کاداعیہ پیدا کریں ۔ اگر کسی قوم میں یہ پیدا ہو جائے تو یہ اس کی بقا و سربلندی کی ضمانت ہے ‘‘۔
نمائندہ ممبئی اردو نیوز نے جب جمعیۃ یوتھ کلب کے لیڈر محترم اسماعیل قریشی(موصوف شہر دیوبند سے تعلق رکھتے ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان ہیںاور دینی و ملی خدمات کا جذبہ انہیں وراثت میں ملا ہے) سے اس بابت سوال کیا تو انہوں نے کہاکہ جمعیۃ یوتھ کلب کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، یہ جمعیۃ کے دستور اساسی میں شامل ہے ، یوتھ کلب خدام ملت کا ایک مرحلہ ہے اس کا ۲۰۱۹ کے الیکشن سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۹۵ میں جمعیۃ علمائے ہند کے ۲۵؍ویں اجلاس عام میں خدام ملت کی تجویز پیش کی گئی تھی، اب ۲۴؍جولائی کو دیوبند میں مثبت تبدیلی کے ساتھ خدام ملت کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے نو کی گئی ہے۔ اس کے ذریعے سے سماجی، وجماعتی خدمات انجام دینا ہے۔ بلامذہب وملت مظلوموں کی دادرسی اور خدمت خلق کرنا مقصود ہے۔ قیام امن اور حفاظت وطن کی خاطر ملک کی تعمیری پروگراموں میں تنہا یا دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ مسلمانوں میں دینی رجحان پیدا کرنا ہے اور اسکاؤٹنگ کے ذریعے انہیں ذہنی وجسمانی طور پر مضبوط کرکے دفاعی پوزیشن میں لانا ہے؛ تاکہ اگر خدانخواستہ ان پر ایسے حالات آئیں اور وہ ماب لنچنگ کے شکار ہوں تو وہ اپنا دفاع کرسکیں۔ جو لوگ اسے ۲۰۱۹ کے الیکشن سے جوڑ رہے ہیں وہ سازش کے تحت ایسا کررہے ہیں؛ تاکہ اس کی مقبولیت اور افادیت کو سبوتاژ کیاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا ہماری تشہیر کرکے ہمیں زیرو لیول پر ٹی آر پی دلانے کا کام کررہی ہے۔ انہوں نے یوتھ کلب کے تعلق سے مزید بتایا کہ جمعیۃ علمائے ہند کا یوتھ کلب صدر جمعیۃ علما ہند قاری محمد عثمان منصور پوری، جنرل سکریٹری مولانا محمود اسعد مدنی، سکریٹری حکیم الدین قاسمی، خازن مولانا حسیب صدیقی ماسٹر نوشاد علی صدیقی (اسکائوٹ ڈسٹرکٹ کمشنر ضلع امبیڈکر نگر) ماسٹر ہدایت اللہ صاحب (سابق افسر بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائیڈ مدھیہ پردیش ) کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔ اس میں کون لوگ شامل ہوسکتے ہیں کے جواب میں انہوں نےکہا کہ ہر وہ عاقل بالغ مسلم نوجوان جو جمعیۃ کے مقاصد اور طریقہ کار سے مکمل اتفاق رکھتا خواہ وہ یونیورسٹی و کالج یا مدرسے کے طالب علم ہوں یا پھر تعلیم سے دور وہ شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ یوتھ کلب کا ہیڈ کوارٹر بھوپال میں ہے۔ جمعیۃ یوتھ کلب دو ایکشن پلان کے تحت کام کررہی ہے۔ (۱) قلیل مدتی پلان۔ (۲) طویل مدتی پلان۔ قلیل مدتی پلان کے تحت پانچ صوبوں کے سولہ اضلاع منتخب کیے گئے ہیں ۔ جس میں ۶۴۰ افراد کو ۱۸؍جون ۲۰۱۸ تک ابتدائی ٹریننگ دی جاچکی ہے۔ (۲) طویل مدتی پلان۔ اس پلان کے تحت اگلے دس سال یعنی ۲۰۲۸ تک سواسو کروڑ نوجوانوں کو جمعیۃ یوتھ کلب کے لیے تیار کیاجائے گا اور ہرسال ۱۲ لاکھ پچاس ہزار ممبران بنائے جائیں گے جوقوم وملت کی خدمات پر مامور ہوں گے۔ جو ذہنی وجسمانی طو رپر مکمل فٹ رہتے ہوئے فسطائی طاقتوں کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ یوتھ کلب کو پانچ اسٹیٹ میں منقسم کیاگیا ہے۔ (۱) اترپردیش اس میں سہارنپور، مظفر نگر، باغپت، شاملی، ہاپور اور غازی آباد شامل ہیں۔ (۲) گجرات اس میں پالنپور، پاٹن، آنند، احمد آباد شامل ہیں۔ (۳) راجستھان۔ اس میں الور، بھرت پور شامل ہیں۔ (۴) ہریانہ اس میں نوح، پلول شامل ہیں۔ (۵) دہلی۔ اس میں ناگلوئی وغیرہ۔ انہوں نے بتایاکہ جمعیۃ یوتھ کلب کے ممبران نیشنل اور انٹرنیشنل پروگرام میں حصہ لیں گے۔ اپنی تندہی او رکاموں سے عوام میں بیداری لائیں گے۔
جمعیۃ یوتھ کلب سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر ہے۔جمعیۃ کے اس اقدام کی ستائش کی جارہی ہے ، چہار جانب سے مبارک بادی دی جارہی ہے اور ایک بہترین قدم کے طو رپر اسے دیکھا جارہا ہے، دبے کچلے، ستائے ہوئے مسلمان ودلت ایک امید کے طور پر اسے دیکھ رہے ہیں کہ یہ ضرور ہماری مسیحائی کریں گے اور ہماری حفاظت کے سامان مہیا کریں گے۔ان شاء اللہ۔
(بصیرت فیچرس)