کانوڑیاترا: یہ دھرم پریم ہے یا آتنک پریم!

کانوڑیاترا: یہ دھرم پریم ہے یا آتنک پریم!

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
کانوڑاترا کا آخری دن بھی پرتشدد تھا!
سال میں شراون کے مہینے میں شیوبھکت دو ر دراز سے گنگا کنارے پہنچ کر اپنے مٹی کے گھڑوں کو گنگا جل سے بھرتے اور واپس اپنے ٹھکانوں پر پہنچ کر شیو مندروں میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ جو یاترا نکلتی ہے اس میں لاکھوں کی تعداد میں شیوبھکت شامل ہوتے ہیں، انہیں کانوڑ یا کہاجاتا ہے اور اس یاترا کو ، جو بلاشبہ دھارمک ہی ہوتی ہے، کانوڑیاترا کے نام سے جاناجاتا ہے، لیکن جس طرح ہرسال اس یاترا کے دوران ہنگامے، لڑائی جھگڑے اور تشدد کے واقعات ہوتے ہیں، جن میں ہرسال اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے، اسے دیکھ کر ہر باشعور شخص یہ سوچنے کےلیے مجبور ہوجاتا ہے کہ شیوبھکتوں کی یہ یاترا واقعی دھارمک یاترا ہے یا آتنک یاترا، اور یہ شیوبھکت واقعی دھرم پریمی ہیں یا آتنک پریمی؟
کانوڑیوں نے امسال جس طرح سے عام شہریوں کو ہراساں کیا اور جس طرح سے انہیں خوف ودہشت میں مبتلا کیا، اس سے قبل کبھی نہیں کیا تھا، اس بار کانوڑیاترا کے دوران تشدد کے واقعات میں بھی حیرت انگیز طور پر ا ضافہ ہوا ہے۔ یاترا کے آخری دن اترپردیش کے بلند شہر میں کانوڑیوں نے پولس کی جیپ پر حملہ کیا اور پولس والوں کی بری طرح سے پٹائی کی۔ پولس والے اگر بھاگ نہ نکلتے تو ان کی جانیں نہ بچ پاتیں۔ یہ سارا ہنگامہ کانوڑیوں کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کے سبب ہوا۔ یعنی یہ شیوبھکت آپس میں بھی لڑتے رہتے ہیںا ور یہ لڑنا بھڑنا کبھی کبھار انتہائی پرتشدد ہوجاتا ہے۔ کانوڑیاترا میں شامل ہونے والے شیوبھکت ’بھولے‘ کہلاتے ہیں او ر’بم بم بھولے‘ اور ’ہرہرمہادیو‘ کے نعرے لگاتے ہوئے چلتے ہیں۔ یہ اپنے کندھوں پر بانسوں یا لاٹھیوں میں مٹکیاں لٹکائے ہوتے ہیں جن میں گنگا جل ہوتا ہے۔ یہ عموماً گروپ بناکر نکلتے ہیں، ان کی بڑی تعداد راجستھان، ہریانہ، دہلی، یوپی، بہار ، جھاڑکھنڈ اور مغربی بنگال سے آتی ہے۔ بھجن کیرتن بھی ان کی یاترا کا جز ہیں۔ یہ عام طور پر ہر یدوار میں گنگا کے سا حل پر جمع ہوکر جل بھرتے اور شیوراتری سے پہلے اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچنے کےلیے نکلتے ہیں۔
حیرت انگیز ہے اور افسوسناک بھی کہ ایک دھارمک یاترا میں حصہ لینے والے یہ کانوڑیا اپنی راہ میں انتہائی اشتعال انگیز حرکتیں کرتے او رلوگوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ ابھی ایک ہفتہ قبل دہلی میں ان کانوڑیوں نے ایک کار کو ، جو ذرا سی کسی کانوڑیےسے مس ہوئی تھی شدید غصے میں آکر پلٹ دیا تھا۔ ایک خاتون یہ کار ڈرائیوکررہی تھیں، وہ خوف سے بے ہوش ہوتے ہوتے بچیں۔ پولس نے بھی سارا الزام ان پر ہی ڈال دیا ۔ پولس نے کانوڑیوں کی انتہا پسندی دیکھی، تشدد دیکھا مگر خاموش رہی۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ یہ ’بم بم بھولے‘ بولنے والے تو ’بھولے‘ ہی ہوتے ہیں! یوپی کے اعلیٰ ترین پولس افسر نے تو ہیلی کاپٹڑ سے ان کانوڑیوں پر پھول برسائے۔ شاید یہ انتہا پسندی کا انعام تھا۔ یوگی کی سرکار نےان کانوڑیوںکی یاترا کو دلچسپ اور پرتفریح بنانے کےلیے ’ڈی جے‘ تک کے انتظام کیے تھے! یہ ’ڈی جے‘ بھی خالص سیاسی تھے ان سے جو گانے نکل رہے تھے ان کے بول تھے ’’ڈی جے بجوائے دئیے یوگی نے، بھولے نچوادئیے یوگی نے‘‘۔ یا ’’اکھلیش نے حکم سنایا تھا، ڈی جے پر بین لگایا تھا، ۲۰۱۷ کے چنائو میں بھولے نے اسے ہرایا تھا‘‘۔ مسلمانوں نے حالانکہ کانوڑیوں کی دلجوئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جمعیۃ علماء سمیت متعدد مسلم تنظیموں اور جماعتوں نے کانوڑیوں کو پانی پلانے اور ناشتہ کرانے تک کا انتظام کیا تھا۔۔۔اور یہ اچھا بھی کیا۔۔۔مگر کانوڑیئے ’مسلم دشمنی‘ کے کسی بھی مظاہرہ سے چوکے نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بریلی میں ۷۰ مسلم گھرانے صرف کانوڑیوں کی دہشت سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ یوگی کی پولس نے بھی متعصبانہ کردار اداکیا، لوگوںکو بلکہ ’مشتبہ لوگوں کو‘ لال کارڈ تقسیم کیے کہ خبردار جو کانوڑیوں کو کچھ کہا، انہیں کسی کام سے روکا، تم پر ہماری نظر ہے، اگر کوئی حرکت کی تو سلاخوں کے پیچھے جائوگے۔ کیا شیوبھکتی اسی کا نام ہے؟اس حرکت کو دھریم پریم کہاجائے یا آتنک پریم؟ پولس اور انتظامیہ اور سرکاریں کم از کم یہ تو کریں کہ کانوڑیوں کو شرارت سےروکیں ورنہ یہ سالانہ یاترا آگے چل کر بہت بڑے ہنگامے کا سبب بن جائے گی۔
(بی این ایس)