جسے چاہا درپہ بلالیا…..!

جسے چاہا درپہ بلالیا…..!

مظفر احسن رحمانی

وہ دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں کھڑا اپنے آنسوؤں سے وضو کرکے رب کائنات کی دربار میں بطور شکرانہ سربسجود تھا اپنی جبین نیاز کو خم کر کے زاروقطار یہ کہتے ہوئے رورہا تھا کہ الہا ! نہ میری یہ صلاحیت تھی کہ تیرے گھر کی زیارت کے لئے سامان سفر اور زاد سفر تیار کرسکتا اور نہ ہی ایسا منہ ہے جو دکھا سکتا ہے ،میں اپنے گناہوں پر نادم اور شرمندہ ہوں اور تیری رحمانیت اور اور ستاریت پر نازاں اور فرحاں ہوں تو کتنا کریم ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے دلدل میں پڑے اور پھنسے بندے کو ایسی جگہ کی زیارت کروا رہا ہے جس کے بارے میں انسانیت سے خطاب کرتے ہوئے تونے خود کہا کہ “اس گھر کے رب کی عبادت کرو جو بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے اور خوف کے وقت امن عطا کرتا ہے”
آج محمود انہی باتوں میں کھویا تھا کہ اچانک عائشہ کی اس بول پر چوک اٹھا کہ اٹھئے تو دیکھئے آج کتنے لوگوں کی بھیڑ آپ سے ملاقات کے منتظر ہے ،محمود جو ابھی ابھی مسجد سے واپس آکر خیالوں میں گم اپنی پچھلی زندگی کو ٹٹول رہا تھا خیالات سے باہر نکلا اور دالان میں بیٹھے لوگوں سے ملاقات کی غرض سے سامنے لگی کرسی پر بیٹھ گیا ،
پڑوس سے آئے سہراب بھائی نے طنز کرتے ہوئے کہا واہ ،اللہ بھی کتنا مہربان ہے کہ ایک ایسے آدمی کو بھی اپنے دربار بلاتا ہے جو نان شبینہ کو بھی محتاج ہے ، اس طنزیہ جملے سے محمود چھینپ گیا لیکن وہاں پر موجود ایک شخص نے کہا کہ سہراب بھائی یہ مقدر کی بات ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے دربار بلاکر اپنا محبوب بناتا ہے اور بہت سے ایسے لوگ بھی ہمارے سماج میں موجود ہے جنہیں ہر طرح کی فراوانی حاصل ہے اس پر حج فرض ہے لیکن وہ اس عالی دربار تک نہیں پہونچ پاتا ہے
اسلئے تو کسی شاعر نے کہا تھا
نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنالیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
محمود کی روانگی کے موقعہ پر گاؤں کے لوگوں نے ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا اس تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے محمود نے جوکچھ کہا آپ بھی سنئے
بھائیو!آج کا دن ہمارے لئے بہت ہی خوشی اور اظہار محبت کا ہے ،ہم نے ہمیشہ مبارک سفر پر جاتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر اپنے آنسو اس احساس کے ساتھ بہائے تھے کہ شاید ہم جیسے بھوکے لوگوں کو اس دیار محبت کے دیدار کا موقعہ کبھی میسر نہیں آئیگا، سوچتا تھا کہ ایک شخص جسے رات کی روٹی کے لئے دن بھر کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر نمک جٹ پاتا ہے وہ کیسے شہر محبت کا بوسہ لے پائیگا، میری کہانی کا ایک پہلو نہایت ہی دلچسپ اور سبق آموز ہے ،میری عمر جب آٹھ سال کی تھی تو اسی وقت مجھے میرے والد چھوٹے تین بھائیوں اور ایک بہن دے کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے میری ماں بیوگی کی زندگی گزارنے لگی کچھ ایسا سرمایہ ہمارے پاس نہیں تھا کہ اس کے سہارے وقت گذارے جاتے ،اس موقع سے ہم نے اپنا حوصلہ نہیں کھویا ،کچھ کمانے کی کوشش چونکہ مجھے ہی کرنی تھی اس لئے جاری تعلیم کو الوداع کہہ کر روزی روٹی کی تلاش میں لگ گیا چھوٹی عمر نوکری کون دیتا اس لئے اینٹ کی چمنی میں کام کرنے لگا روز اتنے پیسے ہوجاتے کہ ہم سب رات کو کھلاکر سوجاتے بھائی جب پڑھنے کے لائق ہوئے تو ہم نے ان بھائیوں کو خود جتن سے پڑھایا اس کی فیس ادا کرنے کے لئے ہم نے دن رات ایک کرکے پوری لگن کے ساتھ کمایا یہاں تک کے ہم نے ان بھائیوں کی فیس کی ادائیگی کے لئے اپنے خون بھی بیچے جس کا علم میری ماں کے علاوہ کسی کو نہیں ہے یہ آج میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ شاید اسی شہر محبت میں میری زندگی کا چراغ نہ گل ہوجائے ، حالات بدلتے رہے ،بھائیوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کاروبار شروع کیا اس کے دن بدلے سب نے شادی بیاہ کئے اور اپنے بچوں وہاں زندگی گذاری انہیں اس بات کا خیال بھی نہیں رہا کہ میرا کوئی بڑا بھائی ہے جس نے اپنی زندگی کا سودا کرکے ہماری زندگی بنانے کی کوشش کی اب وہ کہتے ہیں کہ سب اپنی اپنی زندگی جیو میں نے ان سے اپنی بات نہیں کہی ،
ایک روز میرے پاس دوسرے نمبر کے بھائی کا فون آیا انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہم بھائی چاہتے ہیں کہ والدہ کو اس سال حج پر بھیجیں چونکہ ہم سب لوگ مشغول ہیں اور آپ کو کوئی کام نہیں ہے اس لئے طے ہوا ہیکہ والدہ کے ساتھ آپ ہی حج پر جائیں اور چونکہ مستقل آپ والدہ کے ساتھ رہے ہیں اس لئے وہ آپ سے مانوس بھی ہیں ، اگر آپ تیار ہوجائیں تو ہم لوگ حج کی کاروائی کے لئے کوشش کریں ،ہم نے فورا کہا ہاں میں اس کے لئے تیار ہوں ؛
آج اللہ ہمیں اپنی ماں کے ساتھ حج پر بھیج رہا ہے یہ اس رب کی جانب سے انعام ہے جس نے ہمیں اپنے بھائیوں کی پرورش اور تربیت کے نتیجے میں عطا کیا ہے
ان باتوں کے بعد محمود تو حج پر چلے گئے لیکن اس کے ساتھ ہی ڈھیر سارا پیغام دنیائے انسانیت کو دے گئے کہ ہر بڑا اپنے چھوٹوں کی پرورش اور تربیت میں اپنی آبرو کی بھی پرواہ نہیں کرتا لیکن ہر چھوٹا اپنے بڑے کی قربانیوں کو فراموش کرکے اس کے آبرو کو نیلام کردیتا ہے ،
دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان وہ ہے جس کے کاموں سے خوش ہوکر اس کا رب اسے اپنے گھر بلا لے اور یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ قربانی کے بعد ہی انسان قدرو منزلت کی منزل تک پہونچ پاتا ہے
خدا کرے ہم سب کو اس گھر کی زیارت نصیب ہو

ایڈیٹر بصیرت آن لائن
۹/اگست ۲۰۱۸
بروز جمعرات
۷۹۹۱۱۳۵۳۸۹
Muzaffarrahmani786@gmail