’تیری بزم میں ہر سو لہو ٹپکے ہے ‘

’تیری بزم میں ہر سو لہو ٹپکے ہے ‘

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
میں یادوں کی آنگن میں بے سود تیز ٹاپوں کے ساتھ چھلانگیں مارتا رہا …دوڑتا بھاگتا دن کا اجالا گہری اندھیری راتوں کی دامن میں جا چھپتا میں نے اس سے بارہا پوچھا کیا کسک ہے …کیسا درد ہے …کس کا ڈرہے …وہ انجانا کس خوف نے تیری آنکھوں کی لال ڈور کو چھین لیا ہے …ٹھیک سے ابھی نکلتا بھی نہیں ہے کہ جا دبکتا ہے …کس خون خار پنجے نے تجھے لہو لہو کر رکھا ہے …تیرے اجالے کی رنگت پر کس نے قبضہ جما رکھا ہے …چمکتی مسکراہٹ کیوں پھیکی پڑگئی …رسیلے ہونٹوں کی سرخی کو کس نے آخر چرالیا …دمکتے چہروں کی رونق کہاں گم گئی …سیاہ گھنگریالے بالوں کی ڈور اب سفید ہوتے جارہے ہیں … گھر کے آنگن میں …دروازے کی دہلیز پر …کمروں کے جھانکتے روشن دان پر …تیری آہٹ ابھی ٹھیک سے سنائی بھی نہیں دیتی کہ تو رفو چکر ہوجاتا ہے ۔ یہ دسمبر کا آخری دن ہے ،جس سے میں سر گوشیوں میں بات کرتا رہا ۔اس نے جو مجھ سے کچھ باتیں رازدارانہ کی اس کے سننے کو حوصلہ چاہئے ،بھیک میں مانگی قیمتی زندگی کا جگر چاہئے ۔ آنسؤوں کو خشک کرنے کے لئے ریشمی رومال چاہئے ،کانپتے دل کو تسلی دینے کے لئے ہنر چاہئے ،روتی آنکھوں کو خود میں سمانے کے لئے بہتے دریا کی روانی چاہئے، لرزتے قدموں کو آسرا دینے کے لئے مضبوط سہارا چاہئے ،اس نے کہا اب تیرے ملک میں پائی جانے والی عدم رواداری سے میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا ۔ وہ دن بھی کیا تھے جب اس ملک میں ہرایک ایک دوسرے کو اپنا بھائی تصور کرتا،کیا ہندو ،کیا مسلم ،کیا سکھ ،عیسائی …ہر ایک ایک دوسرے کے تھے آپس میں بھائی بھائی،گنگا جمنی تہذیب کا یہ ملک آپسی رواداری کے لئے گویا ضرب المثل تھا ۔ ملک میں رہنے والوں کو اگر کوئی تکلیف پہونچتی تو ہر ایک اس درد کو محسوس کرتا ،اس وقت نہ تو کوئی برادری ہوتی تھی اور نہ ہی ذات پات،مندر میں جہاں ایک طرف گھنٹی بجتی وہیں دوسری جانب اللہ اکبر کی صدائیں ہوتی سنائی دیتی ،گرجا گھروں سے بائبل کے پڑھنے کی آواز آتی تو دوسری جانب سے مسجد کے منبرو محراب سے قرآن کی تلاوت سنائی دیتی ۔
اس نے مجھ سے اورقریب آنے کو کہتے ہوئے کہا ،یاد ہے وہ شام جب میں نے رات کی کالی چادر اوڑھ رکھا تھا ،ستاروں کی جھرمٹ سے آنکھ مچولی کھیلنے میں مشغول تھا ،چاند کی چاندنی نے مجھے جلد اپنے وطن لوٹنے کو کہ کر واپس لوٹ چکی تھی کہ اچانک مندر کے لائوڈ اسپیکر سے پنڈت کی ایسی آواز آئی جو زہر میں بجھی ہوئی تھی،جس آواز سے عدم رواداری کی تعفن محسوس کی جارہی تھی ،بھائی چارگی بیچارگی کے احساس سے کانپ رہا تھا ،اس آواز نے غنڈوں کی پوری ٹولی تیار کر دی اورسب ایک ساتھ اکیلے گھر کی جانب دوڑپڑے جہاں عنفوان شباب کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ایک بیٹی ،عمر کے چند بہاروں کو دیکھ چکے ایک نوجوان بیٹا بوڑھی ماں ادھیڑ عمر کی بیوی اور مرحوم اخلاق کے علاوہ کوئی فرد بشر نہیں تھا،ہاتھوں میں دھار دار ہتھیار اور خون میں ڈوبی آنکھوں کو دیکھ کر اخلاق کے ہوش اڑگئے ،اس نے ہرروز ساتھ رہنے والے دوستوں سے پوچھا کہ جنونیوں تجھے کیا ہوا ؟ …تم میرے جان کے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہو ۔ کل کی تو بات ہے کہ ہم سب بدھن کی دوکان پر بیٹھ کر چائے پیا کرتے تھے …مرلی بنیا کی دوکان سے ساتھ ہی سودا سلف خریدا تھا …شہر جاکر تمہاری بیٹی کے جہیز کاسامان خرید اتھا …جگو چچا کی ارتھی کو کاندھا دیا تھا…سلیمان دادا کے جنازے پر جہاں ہم نماز میں مشغول تھے …تم بھی تو ہاتھ باندھے ایک طرف کھڑے تھے …اس نے وشنو کے گریبان پکڑکر کئی بار جھنجھوڑا لیکن سب ایک زبان یہی بول رہے تھے کہ تم نے گائے کا گوشت کیوں کھایا …کہاں چھپاکر رکھا ہے اب اخلاق کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ لوگ مجھ سے یہ پوچھنے آئے ہیں کہ اس نے میری مرضی کے مطابق کیوں نہیں کھایا ۔ اخلاق نے کہا کہ تم نے غلط سمجھا ہم نے بیف نہیں کھائے ہیں ۔ آج بھی گوشت کے چند ٹکڑے فریج میں پڑے ہیں ۔ لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ وہ بھیڑئیے بے دردی سے ٹوٹ پڑے …اخلاق کہتا رہا کہ بچپن میں بنائی کاغذ کی کشتی اب ڈوب جائے گی ۔ کھلیان کے منڈیرپر بنائے مٹی کا تاج محل اپنی رعنائی کھو بیٹھے گا…جو ہم نے اور جنگو نے آپسی رواداری کی بقا کے لئے بنائے تھے ۔ لیکن ہرطرف سے لاٹھی ،گھونسوں اور دھار دار ہتھیار کی آواز میں رس بھری محبت کی باتیں دب کر رہ گئیں اور ’دادری کا اخلاق‘ ہمیشہ کے لئے شہید ہوکر تاریخ کا حصہ بن گیا اور ہندوستان جیسے جمہوری ملک کا سیاہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے کھل کر آگیا ۔مشرقی ومغربی ممالک میں اس ظلم کی آہٹ محسوس کی گئی ۔ سیاست کے ایوان میں زلزلہ بپا ہوگیا ،جس نے سنا اس نے اپنی زبان میں اس کے خلاف آوازیں بلند کیا ،زخم پر مرہم رکھے گئے ،لیکن اس میں بعض فکریں ایسی بھی تھی ،جس نے ایسے ’جملے ‘کہے کہ ملک کا سیکولر دیوار ہل کر رہ گیا اور تو اور ملک کے وزیر اعظم نے تو چپی سادھ لی۔ ایسا لگا کہ ایسا خون روز ہی ان کے خیالات کی مندر میں ہوتا رہتا ہے ۔ اسے نہ تو اس کی پرواہ ہوئی اور نہ ہمدردی کے دو بول بولے گئے ۔ جب انہوں نے چوطرفہ مذمت کو دیکھا تو ضمیر کی آواز پر کچھ لب کشائی کی۔اُف کیسا جگر ہے اس ملک کے وزیر اعظم کا ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ بہارکے سیکولر فکر رکھنے والے نفوس نے اسمبلی الیکشن میں اس کی پارٹی کو حاشیہ پر لاکھڑا کیا اورامن پسندعوام نے مذہبی شدت پسندوں اور نفرت کے سوداگروں کے خواب کو چکنا چور کردیا اور اشوک ،بدھ ،یحیٰ منیری کی دھرتی کے لوگوں نے ایک مخصوص فکر کے مقاصد کو سبوتاژکرتے ہوئے سیکولرزم کے پرچم کوبلند کردیا ۔ اس نے مجھ سے کہا میں دسمبر 2015 کا ڈھلتا ہوا آخری دن ہوں ,میرے دامن میں لگا دادری کا زخم کبھی نہیں دھل پائے گا خدا کرے 2016 سب کی زندگی میں خوشیوں کے پھول لائے ۔ نہ اس سال کوئی نربھیہ کمہلائے نہ ہی اخلاق مرجھائے۔
(مضمون نگار جالے جامع مسجدکے امام وخطیب اور بہار پیام انسانیت کے جنرل سکریٹری ہیں، رابطہ: رابطہ نمبر 09431402672)
(بصیرت فیچرس)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *