تحریک آزادی اور مسلم خواتین

تحریک آزادی اور مسلم خواتین

ایک نام آبادی بانو بیگم… اماں بی

نگینہ ناز منصور ساکھر کر

تحریک آزادی میں مردوں کیساتھ ساتھ عورتوں نے بھی وطن کے لیے اپنی محبت دیکھائیں اور اپنے بچے دھن دولت زیور سب داؤ پر لگا دیے انہی میں سے ایک تھی آبادی بانو بیگم……

آبادی بانو بیگم سب سے پہلی مسلم خاتون تھیں جنہوں نے برقع پہن کر تحریک آزادی میں حصہ لیا.. 1850 میں اترپردیش کے ایک باوقار خاندان میں پیدا ہوئیں سلجھی ہوئی گھرانے سے تعلق رکھنے والی آبادی بانو بیگم کے دل میں اپنے ملک کی آزادی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ایک تو عورت اس پر مسلمان۔۔۔۔۔ برقع عورت کا زیور ہے مگر دل میں پڑے آزادی کے جذبے کو دبنے نہیں دیا اور برقع پہن کر ہی نکل پڑی تحریک آزادی میں حصہ لینے اپنے دل کی آواز لوگوں تک پہنچائیں برطانوی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والی یہ پہلی مسلم خاتون تھیں پھر یہ آواز ایک جانی-مانی آواز بن گئی اور تحریک آزادی کی اس آواز نے عورتوں اور مردوں کے دلوں میں حب الوطنی کا ایک نیا جوش بھر دیا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے چلتے1857 کی بغاوت میں ان کے خاندان کو بہت کچھ سہنا پڑا۔۔۔۔۔ مگر پھر بھی یہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹیں ڈٹی رہی اپنے ملک کی آزادی کے لئے لڑتی رہیں۔۔۔۔ اسی بیچ آنکا نکاح عبدل علی ‏خان سے ہوا جو رامپور راج میں سینیئر اہلکار تھے بیٹی اور پانچ بیٹوں کی ماں بنی دو بیٹے مولانا شوکت علی اور مولانامحمد علی جوہر جو علی بردرس کے نام سے مشہور ہیں

 

آبادی بانو بیگم کو لوگ پیار سے اماں بھی بلاتے تھے اور پھر وہ اسی نام سے جانی جانے لگیں وہ ایک اعلی معیاری سوچ کی مالک تھیں حلانکہ ان کی کوئی رسمی تعلیم نہیں ہوئی مگر پھر بھی وہ جدید تعلیم پر بھروسہ کر تی تھی۔۔۔۔۔ بہت ہی کم عمری میں وہ بیوہ ہوئیں مگر پھر بھی آزادی کا جنون قائم رہا۔۔۔، گھر گرستی اور بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ملک کی آزادی کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی رہتی ۔۔۔۔ بچوں کی اعلی تعلیم کے لیے اپنے زیور اور جائیداد تک بیج دیے تاکہ ان کی اولاد بھی اپنے ملک کی ترقی اور آزادی کا حصہ بنے اور اسی کے چلتے انہوں نے بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں آزادی کے لیے لڑنے کا جذبہ بنائے رکھا اور ان کی یہی سوچ نے ان کے بچوں کے دلوں میں قوم پرستی اور محبت کرنے کے ساتھ اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔۔۔ انہوں نے اپنے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم دلوائی ۔۔۔مولانا محمد علی آل انڈیا مسلم لیگ کے ممبر تھے اور آنتھک انگلش اور اردو کے لکھاری۔۔۔۔۔ محمد علی اور ان کے بھائی شوکت علی خلافت مومنٹ کے اہم شخصیات تھے کی آزادی میں حصہ لینے کی وجہ سے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا بیٹوں کی جیل جانے کے بعد انہوں نے پورے دیش کا دورہ کیا اور حق آزادی کی تحریک کے لئے کھلے عام اجتماع کیے پر کبھی پردہ نہیں چھوڑا وہ پردے کا بڑا اہتمام کرتے اور انہیں اسی بات پر فخر بھی تھا انہوں نے برقع میں رہ کر ہی لوگوں کو بیٹوں کی گرفتاری کی اطلاع دی1917میں تحریک آزادی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ رہا آزادی کے لئے اپنا تن من دھن اوراولاد وقف کردی خلافت موومنٹ کے بعد 13 نومبر 1924 میں وفات کر گئیں مگر ان کے کہے گئے الفاظ لوگوں کے دلوں میں نقش کر گئے عورتوں اور مردوں نے آزادی کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کچھ کے نام تاریخ میں نقش ہیں توکچھ تاریک بن گئے مگر انہی کی قربانیوں نے آج ہمیں آزاد ہندوستان کا باسی بنایا ہے……

(بصیرت فیچرس)