کروناندھی؛ تھا جس کا نعرہ انقلاب انقلاب!

کروناندھی؛ تھا جس کا نعرہ انقلاب انقلاب!

خبر در خبر 

غلام مصطفی عدیل قاسمی 

ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن 

3 جون 1942 کو پیدا ہونے والے کئی خوبیوں اور انقلابی ذہن کے مالک، دراوڑی تحریک سے وابستہ سابق وزیر اعلی تامل ناڈو  موتھویل کرونا ندھی 7 اگست 2018 کو زندگی کی 95 بہاریں دیکھ کر موت کی آغوش میں چلے گئے وہ 1969ء سے 2011ء کے دوران  پانچ بار ریاست تامل ناڈ کے وزیر اعلیٰ رہے، انہوں نے چودہ سال کی کم عمری میں ہی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا، وہ ایک طرف جہاں ہندوستان کے افق پر کامیاب سیاستداں بن کر ابھرے، تو وہیں دوسری طرف انہوں نے اک انقلابی رائٹر بن کر بھی اپنی قوم کے لیے تحریک چھیڑی اور آخری دم تک اپنے دراوڑی قبیلہ کے لیے لڑتے رہے، اس بات کا تذکرہ کرنا بیجا نہ ہوگا کہ یہ دراوڑی قبیلہ وہی نسل ہے جن پر برہمن وادیوں نے  2500 قبل مسیح  ظلم و بربریت اور خون کی ہولی کھیل کر انہیں انکی زمین و جائداد سے بے دخل کر دیا تھا اور انہیں کھدیڑ کر ہندوستان کے جنوب میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا،  انہی حادثات و واقعات نے کروناندھی کو زندگی بھر بے چین رکھا اور برہمنوں سے پنگا لینے پر انہیں اکساتے رہے؛ چنانچہ اسی بات کی چنتا کو لیکر وہ پچاس کی دہائی میں برہمنوں کے دوسرے ذاتی کی عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور ان کے منافقانہ روش کو اپنی فلم پاساشکتی میں آشکارا کیا، جس پر غاصب برہمن واد نے کڑی نندا جتائی، جس کی بنا پر پہلے پہل اس فلم پر پابندی لگا دی گئی؛ لیکن جب 1952 میں وہ فلم ریلیز ہوئی تو ایسی ہٹ ہوئی کہ کروناندھی کو دراوڑی قبیلے کا مہان لیڈر بنا گئی، انھوں مزید دو چار فلمیں بنائیں جن میں لٹیرے برہمن واد کے ظلم و زیادتی کو دکھایا، ان کے چھوت چھات سے نفرت جتائی اور مورتی پوجا وغیرہ پر سخت تنقید کی، غرضیکہ انہوں نے جس لائن میں بھی کام کیا ان کے پیش نظر صرف اور صرف اپنی قوم کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا رہا، فلم انڈسٹری سے لیکر سیاست کے گلیاروں تک ان کی یہی کوشش رہی کہ ملک کو برہمن واد کے زہریلے ناگ سے چھٹکارا دلایا جائے اور انکی دوغلی پالیسی کو طشت از بام کیا جائے، وہ اپنی تہذیبی شناخت کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے تھے، چنانچہ ان کی زندگی میں ایسا وقت بھی آیا کہ اپنے دراوڑی تہذیب و تمدن کی بحالی کے لئے انہیں ریل روکو آندولن کرنا پڑا جس میں مزاحمت کرتے ہوئے کئی جانیں بھی قربان ہوئیں تھیں؛ لیکن کروناندھی اور انکی تحریک سے وابستہ افراد اپنی مانگ سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے، اسی طرح ستر کی دہائی میں ایمرجنسی کے وقت مخالفت کرنے پر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پسِ دیوارِ زنداں بھی ڈال دیا گیا تھا. 

خیر! یہ تو تھی اک غیر مسلم لیڈر کی کہانی جنہوں نے صرف چودہ سال کی عمر سے اپنی قوم کے لئے بیش بہا کارنامہ انجام دینے کے لیے تن من دھن کی بازی لگائے رکھا، نہ کبھی مصلحت کے دبیز پردے نے انہیں انکے مشن سے روکا، نہ کبھی گنگا جمنی کلچر کی بحالی نے ان کا راستہ روکا اور نہ ہی کبھی حالات کا رونا رویا؛ بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی ہر بات منوائی ، جس نے کللاکوڈی ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر ڈالمیا پورم رکھنے کے خلاف اپنے کارندوں کو لیکر ریلوے پٹری پر سونا تو گوارا کیا؛ لیکن خاموش رہنا بالکل پسند نہیں کیا، جس نے ہر زاویے سے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہندوستان کے اصل باشندے ہم ہیں، یہ دھرتی ہماری تھی ہماری ہے اور ہماری ہی رہے گی اور ہندوتو کے متوالے غنڈے اور موالی ہی درحقیقت غاصب ہیں ظالم و جابر اور غیرملکی ہیں. 

   ایک ہم مسلمان اور ہمارے قائدین ہیں جو حالات کا رونا رو کر ایسی درگت بنا لی ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن، ہم اصل ہندوستانی ہو کر بھی و دیشی ٹھہرے اور برہمن و دیشی و غیر ملکی ہو کر بھی بھارتی کہلائے…. آخر ہمارے پاس بھی تو لیڈران تھے اور آج بھی ہیں؛ لیکن انھوں نے مسلم قوم کے لئے آخر کیا کیا؟ میں موجودہ مسلم لیڈران سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کروناندھی کی طرح کتنی قربانیاں دی ہیں؟….. کتنی بار کال کوٹھری کے چکر لگائے ہیں؟…. آئے دن ہماری تاریخی عمارتوں و ریلوے اسٹیشنوں کا نام بدل کر بھگوائی نام دیا جا رہا ہے آج ہی مغل سرائے اسٹیشن کو دین دیال اپادھیائے کا نام دے دیا گیا؛ لیکن آپ کی پیشانی پر جوں تک نہ رینگی!…. ہمارے اکثر تاریخی مقامات (بشمول تاج محل جامع مسجد) پر ان کی بری نظریں جمی ہوئی ہیں؛ بلکہ انھوں نے ان کے نام تک کا اعلان کر دیا ہے، پھر بھی آپ کی پیشانی پر بَل نہیں آیا! آخر کب تک آپ مصلحت کی چادر تان کر سوتے رہیں گے؟ آپ کی زبان سے حق اور سچ نکلتا کیوں نہیں ہے؟ ہم نے آپ کو ایوان میں کس کام کے لیے بھیجا ہے اور آپ وہاں بیٹھ کر آخر کیا کر رہے ہیں؟ مجھے پتا ہے میرے کسی سوال کا جواب آپ کے پاس نہیں ہے؛ لیکن خوب سمجھ لیں اب آپ کو اسٹینڈ لینا پڑے گا ہمارے حقوق کی بازیابی کے لئے تحریک چھیڑنے پڑے گی؛ ورنہ آج تو صرف مسلم عوام کی جان اور ہمارے تاریخی مقامات کے لالے پڑے ہیں، کل کو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نفرت کی آگ آپ اور آپ کے گھر والوں کو بھی جلا کر بھسم کر دے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں لگتا! کیونکہ “چلی ہے رسم کہ نہ کوئی سر اٹھا کے چلے”. 

اس لئے آپ بھی کروناندھی کی طرح مسلم قوم کی کھوئی ساکھ بحال کرنے کی سعی بڑھا دیجئے، آج آپ کے سامنے بھی کروناندھی کی طرح مغل سرائے اسٹیشن قربانی اور زبان کھولنے کی بھیک مانگ رہا ہے اور جس طرح کروناندھی دراوڑی قبیلہ کو ساتھ لیکر برہمن واد سے نبرد آزما رہے زبان و قلم سے ہندوتو کو منہ توڑ جواب دیتے رہے آپ بھی کروناندھی کی طرح اپنی ملت کی تعمیر و ترقی کے لئے اٹھیں اور اپنی تاریخ  رقم کریں تاکہ آنے والی نسلیں آپ پر فخر کر سکے۔
کروناندھی کی پوری زندگی جہدِ مسلسل اور سعی پیہم سے عبارت تھی، انہوں نے اپنی درواڑ قوم کے لئے بہت کچھ کیا، وہ چار دہائیوں تک صرف ایک رائٹر کی حیثیت سے مشہور تھے، انہوں نے چھ دہائیوں تک تامل ناڈو کی سیاست پر راج کیا، تامل ناڈ کے لوگ ان کے آنجہانی ہوجانے سے کافی غمگین اور افسردہ ہیں…. کاش ہم ہندی مسلمان بھی انکی جہد مسلسل والی زندگی سے سبق لیتے اور اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے…!!!

Gulammustafa9059@gmail.com