ایران نے نئی پابندی پر امریکہ کو دی وارننگ، کہا امریکہ کو پچھتانا پڑے گا

ایران نے نئی پابندی پر امریکہ کو دی وارننگ، کہا امریکہ کو پچھتانا پڑے گا

انقرہ۔ 7 اگست (بصیرت نیوز سروس/ایجنسی ) ایران کے صدر حسن روحانی نے پیر کو امریکہ کی طرف سے نئی پابندی عائد کئے جانے سے کچھ گھنٹے قبل دی گئی امریکہ کی مذاکرات کی تجویز کو ٹھکرا دیا۔ امریکہ نے ایران کو بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے پاس نئی پابندیوں سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کو چھوڑ کر بات چیت کرنے کیلئے راضی ہو جائے۔

حسن  روحانی نے ٹیلی ویژن تقریر میں کہا کہ جب تک امریکہ سال 2015 کے ایران جوہری معاہدے کی شرائط کو نہیں مانتا اس کے ساتھ بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ روحانی نے کہا ’’اگر آپ کسی کو چاقو گھونپ کر کہو کہ آپ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے پہلے آپ کو چاقو کو ہٹانا ہوگا۔ ہم ہمیشہ سفارتی تعلقات اور بات چیت کے حق میں رہے ہیں؛ لیکن بات چیت کے لئے اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دیکھتے ہوئے اور ایران میں افراتفری پیدا کرنے کے مقصد سے بات چیت کی تجویز پیش کی ہے‘‘

روحانی نے کہا کہ  یوروپی اتحادی ٹرمپ کو 2015 کے جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹنے سے روکنے میں ناکام رہے جس کے تحت ایران بین الاقوامی پابندی ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگراموں کو روکنے پر متفق ہوا تھا۔ امریکہ کو اپنے اس قدم کے لئے پچھتانا پڑے گا۔ امریکہ کے اس قدم کو دیگر ممالک نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا’’امریکہ کو ایران پر پابندی لگانے کے لئے پچھتانا پڑے گا۔ امریکہ پہلے ہی دنیا میں الگ تھلگ پڑ چکا ہے۔ امریکہ ایران کے بچوں، مریضوں اور پوری قوم پر پابندی مسلط کر رہا ہے‘‘۔

روحانی نے ایران کے لوگوں سے اپیل کی کہ متحد ہوکر مشکل حالتوں کا سامنا کریں۔ انہوں نے کہا، “ہم پر پابندیوں کا دباؤ ہے؛ لیکن ہم یکجہتی کے ساتھ اس کو پار کر سکتے ہیں‘‘۔پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت کمزور ہو رہی ہے۔ ایران کی کرنسی ریال بین الاقوامی مارکیٹ میں گر رہی ہے اور حکومت مظاہرین پر ظلم و ستم کر رہی ہے۔