کانوڑیوں کی دہشت! بریلی میں۷۰ مسلم خاندانوں نے گاؤں چھوڑ دیا

کانوڑیوں کی دہشت! بریلی میں۷۰  مسلم خاندانوں نے گاؤں چھوڑ دیا

بڑے پیمانے پر پولس کی تلاشی مہم سے لوگوں میںخوف و ہراس
بریلی ، ۹؍ اگست۔اتر پردیش میں بریلی ضلع کے کھیلم گاؤں کے مسلمانوں میں ان دنوں خوف کا عالم ہے ، یہاں کانوڑ یاترا کے پیش نظر پولس نے سخت تلاشی مہم چلائی ہوئی ہے۔ اتنا ہی نہیں یہاں کے سینکڑوں لوگوں کو ’لال کارڈ‘ بھی جاری کئے گئے ہیں۔ لال کارڈ اس شخص کو جاری کیا جاتا ہے جس پر یہ شک ہوتا ہے کہ وہ علاقہ کے نظم و نسق میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔ اسے کارڈ جاری کرکے یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ پولس نگرانی میں ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے مطابق خوف سےتقریباً 70 مسلم خاندان ہجرت کرنے پرمجبور ہو گئے ہیں۔گزشتہ ہفتہ 250 لوگوں کو لال کارڈ جاری کئے گئے ہیں جس میں ہندو اور مسلم دونوں طبقہ کے لوگ شامل ہیں۔ لال کارڈ جاری کرنے کے علاوہ پولس نے 441 ایسے مقامی لوگوں کی بھی نشاندہی کی ہے جو پولس کی نظر میں مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پولس نے ایسے لوگوں سے 5 لاکھ روپے کے بانڈ پر دستخط بھی کرائے ہیں۔دراصل گزشتہ سال کانوڑ یاترا کے دوران کھیلم گاؤں میں اس وقت جھگڑا شروع ہو گیا تھا جب کانوڑیوں کا ایک دستہ مسلم اکثریتی علاقہ سے گزر رہا تھا۔ اس جھگڑے میں دونوں طبقات کے درجنوں لوگ زخمی ہو نے کے ساتھ 15 پولس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے۔اس معاملہ میں جو ایف آئی آر درج ہوئی تھی اس میں 29 مسلمان اور 15 ہندوؤں کے نام شامل تھے۔اس سال بھی کانوڑ یاترا کا روٹ وہی ہےجس پر پچھلے سال جھگڑا ہوا تھا۔ چونکہ مسلم طبقہ سڑک کے دونوں جانب آباد ہے اور یہیں سے کانوڑیئے تقریباً 8 کلومیٹر کا راستہ طے کرتے ہوئے گلیریا گاؤں کے مندر پہنچتے ہیں۔ تقریباً 5000 آبادی والے اس گاؤں میں 70 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے ۔ پولس نے لگاتار یہاں تلاشی مہم چلائی جس کے سبب یہاں کے لوگ خوفزدہ ہو گئے ۔گزشتہ روز(منگل ) کھیلم گاؤں میں سناٹے کا عالم تھا، سبھی دکانیں بند تھیں ، گھروں میں تالے لٹکے ہوئےتھے اور سڑک پر ایک دو افراد ہی نظر آ رہے تھے۔گزشتہ روز مقامی رہائشی شاہد حسین کو لال کارڈ حاصل ہوا جس پر علی گنج کے ایس ایچ او وشال پرتاپ سنگھ کے دستخط ہیں۔ شاہد کا کہنا ہے کہ ’’پچھلے سال جب جھگڑا ہوا تھا تو میں یہاں موجود نہیں تھا۔ پچھلے 15 دنوں سے پولس گھروں کی تلاشی لے رہی اور لوگوں کو ریڈ کارڈ جاری کر رہی ہے، پولس کی تلاشی سے لوگوں میں خوف پیدا ہوگیا ۔ میں نے اپنا گھر پچھلے ہفتہ ہی چھوڑ دیا تھا اور دوسرے گاؤں میں شفٹ ہوگیا تھا، اب میں کبھی کبھی اپنے گھر کو دیکھنے آ جاتا ہوں۔‘‘حسن کے ساتھ کم از کم 70 دیگر مسلم خاندانوں نے بھی گاؤں چھوڑ دیا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ اس بار بھی کانوڑ یاترا کے دوران تشدد ہو سکتا ہے۔مندر کے نزدیک رہنے والے امر سنگھ کو بھی لال کارڈ جاری کیا گیا ہے لیکن انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کہتے ہیں ’’کچھ دن پہلے مجھے پولس نے لال کارڈ دیا ہے لیکن مجھے اس کی فکر نہیں ۔ پولس اپنا کا م کر رہی ہے۔‘‘بریلی کے ایس ایس پی منی راج نے کہا کہ لال کارڈ قانونی طور پر موزوں نہیں ہے، لیکن دونوں طبقات کے لوگوں کو یہ کارڈ دے کر بانڈ پر اس لئے دستخط کرائے گئے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ ان کی نگرانی ہو رہی ہے۔ گاؤں سے مسلمانوں کی ہجرت کے سلسلے میں جب ان سے سوال کیا گیا تو وہ بولے کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ مسلم خاندان گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے وہ کسی کام کے سلسلے میں گاؤں چھوڑ کر گئے ہوں۔بریلی کے ضلع مجسٹریٹ نے لوگوں کو بھروسہ دلایا ہے کہ اگروہ کسی طرح کے فساد میں ملوث نہیں ہوں گے تو انہیں فرضی طریقہ سے پھنسایا نہیں جائے گا۔