خوف کی بھیڑ

خوف کی بھیڑ

مظفر رحمانی

ایڈیٹر بصیرت آن لائن

اردو ڈائریکٹوریٹ پٹنہ کے زیر اہتمام “فروغ اردو”کے عنوان سے ایک سیمینار ڈان باسکو اسکول دربھنگہ کے چھوٹے سے ہال میں معروف نقاد جناب شفیع مشہدی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا تھا،اردو ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر نہایت ہی ذہین اوراپنی فعالیت کے لئے مشہور جناب امتیاز احمد کریمی صاحب ہیں،انہیں اس کا خوب اندازہ ہے کہ اردو کی محبت میں اردو کے عنوان سے ہونے والے سمینار میں شرکت کی غرض سے اتنے ہی لوگ شریک ہوپائیں گے جنہیں انگلیوں پر آسانی سے گناجاسکتا ہے اور یہ اندازہ انہیں اس لئے ہے کہ وہ خوب جانتے ہیں کی ہر صبح اردو کے نام پر روٹی کھانے والے لوگ اور سیمیناروں میں اردو کی محبت میں چلانے والے احباب روز ہی اردو کو خوبصورت چیتھڑے میں لپیٹ کر اپنے معصوم بچوں کے بستے میں ڈال کر انگلش میڈیم اسکول یہ کہتے ہوئے بھیجتے ہیں، بیٹا اسکول جاکر اردو مت بولنا ورنہ ہمیں اس کی پاداش میں جرمانہ ادا کرنا ہوگا،اس لئے انہوں نے ایک خوبصورت انداز اپنی ذہانت کی وجہ سے اپنایا ہے کہ جس ضلع میں “فروغ اردو”کے عنوان سے سمینار ہوتا ہے اس ضلع کے محکمہ تعلیم کو اس بات کا سختی سے پابند بنادیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ضلع کے ان تمام اسکولوں، ملحقہ مدرسوں کے نام پوری سختی کے ساتھ ایک تحریر جاری کریں کہ فلاں تاریخ کو ضلع کے فلاں اسکول کے ہال میں “فروغ اردو ” کے عنوان سے ایک سمینار ہونا طے پایا ہے جس میں تمام اردو اساتذہ کی شرکت لازمی ہے.

محکمہ تعلیم کے اس مخلصانہ تحریر سے (جو کبھی یہ نہیں چاہتے کہ اردو کی بقا کو یقینی بناکر اردو کو آگے بڑھنے کا موقعہ فراہم کیا جائے) تمام اسکولوں میں زلزلہ آجاتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی محکمہ تعلیم کے خوف کی وجہ سے اردو کے نام پر روٹی کھانے والے یہ بددیانت لوگ شرکت کو یقینی بناتے ہیں،گویا سمینار میں شرکت خوف کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ محبت کی بنیاد پر، اگر ڈائریکٹر صاحب لکھی ہوئی تحریر کواپنی آنکھ سے دیکھنا چاہیں تو اگلا سمینار چاہے جس ضلع میں ہو وہاں محکمہ تعلیم کی مدد لئے بغیر کر کے دیکھ لیں وہ اپنی کھلی آنکھوں دیکھ لیں گے کہ ان کے اور مدعو کئے گئے دو چار مہمانوں کے علاوہ دوچار آدمی اور موجود ہونگے جن کا تعلق سمینار ہال کے انتظام و انصرام سے ہوگا.

اس ذہین آدمی کی ذہانت کو اور بھی آپ داد دیں کہ یہ سمینار عوامی ہال میں ہر گز نہیں رکھیں گے یہ اس جگہ رکھنا چاہتے ہیں جہاں اگر اردو کے نام پر یہ روٹی سینکنے والے لوگ نہیں بھی پہونچ پائے تو اسکول ہی کے طلبہ اور طالبات سے ہال بھردیا جائے.

