جنگ آزادی میں علماء کرام کا کردار!

جنگ آزادی میں علماء کرام کا کردار!

مولانا فضل رب قاسمی بلرامپوری
یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ھے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں علماء کرام کی بڑی اہمیت رہی ھے ھندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ علماء کرام کی قربانیوں کے ذکر کے بغیر پوری نھیں ھو سکتی، اسلامی حکومتوں میں وہ بڑے بڑے عہدوں پر فا ئز رہے ہیں ھندوستان میں جب انگریزوں نے اپنے ہاتھ پاؤں پھیلانے شروع کئے اور با الآخر مغلیہ حکومت کا خاتمہ ھوا اور پورے ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ھو گیااور ھندوستا نیوں پر ظلم و بر بریت کا دور شروع ہوا تو سب سے پہلے وہ علماء کرام ہی تھے جنھوں نے انگریزی اقتدار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور علم بغاوت اٹھا یااور بلا تفریق مذہب و ملت سارے ہندوستا نیوں کو انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کے میدان میں لا کھڑا کیا علماء کرام کیلئے انگریزی اقتدار کی مخالفت انکا سیاسی وسماجی فریضہ ہی نھیں بلکہ ایک دینی ومذہبی فریضہ بھی تھا کیونکہ وہ ارشاد نبوی کے بموجب وطن کی محبت کو دین و ایمان کا حصہ سمجھتے تھےاسی وجہ سے علماء کرام پورے ہندوستان میں سرگرم اور بر سر پیکار تھےوہ علماء کرام ہی تھے جنھوں نے حب الو طنی اور غیرت قومی میں جزبئہ ایمانی پیدا کرکے ھندوستا نیوں کے دلوں میں انگریز دشمنی اور تحریک آزادی کی روح پھونک دی جسکے نتیجے میں ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمان کاندھے سے کاندھا ملاکر اٹھ کھڑے ھو ئےاور مادر وطن کی آزادی کیلئے اپنے خون کو پانی کیطرح بہا دیا ۱۸۰۳ء میں دہلی میں لاڑدلیک کی قیادت میں انگریزی فوج کی آمد سے لیکر۱۹۴۷ میں ہندوستان کی آزادی تک کے طویل عرصے میں ملک کے طول و عرض میں ہندوستا نی علماء جنگ آزادی کی قیادت کرتے رہےاور دوسرے ھندوستانی علماء کی قیادت میں سرگرم رھے علماء کے سامنے صرف وطن کی محبت باشندگان وطن اور ہل وطن کی ہمدردی ھندوستانیوں کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانا انکا نصب العین تھا ھاں اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنے اس دین و مذہب کی حفاظت بھی ضروری سمجھتے تھے جس نے انکے پاک نفوس میں جنگ آزادی کا جزبہ پیدا کیا تھا چنانچہ حجتہ الاسلام بانی دارالعلوم مولا نا محمد قاسم نانوتوی کو شاملی کے جنگ میں فوج کا سپہ سالار بنا گیا شاملی اس علاقہ کا مرکزی مقام تھا اور تحصیل بھی تھی اور کچھ انگریز فوجی بھی رھتے تھے طے ھوا کہ شاملی کیطرف کوچ کرکے انگریزوں پر حملہ کیا جائے چنانچہ انگریزوں سے سخت مقابلہ ھوا اور با الآخر مجاھدین کو فتح حاصل ھوئی اسی لڑائی میں مجاھد آزادی حافظ ضامن شھید ھو ئےاس ملک کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کیلئے سینکڑوں علماء نے اپنی جان کا نزرانہ پیش کیا ۱۸۵۷ء میں اسقدر علماء شہید ہوئے جنکا شمار ناممکن ھے مگر بڑے افسوس کیساتھ یہ لکھنا پڑ رھا ھے کہ جس ملک کو آزاد کرانے کیلئے علماء کرام نے اتنی محنت اور جانفشانی کرکے ہندو اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا تھا نفرت وعداوت کی دیوار کو منھدم کردیا تھا آج اسی ملک کے اندر انکے اتحاد اور بھا ئی چارہ کو ختم کرکے نفرت کی دیوار کھڑا کردیا اور یہ محض سیاسی فائدے اور اقتدار کی خاطر کیا جا رہا ہے اگر آپ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم سب ملکر بھائی چارہ قائم کریں اور ملک کی ترقی میں تعاون کریں کیونکہ یوم آزادی ہرسال ہمیں یہی تعلیم دیتا ھے (ازقلم مولانا فضل رب قاسمی بلرامپور یو پی مدرس شعبئہ عربی مدرسہ مدینت العلوم پکھرایاں ضلع کا نپور دیہات یو پی انڈیا)