کب تک اس دھوکے کے سہارے آپ اپنی زبان کو محفوظ رکھ پائیں گے؟ کبھی اسکول کے دروازے پر جاکر بھی دیکھئے کہ اردو کی تعلیم کا معیار کیا ہے؟کیا بچے اردو لکھ اور پڑھ پاتے ہیں،اہم اردو کے جملوں کی املا درست لکھ لیتے ہیں؟معاف کیجئے گا ڈائریکٹر صاحب! یقینا اس خوف کے بھیڑ سے جمع ہوئے لوگوں سے آپ اپنی آبرو تو بچالیں گے اور حکومت کی نظر میں آپ محبوب نظر ہوجائیں گے لیکن یاد رکھئے اس سے آپ کی زبان”اردو”کی حفاظت بالکل ممکن نہیں ہے، خدارا! قوم کو صحیح سمت لے کر چلئے ورنہ آئندہ آنے والی نسلیں کبھی آپ کو معاف نہیں کر پائے گی،وہ اسلئے بھی کہ اس وقت اردو دانشگاہوں میں جو سوتیلا رویہ اپنایا جارہا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ اردو کے نام پر روٹی کھانے والے لوگ نفاق کی سرحد کو پار کرکے اخلاص کی اس دیوارکو ڈھا رہے ہیں جسے اپنے پسینے سے اردو سے محبت کرنے والوں نے کھڑی کیا تھا،اس بات کی دلیل میں یہ پیش کرنا شاید دلیل بن جا ئے کہ ایم اے کے ایک طالب علم سے استاد نے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب “غبار خاطر”سے سبق کی خواندگی کا حکم دیا تو اس طالب علم نے اپنی خواندگی سے خود کو کوئی نقصان تو نہیں پہونچایا لیکن میں نے اپنی کھلی آنکھوں مولانا آزاد کی روح کوتڑپتے ضرور دیکھا،اسے رہنے دیں یہ تو بڑی جماعت کے طالب علم تھے آئیے ایک پروفیسر صاحب سے آپ کو ملوادیں،بہار کی ایک یونیورسٹی میں کسی اردو کے ایک اہم عنوان سے ایک سمینار منعقد ہوا جس کی نظامت ہمارے ایک استاد محترم بہت ہی خوبصورت انداز میں کررہے تھے اور ان کی نظامت نے اپنا ایک اچھا اثر قائم کر رکھا تھا، اچھا لگ رہا تھا، غالب،میرتقی میر، سودا،اور علامہ اقبال کے اشعار سے پورا سمینار ہال گونج رہاتھا اور ماہرین فن اپنے اپنے مقالات پیش کررہے تھے، مجھے ایسا لگا کہ آج بھی اردو زندہ ہے لیکن ایک کالج سے آئے ہوئے مہمان کو جب مقالہ پڑھنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے آتے ہی اپنی اردو خوانی سے احساس کروا دیا کہ تھوڑے اردو میں یہ کمزور ہیں لیکن ایک مشہور جملہ “چونکہ”کو انہوں نے “چونکہ “کو کاف پر تشدید کے ساتھ پڑھ دیا، سمینار کے ناظم محترم نے اپنی انگلی دانتوں تلے دبا کر اصلاح کی کوشش کی لیکن کیا مجال کہ وہ درست پڑھ لیں،ناظم سمینار نے ان کے بعد جب یہ شعر پڑھا تورا پورا مجمع گویا اندر ہی اندر رو رہا تھا.

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے یا خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

سچ تو یہ ہیکہ جو لوگ اردو سے محبت کرنے والے ہیں وہ اردو کے گیسو کو کبھی برہم نہیں ہونے دیں گے، جن میں بہت سارے ناموں کے ساتھ ایک نام امتیاز احمد کریمی صاحب کا بھی ہے،لیکن یاد رکھئے دھوکے کی کھاتی کبھی ثمر آور نہیں ہوتی ہے اور قوم نے اسے کبھی معاف نہیں کیا ہے جس نے قوم کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہو.

(بصیرت فیچرس)